مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38414 ترقیم الشثری: -- 40042
٤٠٠٤٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن إسماعيل عن قيس (عن) (١) جرير قال: قال ذو عمرو: يا جرير! إن بك علي كرامة وإني مخبرك خبرا: (إنكم) (٢) معشر العرب لن تزالوا بخير ما كنتم إذا هلك امير تامرتم في آخر، فإذا كانت بالسيف غضبتم غضب الملوك ورضيتم رضا الملوك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ص، ط، ع، هـ]: (ابن).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) صحيح؛ وأخرجه من طريق المؤلف: البخاري (٤٣٥٩)، وأحمد وابنه (١٩٢٢٤).
حضرت جریر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت ذو عمرو نے فرمایا اے جریر آپ کو مجھ پر شرافت حاصل ہے اور میں آپ کو ایک خبر دینے والا ہوں تم اے عرب کی جماعت! مسلسل تم خیر پر رہو گے جب تک تم ایسے رہو گے کہ جب ایک امیر فوت ہوگا تو دوسرے کو امیر بنا لو گے جب یہ امارت تلوار کے ذریعے سے حاصل ہوگی تو تم غصہ کرو گے بادشاہوں کے غصہ کی طرح اور تم راضی ہو گے بادشاہوں کے راضی ہونے کی طرح۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40042، ترقيم محمد عوامة 38414)
ترقیم عوامۃ: 38415 ترقیم الشثری: -- 40043
٤٠٠٤٣ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حسن بن فرات عن ابيه عن ابي (حازم) (١) عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إن بني اسرائيل كانت تسوسهم انبياؤهم، كلما ذهب نبي خلفه نبي، وإنه ليس كائنا فيكم نبي بعدي"، قالوا: فما يكون يا رسول الله؟ قال:"يكون خلفاء وتكثر"، قالوا: فكيف نصنع؟ قال:"اوفوا ببيعة الاول فالاول، ادوا الذي عليكم فسيسالهم الله عن الذي عليهم" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (خازم).
(٢) حسن؛ الحسن بن فرات صدوق، وأخرجه البخاري (٣٤٥٥)، ومسلم (١٨٤٢).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیائ۔ کرتے تھے جب بھی کوئی نبی دنیا سے چلے جاتے دوسرے نبی ان کے نائب ہوجاتے اور بلا شبہ میرے بعد تمہارے اندر کوئی نبی نہیں ہوگا صحابہ کرام نے عرض کیا کیا ہوگا اللہ کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا: خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے صحابہ کرام نے عرض کیا ہم کیسے معاملے کریں آپ نے فرمایا: ایک کے بعد دوسرے کی بیعت کو پورا کرو اور جو تم پر لازم ہو اس کو ادا کرنا اور جو ان پر لازم ہے وہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40043، ترقيم محمد عوامة 38415)
ترقیم عوامۃ: 38416 ترقیم الشثری: -- 40044
٤٠٠٤٤ - حدثنا ابو الاحوص (عن سماك) (١) عن علقمة بن وائل قال: قام سلمة الجعفي إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله ارايت إن كان علينا من بعدك قوم ياخذوننا بالحق ويمنعون حق الله، قال: فلم يجبه (النبي ﵊ (٢) بشيء، قال: ثم قام الثانية فلم يجبه النبي ﷺ بشيء، ثم قام الثالثة، فقال رسول الله ﷺ:" (عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم) (٣) فاسمعوا لهم واطيعوا" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س].
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [ع]: (إنما عليكم ما حملتم وعليهم ما حملوا).
(٤) مرسل؛ علقمة تابعي، أخرجه الطيالسي (١٠١٩)، وأبو يعلى كما في المطالب (٢١٤٥)، والبخاري في التاريخ ١/ ٤٢، وورد من حديث علقمة عن أبيه، أخرجه مسلم (١٨٤٦) كما سيأتي.
حضرت علقمہ بن وائل سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت سلمہ جعفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتلائںِ کہ اگر آپ کے بعد ہم پر ایسے لوگ ہوں جو ہم سے حق لے لیں اور اللہ کا حق روکتے ہوں آپ نے ان کا کچھ بھی جواب نہ دیا راوی فرماتے ہیں پھر دوسری مرتبہ کھڑے ہوئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہ دیا پھر تیسری مرتبہ کھڑے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان پر وہ لازم ہے جو وہ بوجھ لادے گئے اور تم پر لازم ہے جو تم بوجھ لادے گئے ہو پس ان کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40044]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40044، ترقيم محمد عوامة 38416)
ترقیم عوامۃ: 38417 ترقیم الشثری: -- 40045
٤٠٠٤٥ - حدثنا شبابة عن شعبة عن سماك عن علقمة بن وائل (عن ابيه) (١) عن النبي ﷺ بمثله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (١٨٤٦).
حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے اسی (مذکورہ روایت) کی مثل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40045]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40045، ترقيم محمد عوامة 38417)
ترقیم عوامۃ: 38418 ترقیم الشثری: -- 40046
٤٠٠٤٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الله بن عثمان عن نافع بن (سرجس) (١) عن ابي هريرة قال: اظلتكم الفتن كقطع الليل المظلم، انجى الناس فيها صاحب شاهقة؛ ياكل من رسل غنمه، او رجل من وراء الدرب آخذ بعنان فرسه، ياكل من (فيء) (٢) سيفه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سرخس).
(٢) في [هـ]: (في).
(٣) حسن؛ نافع صدوق، أخرجه البزار كما في الأحكام الشرعية الكبرى ٤/ ٥٠٥، وعبد الرزاق (٢٠٧٣١)، والحاكم ٤/ ٤٣٢.
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تمہارے قریب ہوں گے فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان فتنوں میں لوگوں میں سب سے زیادہ نجات پانے والا پہاڑ کی چوٹی پر رہنے والا وہ شخص ہے جو اپنی بکریوں کے ریوڑ سے غذا حاصل کرتا ہے یا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اپنی تلوار کی غنیمت سے کھا تا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40046]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40046، ترقيم محمد عوامة 38418)
ترقیم عوامۃ: 38419 ترقیم الشثری: -- 40047
٤٠٠٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن سليمان عن ابي صالح قال: قال لي ابو هريرة: إن استطعت ان تموت فمت، قال: قلت: لا استطيع ان اموت قبل ان يجيء اجلي (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف أبي صالح باذام.
حضرت ابو صالح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا مجھ سے حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا اگر تم سے ہوسکتا ہے کہ تجھے موت آجائے تو مرجانا ابو صالح نے فرمایا میں نے عرض کیا میں مرنے کی طاقت نہیں رکھتا اپنی مقرر مدت آنے سے پہلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40047]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40047، ترقيم محمد عوامة 38419)
ترقیم عوامۃ: 38420 ترقیم الشثری: -- 40048
٤٠٠٤٨ - حدثنا ابو الاحوص عن الاعمش عن زيد بن وهب عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إنه ستكون بعدي إثرة وامور تنكرونها"، قال: فقلت: يا رسول الله! ما تامر من ادرك منا ذلك؟ قال:"تعطون الحق الذي عليكم وتسالون الله الذي لكم" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٠٥٢)، ومسلم (١٨٤٣).
حضرت عبداللہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ عنقریب میرے بعد (تم پر دوسروں کو) ترجیح ہوگی اور ایسے امور ہوں گے جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو راوی نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے جو یہ صورتحال پالے اسے آپ کیا حکم دیتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جو تم پر ہے اسے تم دو اور جو تمہارے لیے ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40048]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40048، ترقيم محمد عوامة 38420)
ترقیم عوامۃ: 38421 ترقیم الشثری: -- 40049
٤٠٠٤٩ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا فضيل بن غزوان عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ في حجة الوداع:"ايها الناس! اي يوم هذا؟" قالوا: يوم حرام، قال:"فاي بلد هذا؟" قالوا: بلد حرام، قال:"فاي شهر هذا؟" قالوا: شهر حرام، قال:"فإن (اموالكم ودماءكم) (١) واعراضكم عليكم حرام ⦗٢٤٥⦘ كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا" -ثم اعادها مرارا، قال: ثم رفع راسه إلى السماء فقال:"اللهم هل بلغت؟"- مرارا، قال يقول ابن عباس: والله إنها لوصيته إلى ربه، ثم قال:"الا فليبلغ الشاهد الغائب: لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: تقديم وتأخير (دمائكم وأموالكم).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٧٣٩)، وأحمد (٢٠٣٦).
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا اے لوگو یہ کونسا دن ہے لوگوں نے عرض کیا یوم حرام (حرمت والا دن) آپ نے پوچھا یہ کونسا شہر ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا شہر آپ نے پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا مہینہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا بلا شبہ تمہارے اموال اور تمہارے خون اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں پھر اس فرمان کو کئی مرتبہ دہرایا پھر اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور ارشاد فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا یہ فرمان کئی مرتبہ دہرایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے رب سے مناجات تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: یہ پیغام حاضر غائب کو پہنچائے میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40049]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40049، ترقيم محمد عوامة 38421)
ترقیم عوامۃ: 38422 ترقیم الشثری: -- 40050
٤٠٠٥٠ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: كان محمد ابن ابي حذيفة مع كعب في سفينة فقال لكعب ذات يوم: يا كعب! اتجد هذه في التوراة كيف تجري وكيف وكيف؟ فقال له كعب: لا تسخر من التوراة، فإنها كتاب الله، (وإن ما) (١) فيها حق، قال: فعاد فقال له مثل ذلك، فعاد فقال له مثل ذلك ثم قال: (لا) (٢) ، ولكن اجد فيها ان رجلا من قريش اشط الناب، ينزو في الفتنة كما ينزو (الحمار) (٣) (في قيده) (٤) فاتق الله ولا تكن انت هو، قال محمد: فكان هو.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (إنما).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (الجماعة).
(٤) في [أ، ب]: (وفيك).
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کشتی میں حضرت کعب احبار کے ساتھ تھے حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب سے ایک دن کہا اے کعب کیا ہم اس (یعنی کشتی) کے بارے میں تورات کے اندر پاتے ہیں کہ کیسے چلتی ہے اور کیسے اور کیسے؟ ان سے کعب احبار نے فرمایا تو رات کے بارے میں مذاق نہ کرو یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں جو ہے وہ حق ہے راوی کہتے ہیں حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ دہرایا حضرت کعب نے اسی طرح ارشاد فرمایا پھر انہوں نے اس بات کو دہرایا حضرت کعب نے ان سے یہی فرمایا نہیں لیکن اس میں یہ پاتا ہوں کہ بلا شبہ قریش میں سے ایک آدمی ہوگا زائد نوکیلے دانت والا وہ فتنے میں ایسے کودے گاجی سے گدھا اپنی رسی میں کودتا ہے پس اللہ سے ڈر اور تو وہ آدمی نہ بن محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں وہ وہی تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40050]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40050، ترقيم محمد عوامة 38422)
ترقیم عوامۃ: 38423 ترقیم الشثری: -- 40051
٤٠٠٥١ - حدثنا غندر عن شعبة عن علي بن مدرك قال: سمعت عبد الله بن رواع قال: ذكرت الفتنة عند ابن مسعود، قال: ادخل بيتك، فإن دخل عليك فكن كالبعير الثفال، لا ينبعث إلا كارها، ولا يمشي إلا كارها (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن الرواع، ويحتمل أنه مجمع المذكور في فتح الباب ١/ ٣٢٥.
حضرت عبداللہ بن رواع سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کے پاس فتنے کا تذکرہ کیا گیا ارشاد فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجانا اور اگر گھر میں تجھ پر کوئی داخل ہوجائے تو سست رفتار اونٹ کی طرح ہوجانا جو اٹھتا نہیں مگر زبردستی اور نہیں چلتا مگر زبر دستی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40051]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40051، ترقيم محمد عوامة 38423)