مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38374 ترقیم الشثری: -- 40002
٤٠٠٠٢ - حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن عبيد الله بن القبطية قال: دخل الحارث بن ابي ربيعة وعبد الله بن صفوان على ام سلمة وانا معها فسالاها عن ⦗٢٣٠⦘ الجيش الذي يخسف به، وذلك في زمان ابن الزبير، فقالت: قال رسول الله ﷺ:" (يعوذ) (١) (عائذ) (٢) بالبيت فيبعث البه بعث؛ فإذا كان ببيداء من الارض يخسف بهم"، فقلنا: يا رسول الله! كيف بمن كان كارها؟ قال:"يخسف به معهم، ولكنه يبعث يوم القيامة (على نيته) (٣) "، قال ابو جعفر (٤) : هي بيداء المدينة (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تعود).
(٢) في [س]: بياض.
(٣) في [س]: بياض.
(٤) هو الباقر كما في فتح الباري ٤/ ٣٤٠، وعمدة القاري ١١/ ٢٣٦.
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٨٢)، وأحمد (٢٦٤٨٧).
حضرت عبید اللہ بن قبطیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا ان دونوں نے ان سے پوچھا اس لشکر کے بارے میں جسے دھنسا دیا گیا اور یہ واقعہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے زمانے میں پیش آیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک پناہ پکڑنے والا بیت اللہ میں پناہ پکڑے گا اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس آدمی کی کیا حالت ہوگی جس پر زبردستی کی گئی ہو ارشاد فرمایا اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت والے دن اسے اس کی نیت پر اٹھا یا جائے گا ابو جعفر راوی فرماتے ہیں یہ مدینہ کا میدان تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40002]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40002، ترقيم محمد عوامة 38374)
ترقیم عوامۃ: 38375 ترقیم الشثری: -- 40003
٤٠٠٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سليمان التيمي (١) عن الحسن عن ابي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا توجه المسلمان بسيفهما فقتل احدهما صاحبه فهما في النار"، قالوا: يا رسول الله! هذا القاتل فما بال المقتول؟ قال:"إنه اراد قتل صاحبه" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن قتادة) نقلًا عن سنن ابن ماجه.
(٢) منقطع؛ الحسن لم يسمع من أبي موسى، أخرجه أحمد (١٩٦٧٦)، والنسائي ٧/ ١٢٤، وابن ماجه (٣٩٦٤)، وعبد بن حميد (٥٤٣)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٣٦، وابن خزيمة في التوحيد ص ٣٨٥.
حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دو مسلمان ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں اپنی اپنی تلوار کے ساتھ پس ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو قتل کردے تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے، صحابہ کرام j نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تو قاتل ہے مقتول کا کیا قصور ہے آپ نے ارشاد فرمایا: بلا شبہ یہ اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40003]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40003، ترقيم محمد عوامة 38375)
ترقیم عوامۃ: 38376 ترقیم الشثری: -- 40004
٤٠٠٠٤ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا رزين الجهني قال: حدثنا (ابو الرقاد) (١) قال: خرجت مع مولاي وانا غلام، فدفعت إلى حذيفة وهو يقول: إن كان الرجل ليتكلم (بالكلمة) (٢) على عهد النبي ﷺ فيصير منافقا، وإني لاسمعها من احدكم في المقعد الواحد اربع مرات، لتامرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، ⦗٢٣١⦘ ولتحاضن على الخير او ليسحتنكم الله بعذاب جميعا، او ليؤمرن عليكم شراركم، ثم يدعو خياركم فلا يستجاب لهم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أبو الزناد).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (بالكلام).
(٣) مجهول؛ لجهالة أبي الرقاد، أخرجه أحمد (٢٣٣١٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٩، وابن عدي ٥/ ١٧٩٦، وورد شطره الثاني مرفوعًا، أخرجه الترمذي (٢١٦٩)، وأحمد (٢٣٣٠١)، والبيهقي ١٠/ ٩٣، والبغوي (٤١٥٤)، والمزي ١٥/ ٢٣٤.
حضرت ابو الرقاد سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں غلام ہونے کی حالت میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اس حال میں کہ وہ فرما رہے تھے اگر کوئی آدمی وہ کلام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کرتا تو منافق ہوجاتا اور بلاشبہ وہ کلام میں نے تم میں ہر ایک سے ایک ایک مجلس میں چار مرتبہ سنا ہے (وہ کلام یہ ہے) ضرور بالضرور تم بھلائی کا حکم کرو اور ضرور بالضرور تم برائی سے روکو اور ضرور تم بھلائی پر رہو وگرنہ اللہ تم سب کو عذاب کے ذریعے برباد کردے گا یا تمہارے شریروں کو تم پر حاکم بنا دے گا پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40004]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40004، ترقيم محمد عوامة 38376)
ترقیم عوامۃ: 38377 ترقیم الشثری: -- 40005
٤٠٠٠٥ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن إسرائيل عن سماك عن ثروان بن (ملحان) (١) قال: كنا جلوسا في المسجد فمر علينا عمار (بن) (٢) ياسر فقلنا له: حدثنا حديث رسول الله ﷺ في الفتنة فقال: سمعت رسول الله قوله يقول:"سيكون بعدي امراء يقتتلون على الملك، يقتل بعضهم عليه بعضا"، فقلنا له: لو (٣) حدثنا به غيرك كذبناه، قال:"اما إنه سيكون" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ملحاب).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ط، هـ]: زيادة (أن).
(٤) حسن؛ ثروان بن ملحان وثقه العجلي والهيثمي وذكره ابن حبان في الثقاث، ولم يرو عنه غير سماك أخرجه أحمد (١٨٣٢٠)، وأبو يعلى (١٦٥٠)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٧/ ٢٩٢.
حضرت ثروان بن ملحان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم مسجد میں بیٹھے تھے حضرت عمار بن یاسر ہمارے پاس سے گزرے ہم نے ان سے عرض کیا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث فتنے کے بارے میں بیان کردیں پس انہوں نے فرمایا میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا عنقریب میرے بعد امراء ہوں گے جو ملک پر (یعنی حصول ملک کے لیے) لڑائی کریں گے اس پر کچھ کچھ کو قتل کریں گے ہم نے ان سے عرض کیا اگر آپ کے علاوہ کوئی اور ہم سے اس بارے میں بیان کرتا تو ہم اس کی تکذیب کرتے انہوں نے ارشاد فرمایا باقی یہ تو بلا شبہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40005]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40005، ترقيم محمد عوامة 38377)
ترقیم عوامۃ: 38378 ترقیم الشثری: -- 40006
٤٠٠٠٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا عمران القطان عن قتادة عن ابي الخليل عن عبد الله بن (الحارث) (١) عن ام سلمة قالت: قال رسول الله ﷺ:" يبايع لرجل بين الركن والمقام (كعدة اهل) (٢) بدر، فتاتيه عصائب العراق وابدال الشام، فيغزوهم جيش من اهل الشام حتى إذا كانوا بالبيداء (يخسف) (٣) بهم، ثم يغزوهم رجل من قريش اخواله كلب فيلتقون فيهزمهم الله، فكان يقال: الخائب من خاب ⦗٢٣٢⦘ من غنيمة كلب" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الحرث).
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (عنده أهل).
(٣) في [جـ، ع]: (خسف).
(٤) ضعيف؛ لضعف عمران القطان، أخرجه أحمد (٢٦٦٨٩)، وأبو داود (٤٢٨٨)، وابن حبان (٦٧٥٧)، والحاكم ٤/ ٤٣١، والطبراني ٢٣/ (٩٣٠)، وأبو يعلى (٦٩٤٠)، والداني في الفتن (٥٩٥).
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی کی رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان اصحاب بدر کی تعداد کے برابر بیعت کی جائے گی اس کے پاس عراقی زاہدوں کے گروہ اور شام کے ابدال آئیں گے ان سے لڑائی کرے گا شامیوں میں سے ایک لشکر یہاں تک کہ جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر ان سے قریش میں سے ایک آدمی جس کے ماموں بنوکلب میں سے ہوں گے لڑائی کرے گا ان کی آپس میں مڈ بھیڑ ہوگی اللہ ان کو شکست دے دے گا پس کہا جاتا تھا نامراد وہ ہے جو کلب کی غنیمت کے پانے سے نامراد رہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40006]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40006، ترقيم محمد عوامة 38378)
ترقیم عوامۃ: 38379 ترقیم الشثری: -- 40007
٤٠٠٠٧ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن ابي إدريس (المرهبي) (١) عن مسلم بن صفوان عن صفية قالت: قال رسول الله ﷺ:"لا (ينتهي) (٢) ناس عن غزو هذا البيت، حتى يغزو جيش حتى إذا كانوا بالبيداء او (ببيداء) (٣) من الارض خسف باولهم وآخرهم (٤) "، قلت: فإن كان فيهم من يكره؟ قال:"يبعثهم الله على ما في انفسهم" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ص، ط]: (المهري)، وفي [س]: (المهدي).
(٢) في [ب]: (ينتهيان).
(٣) في [ع]: (بيد).
(٤) في [هـ]: زيادة من سنن ابن ماجه: (ولم ينج أوسطهم).
(٥) مجهول؛ لجهالة مسلم بن صفوان، أخرجه أحمد (٢٦٨٦١)، والترمذي (٢١٨٤)، وابن ماجه (٤٠٦٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣١٢٢)، وأبو يعلى (٧٠٦٩)، والفاكهي في أخبار مكة (٧٦٢)، والطبراني ٢٤/ (١٩٨).
حضرت صفیہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ اس گھر یعنی بیت اللہ پر حملے سے نہیں رکیں گے یہاں تک کہ ایک لشکر لڑائی کے لیے نکلے گا جب وہ زمین میں ایک میدان میں ہوں گے ان کے اگلوں اور پچھلوں کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے درمیان والے بھی نجات نہ پائیں گے حضرت صفیہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اگر ان میں ایسا ایسا آدمی ہو جس پر زبردستی کی گئی ہو آپ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ان کو اٹھائیں گے اس (نیت وغیرہ پر) پر جو ان کے جی میں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40007]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40007، ترقيم محمد عوامة 38379)
ترقیم عوامۃ: 38380 ترقیم الشثری: -- 40008
٤٠٠٠٨ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن سعد بن اوس عن بلال العبسي عن ميمونة قالت: قال لنا نبي الله ﷺ (١) ذات يوم:"كيف انتم إذا مرج الدين، وظهرت الرغبة، واختلفت الإخوان، وحرق البيت العتيق" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) حسن؛ سعد بن أوس وبلال صدوقان، أخرجه أحمد (٢٦٨٢٩)، والطبراني ٢٤/ (١٤)، والدينوري في المجالسة (٣٣٦٣)، وابن قتيبة في غريب الحديث (٦٨).
حضرت میمونہ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ایک دن ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب دین محفوظ نہیں رہے گا اور (دنیا میں) رغبت ظاہر ہوجائے گی اور بھائیوں کا اختلاف ہوجائے گا اور پرانے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جلایا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40008]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40008، ترقيم محمد عوامة 38380)
ترقیم عوامۃ: 38381 ترقیم الشثری: -- 40009
٤٠٠٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن زياد بن سعد عن الزهري عن سعيد بن المسيب ⦗٢٣٣⦘ (سمعت) (١) ابا هريرة يقول عن (النبي ﷺ) (٢) :"الذي يخرب (الكعبة) (٣) ذو السويقتين من الحبشة" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سمع).
(٢) هكذا في [هـ]، وفيما تقدم ٤/ أ/ ٢٨٦ برقم [١٤٦٥٩]، وسقط من: [أ، ب، جـ، س، ع]، وفي [ص، ط]: (الذي).
(٣) سقط من: [أ، ب]، وفي [س]: (البيت).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٩١)، ومسلم (٢٩٠٩) مرفوعًا.
حضرت ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں (فرمایا کہ) کعبہ کو منہدم کرے گا چھوٹی پنڈلیوں والا آدمی جو حبشہ سے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40009]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40009، ترقيم محمد عوامة 38381)
ترقیم عوامۃ: 38382 ترقیم الشثری: -- 40010
٤٠٠١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن ابي صادق عن حنش الكناني عن عليم الكندي (١) قال: (ليخربن) (٢) هذا البيت على يد رجل من آل الزبير.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تقدم في ١١/ ١٠٦ برقم [٣٢٦٢٢]: أنه يروي هذا الخبر عن سلمان.
(٢) في [ع]: (ليحرقن)، وفي [ص]: (ليخرقن).
حضرت سلمان سے روایت ہے فرمایا یقینا یہ گھر منہدم ہوگا حضرت زبیر کی آل میں سے کسی آدمی کے ہاتھ سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40010]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40010، ترقيم محمد عوامة 38382)
ترقیم عوامۃ: 38383 ترقیم الشثری: -- 40011
٤٠٠١١ - حدثنا ابن عيينة عن بن ابي نجيح عن مجاهد قال: سمع ابن (عمرو) (١) يقول: كاني به اصيلع افيدع، قائم عليها يهدمها بمسحاته، فلما هدمها ابن الزبير جعلت انظر إلى صفة ابن عمرو (٢) فلم (ارها) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عمر وهو يقول).
(٢) أي: الصفة التي ذكرها ابن عمرو.
(٣) في [أ، ب، هـ]: (أزل بها).
(٤) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٩١٨٠)، والأزرقي ١/ ٢٠٥، ونعيم (١٨٧٣)، والخطابي في الغريب ٢/ ٣٩١، وورد مرفوعًا عند أحمد (٧٠٥٣)، والفاكهي (٧٤٣).
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو فرماتے ہوئے سنا کہ گویا میں ایک گنجے اور ٹیڑھے اعضاء والے آدمی کو بیت اللہ کے پاس دیکھتا ہوں جو اس پر کھڑا اسے اپنے رندے سے گرا رہا ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب حضرت عبداللہ بن زبیر نے بیت اللہ کو گرایا تو میں نے غور کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ حالت میں لیکن میں نے ایسی حالت نہ پائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40011]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40011، ترقيم محمد عوامة 38383)