🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38404 ترقیم الشثری: -- 40032
٤٠٠٣٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن عاصم عن ابي مجلز قال: قال رجل: يا آل بني تميم، (فحرمهم) (١) عمر بن الخطاب (عطاءهم) (٢) سنة، ثم (اعطاهم) (٣) إياه من العام المقبل (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فحرمه).
(٢) في [هـ]: (عطاءه).
(٣) في [هـ]: (أعطاه).
(٤) منقطع؛ أبو مجلز لاحق بن حميد لم يدرك عمر.

حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں ایک آدمی نے ندا لگائی اے آلِ بنو تمیم! (جاہلیت کی ندا لگائی) تو حضرت عمر نے ان قبیلہ والوں کو ان کے عطیہ سے ایک سال کے لیے محروم کردیا پھر اگلے سال ان کو عطیہ عطا فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40032]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40032، ترقيم محمد عوامة 38404)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38405 ترقیم الشثری: -- 40033
٤٠٠٣٣ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن ابي إدريس عن المسيب بن (نجبة) (١) عن علي بن ابي طالب قال: من ادرك ذلك الزمان فلا يطعن برمح ولا يضرب بسيف ولا يوم بحجر، واصبروا فإن العاقبة للمتقين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (بحينة)، وفي [جـ]: (نجمة).
(٢) حسن؛ المسيب بن نجبة صدوق، ذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه جماعة، وأخرجه الطبراني (٢٨٠١)، وابن عساكر ١٤/ ١٧٨.

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے روایت ہے ارشاد فرمایا: جو آدمی یہ زمانہ پائے تو نہ تیروں سے مارے اور نہ تلوار سے مارے اور نہ پتھر (کسی کی طرف) پھینکے اور صبر کرو بلاشبہ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40033]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40033، ترقيم محمد عوامة 38405)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38406 ترقیم الشثری: -- 40034
٤٠٠٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: سمعت ابا هريرة يقول: ويل للعرب من شر قد اقترب، (اظلت) (١) ورب الكعبة (اظلت) (٢) ، والله لهي اسرع إليهم من الفرس المضمر السريع، الفتنة العمياء الصماء المشبهة، يصبح الرجل فيها على امر ويمسي على امر، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، ولو احدثكم بكل الذي اعلم لقطعتم عنقي من هاهنا، واشار (عبد الله) (٣) إلى قفاه -يحرف كفه (يحزه) (٤) ويقول: اللهم لا يدرك ابا هريرة إمرة الصبيان (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أطلت).
(٢) في [أ، ب]: (أطلت).
(٣) سقط من: [هـ]، وهو ابن عون.
(٤) في [أ، هـ]: (يخره).
(٥) حسن؛ عمير بن إسحاق صدوق، وأخرجه مرفوعًا أحمد (٩٦٩١)، وأبو داود (٤٢٤٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٢٩٩)، ونعيم (٤٦٧).

حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا: میں نے حضرت ابوہریرہ کو فرماتے ہوئے سنا ہلاکت ہے، عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب ہوچکی قریب ہوگی رب کعبہ کی قسم قریب ہوگی اللہ کی قسم وہ ان کو تیز رفتار دبلے گھوڑے سے بھی جلدی پہنچے گی۔ اندھا بہرا اشتباہ میں ڈالنے والا فتنہ ہوگا اس میں یک آدمی ایک امر پر جمع کرے گا اور دوسرے امر پر شام کرے گا اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا اس میں چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا اگر میں تم سے تمام وہ باتیں بیان کروں جو میں جانتا ہوں تو تم میری گردن یہاں سے کاٹ دو (یہ کہتے ہوئے) حضرت عبداللہ نے اشارہ کیا اپنی گدی کی طرف اپنی ہتھیلی کے کنارے سے اسے حرکت دیتے ہوئے اور فرمایا اے اللہ! ابوہریرہ کو بچوں کی امارت (کا زمانہ) نہ پالے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40034]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40034، ترقيم محمد عوامة 38406)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38407 ترقیم الشثری: -- 40035
٤٠٠٣٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: ويل للعرب من شر قد اقترب، قد افلح من كف يده (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة أبي صالح مولى ضباعة، وأخرجه أحمد (٩٧٨٢)، والبزار (٣٣٥٨/ كشف)، وابن عدي ٦/ ٢١٠١.
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا ہلاکت ہے عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب ہوچکی (اس سے) فلاح پائے گا وہ آدمی جس نے اپنے ہاتھ کو روکا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40035]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40035، ترقيم محمد عوامة 38407)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38408 ترقیم الشثری: -- 40036
٤٠٠٣٦ - حدثنا عبد الله بن نمير عن منخل بن (غضبان) (١) قال: صحبت عاصم بن عمرو البجلي فسمعته يقول يا ابن اخي! إذا فتح باب المغرب لم يغلق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (عضبان).
حضرت منخل بن غضبان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت عاصم بن عمرو بجلی کے ساتھ رہا میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا اے بھتیجے جب مغرب کا دروازہ کھول دیا جائے گا تو اسے بند نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40036]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40036، ترقيم محمد عوامة 38408)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38409 ترقیم الشثری: -- 40037
٤٠٠٣٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الله بن المخارق بن سليم عن ابيه قال: قال علي: إني لا ارى هؤلاء القوم إلا ظاهرين عليكم (لتفرقكم) (١) ⦗٢٤١⦘ عن حقكم واجتماعهم على باطلهم، كان الإمام ليس (بشاق) (٢) (شعرة) (٣) ، وإنه يخطئ ويصيب، فإذا كان عليكم إمام يعدل في الرعية ويقسم بالسوية فاسمعوا له واطيعوا، وإن الناس لا يصلحهم إلا إمام بر او فاجر، فإن كان برا فللراعي وللرعية، وإن كان فاجرا عبد فيه المؤمن ربه وعمل فيه الفاجر إلى اجله، وإنكم ستعرضون على سبي، وعلى البراءة مني، فمن سبني فهو في حل من سبي، ولا تبرؤا من ديني فإني على الإسلام (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (بتفرقكم).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (يشاق)، وفي [س]: (بساق).
(٣) في [ط، هـ]: (سفره).
(٤) حسن؛ عبد اللَّه بن مخارق وأبوه صدوقان.

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا میں ان لوگوں کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تم پر غالب آجائیں گے تمہارے حق پر اختلاف اور ان کے باطل پر اجتماع کی وجہ سے اور امام مال کو پھاڑنے والا تو نہیں ہوتا بلاشبہ وہ غلطی بھی کرتا ہے اور درستگی تک بھی پہنچ جاتا ہے پس اگر تمہارے اوپر ایسا امام مقرر ہو جو رعایا میں انصاف کرے اور برابر تقسیم کرے پس اس کی بات سنو اور اطاعت کرو اور بلاشبہ لوگوں کی اصلاح نہیں کرتا مگر امام نیک ہو یا فاجر پس اگر وہ نیک ہے تو نگہبان اور رعایا کے لیے ہے اور اگر فاجر ہے اس کے زمانے میں مومن اپنے رب کی عبادت کرے گا اور فاجر اپنے مقررہ وقت تک عمل کرے گا اور بلا شبہ تم سے عنقریب مجھے برا بھلا کہنے اور مجھ سے براءت کا مطالبہ کیا جائے گا جس آدمی نے مجھے برا بھلا کہا تو میرے لیے بھی اس کو برا بھلا کہنا درست ہے اور میرے دین سے براءت کا اظہار نہ کرنا کیونکہ میں اسلام پر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40037]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40037، ترقيم محمد عوامة 38409)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38410 ترقیم الشثری: -- 40038
٤٠٠٣٨ - (حدثنا) (١) (٢) معاوية بن هشام عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن كثير ابن (نمر) (٣) قال: جاء رجل برجال إلى علي فقال: إني رايت هؤلاء يتوعدونك ففروا، واخذت هذا، قال: افاقتل من لم يقتلي؟ قال: إنه سبك، قال: سبه او دع (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: زيادة (أبو).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (نمير).
(٤) مجهول؛ لجهالة كثير بن نمر، أخرجه أبو عبيد في الأموال (٥٦٧).

حضرت کثیر بن نمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ایک آدمی چند آدمیوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا اور کہا میں نے ان کو دیکھا ہے کہ آپ کو دھمکی دے کر بھاگ رہے تھے اور میں نے اس کو پکڑ لیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کیا میں قتل کروں ایسے آدمی کو جس نے مجھے قتل نہیں کیا اس آدمی نے کہا اس نے آپ کو برا بھلا کہا ہے تو انہوں نے ارشاد فرمایا اسے برا بھلا کہو یا چھوڑ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40038]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40038، ترقيم محمد عوامة 38410)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38411 ترقیم الشثری: -- 40039
٤٠٠٣٩ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الاعمش عن (شمر) (١) عن رجل قال: كنت عريفا في زمان علي، قال: فامرنا بامر فقال: افعلتم ما امرتكم؟ قلنا: (٢) لا، قال: والله لتفعلن ما تؤمرون به او ليركبن اعناقكم اليهود والنصارى (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (شهر).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (قلنا).
(٣) مجهول؛ لإبهام الرجل.

حضرت اعمش شمر سے اور وہ ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نگران تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ان صاحب نے بتایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ارشاد فرمایا بخدا تم ضرور بالضرور کرو گے وہ اعمال جن کا تمہیں حکم دیا جائے گا وگرنہ تمہاری گردنوں پر یہود و نصاری کو سوار کردیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40039]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40039، ترقيم محمد عوامة 38411)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38412 ترقیم الشثری: -- 40040
٤٠٠٤٠ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن يحيى وعبيد الله وابن إسحاق عن عبادة ابن الوليد بن عبادة بن (الصامت) (١) عن ابيه عن جده قال: بايعنا رسول الله ﷺ على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره وعلى اثرة علينا وعلى ان لا ننازع الامر اهله، وعلى ان نقول بالحق اينما كنا لا نخاف في الله لومة لائم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الصادمت).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٩٩)، ومسلم (١٧٠٩).

حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی سننے اور اطاعت پر تنگی میں اور سہولت میں خوشی میں اور زبردستی کی حالت میں اور ہم پر ترجیح دی جانے کی صورت میں اور اس بات پر کہ ہم حکومت والوں سے جھگڑا نہیں کریں گے اور اس بات پر کہ ہم حق بات کہیں گے جہاں پر ہم ہوں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40040، ترقيم محمد عوامة 38412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38413 ترقیم الشثری: -- 40041
٤٠٠٤١ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن عجلان عن (بكير) (١) بن عبد الله بن الاشج قال: قال عبادة بن الصامت لجنادة بن ابي امية الانصاري: تعال حتى اخبرك ماذا لك؟ وماذا عليك؟ (إن عليك) (٢) السمع والطاعة في عسرك وشرك ومنشطك ومكرهك والاثرة (٣) عليك وان تقول بلسانك، وان لا تنازع الامر اهله إلا ان ترى كفرا براحا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بكر).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٣) في [ع]: (أثرة).
(٤) منقطع؛ لم يسمع بكير من عبادة.

حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت جنادہ بن ابو امیہ انصاری سے فرمایا آؤ میں تمہیں خبردیتا ہوں کہ کیا تمہارے لیے ہے اور کیا تم پر لازم ہے سننا اور اطاعت کرنا اپنی تنگی اور آسانی میں اور خوشی میں اور نا پسندیدگی کی حالت میں اور تم پر ترجیح دی جانے کی صورت میں اور یہ کہ تو اپنی زبان سے کہے اور نہ تو جھگڑا کر حکومت والوں سے مگر یہ کہ تو دیکھے واضح کفر کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40041، ترقيم محمد عوامة 38413)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں