🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38344 ترقیم الشثری: -- 39972
٣٩٩٧٢ - حدثنا شريك عن ابي حصين عن الشعبي (ان رجلا) (١) (قال) (٢) : (يا لضبة) (٣) قال: فكتب إلى عمر، قال: فكتب إليه عمر: ان عاقبه، او قال: ادبه، فإن ضبة لم يدفع عنهم سوءا قط، ولم يجر إليهم (خيرا) (٤) قط (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن رجل).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (بال).
(٣) في [أ، ب، جـ، ع]: (ضبة).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (خير).
(٥) منقطع؛ الشعبي لم يدرك عمر.

حضرت شعبی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے یا لضبۃ کہہ کر ضبہ سے فریاد رسی کی حضرت شعبی نے فرمایا اس سلسلے میں حضرت عمر کی طرف خط لکھا گیا راوی فرماتے ہیں حضرت عمر نے جواب میں لکھا اس کو سزا دو یا فرمایا اس کو ادب سکھاؤ بلا شبہ ضبہ نے کبھی بھی ان سے کوئی برائی دو ر نہیں کی اور نہ ہی کھینچا ان کی طرف خیروبھلائی کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39972]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39972، ترقيم محمد عوامة 38344)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38345 ترقیم الشثری: -- 39973
٣٩٩٧٣ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن ابي نضرة عن ابي سعيد الخدري قال: حدثنا زيد بن ئابت عن رسول الله ﷺ قال:"تعوذوا بالله من الفتن ما ظهر منها وما بطن"، (قلنا: نعوذ بالله من الفتن ما ظهر منها وما بطن) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، ع].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٦٧)، وأحمد (٢١٦٥٨).

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ہم سے حضرت زید بن ثابت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا آپ نے ارشاد فرمایا: فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو جو ظاہری فتنے ہیں اور جو پوشیدہ ہیں ہم نے عرض کیا ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی فتنوں سے جو ان میں ظاہری فتنے ہیں اور جو باطنی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39973]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39973، ترقيم محمد عوامة 38345)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38346 ترقیم الشثری: -- 39974
٣٩٩٧٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد بن وهب عن عبد الله قال: لما بعث (عثمان إليه) (١) يامره بالخروج إلى المدينة اجتمع الناس إليه فقالوا له: اقم، لا تخرج، فنحن نمنعك، لا يصل إليك منه شيء تكرهه، فقال عبد الله: إنها ستكون امور وفق، (لا) (٢) احب ان اكون انا اول من فتحها وله علي (طاعة) (٣) ، قال: فرد الناس وخرج إليه (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (إليه عثمان).
(٢) في [أ، ب]: (ما).
(٣) في [هـ]: (طاقة).
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار ٣/ ٩٩٣.

حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان نے ان کو مدینہ کی طرف نکلنے کا حکم دیا لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے اور ان سے کہا! آپ رکیے ہم آپ کی حفاظت کریں گے اور آپ کو کوئی ناپسندیدہ امر نہیں پہنچے گا حضرت عبد اللہ نے فرمایا بلا شبہ عنقریب کچھ امور اور فتنے ہوں گے میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں ان کو کھولنے والوں میں سے پہلا ہوجاؤں ان کے لیے مجھ پر اطاعت کا حق ہے راوی فرماتے ہیں انہوں نے لوگوں کو واپس کردیا اور حضرت عثمان کے حکم کے مطابق نکل گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39974]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39974، ترقيم محمد عوامة 38346)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38347 ترقیم الشثری: -- 39975
٣٩٩٧٥ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا الاعمش عن المسيب بن رافع عن (يسير) (١) بن عمرو قال: شيعنا (ابا) (٢) مسعود حين خرج، فنزل في طريق القادسية فدخل بستانا، فقضى الحاجة ثم توضا ومسح على جوربيه، ثم خرج وإن لحيته ليقطر منها الماء، فقلنا له: اعهد إلينا، فإن الناس قد وقعوا في الفتن، ولا ندري هل نلقاك ام لا؟ قال: اتقوا الله واصبروا حتى يستريح بر او يستراح من فاجر، وعليكم بالجماعة، فإن الله لا يجمع امة محمد على ضلالة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (بشير)، وفي [س]: (نسير)، وانظر: تحفة الأحوذي ٦/ ٣٢٢.
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ]: (ابن)، وانظر: تلخيص الحبير ٣/ ١٤١.
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٤٠/ ٥٢٤، والخطيب في الموضح ١/ ٣٩٢، والطبراني ١٧/ (٦٦٧)، وإسحاق كما في المطالب (٤٣٤٠)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٧٧، والبيهقي في الشعب (٧٥١٧)، واللالكائي (١٦٢)، والحاكم ٤/ ٥٥٥.

حضرت یسیر بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم حضرت ابن مسعود کے ہم نوا تھے جب وہ نکلے پس وہ قادسیہ کے راستے میں اترے پس داخل ہوئے باغ میں قضاء حاجت کی پھر وضو فرمایا اور اپنی جرابوں پر مسح کیا پھر نکلے اس حال میں کہ پانی کے قطرات ان کی داڑھی سے سے ٹپک رہے تھے ہم نے ان سے عرض کیا ہمیں نصیحت کریں کیونکہ لوگ فتنوں میں پڑگئے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہم آپ سے ملیں گے یا نہیں انہوں نے ارشاد فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو یہاں تک کہ نیک آدمی راحت پائے یا فاسق فاجر سے راحت پالی جائے اور لازم ہے تم پر جماعت بلا شبہ اللہ تعالیٰ امت محمد کو گمراہی پر جمع نہیں کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39975]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39975، ترقيم محمد عوامة 38347)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38348 ترقیم الشثری: -- 39976
٣٩٩٧٦ - حدثنا ابو اسامة عن زائدة عن الاعمش عن (شمر) (١) بن عطية عن انس بن مالك قال: إنها ستكون ملوك ثم جبابرة ثم الطواغيت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (شهر).
(٢) منقطع؛ شمر لا يروي عن أنس.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا بلا شبہ آئندہ ہوں گے بادشاہ پھر ظالم لوگ پھر سرکش لوگ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39976]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39976، ترقيم محمد عوامة 38348)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38349 ترقیم الشثری: -- 39977
٣٩٩٧٧ - حدثنا ابو اسامة عن زائدة عن الاعمش عن ابي سفيان عن عبيد بن عمير قال: خرج رسول الله ﷺ (إلى) (١) اهل الحجرات فقال:" (يا اهل الحجرات) (٢) سعرت النار وجاءت الفتن كانها قطع الليل المظلم، لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب]، وفي [ع]: زيادة (يا أهل).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) مرسل؛ عبيد تابعي، وأخرجه هناد (٤٧٢).

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرات میں رہنے والوں کی طرف نکلے اور ارشاد فرمایا اے حجروں میں رہنے والو! جہنم کی آگ بھڑ کا دی جائے گی اور فتنے آئیں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39977]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39977، ترقيم محمد عوامة 38349)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38350 ترقیم الشثری: -- 39978
٣٩٩٧٨ - حدثنا ابو اسامة عن بن مبارك ومفضل بن يونس عن الاوزاعي عن حسان بن عطية عن ابي إدريس قال: إنها فتن قد اظلت كجباه البقر يهلك فيها اكثر الناس إلا من كان (يعرفها) (١) قبل ذلك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (بعد فيها).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا فتنے ہوں گے جو گائے کی پیشانی کی طرح ہوں گے ان میں اکثر لوگ ہلاک ہوں گے مگر وہ جو ان کو ان کے وقوع سے پہلے جانتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39978]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39978، ترقيم محمد عوامة 38350)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38351 ترقیم الشثری: -- 39979
٣٩٩٧٩ - حدثنا ابو اسامة (١) عن (مجالد) (٢) عن ابي السفر عن رجل من بني عبس قال: قال لنا حذيفة: كيف انتم إذا (ضيع) (٣) الله امر امة محمد ﷺ، فقال رجل: ما تزال تاتينا (بمنكرة) (٤) ، (يضيع) (٥) الله امر امة محمد؟ قال: ارايتم إذا وليها من لا يزن عند الله جناح بعوضة: افترون امر امة محمد ضاع يومئذ (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (زائدة عن أبي سفيان).
(٢) في [س]: (مجاهد).
(٣) في [أ، ب]: (صنع).
(٤) في [أ، هـ]: (بنكرة).
(٥) في [أ، ب]: (يصلح).
(٦) مجهول؛ لإبهام الرجل، أخرجه في تاريخ واسط (٢٢٨)، وفي جزء الأصبهاني (٤٨)، وبنحوه البخاري في التاريخ الكبير ٧/ ١٤٩.

حضرت ابو السفر بنی عبس کے ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ہم سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب اللہ تعالیٰ امت محمد یہ کے معاملے کو ضائع کردیں گے ایک آدمی نے کہا آپ ہم سے ہمیشہ ایسی ہی ناپسندیدہ باتیں بیان کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے امر کو ضائع کردیں گے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی جب ان کا والی ایسا آدمی ہوگا جس کا وزن (قدرو منزلت) اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا تو کیا خیال ہے تمہارا امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دینی امر اس دن ضائع نہیں ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39979]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39979، ترقيم محمد عوامة 38351)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38352 ترقیم الشثری: -- 39980
٣٩٩٨٠ - حدثنا عفان واسود بن عامر قالا: اخبرنا حماد بن سلمة عن علي ⦗٢٢٣⦘ ابن زيد عن ابي (عثمان) (١) عن خالد بن (عرفطة) (٢) عن النبي ﷺ انه قال:"يا خالد إنها ستكون احداث واختلاف" -وقال عفان: وفرقة-"فإذا كان ذلك فإن استطعت ان تكون المقتول لا القاتل"، قال عفان: فافعل (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [ع]: (عرطة).
(٣) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد، أخرجه أحمد (٢٢٤٩٩)، والحاكم ٣/ ٢٨١، والبخاري في التاريخ ٣/ ١٣٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٤٦)، والطبراني (٤٠٩٦)، والبزار (٣٣٥٦/ كشف).

حضرت خالد بن عرفطہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ارشاد فرمایا اے خالد بلاشبہ آئندہ نئی باتیں اور اختلافات ہوں گے عفان راوی فرماتے ہیں یہ بھی فرمایا اور فرقت یعنی جدائی بھی ہوگی پس جب یہ ہوجائے تو اگر تم سے ہوسکے کہ تو مقتول ہو قاتل نہ ہو (عفان راوی نقل کرتے ہیں) تو ایسا کرلینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39980]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39980، ترقيم محمد عوامة 38352)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38353 ترقیم الشثری: -- 39981
٣٩٩٨١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت بن زيد عن ابي بردة قال: دخلت على محمد بن مسلمة فقلت له: رحمك الله! إنك من هذا الامر بمكان، فلو خرجت إلى الناس فامرت ونهيت؟ فقال: إن رسول الله ﷺ قال:"انها ستكون فتنة وفرقة واختلاف، فإذا كان ذلك فات بسيفك احدا فاضربه حتى تقطعه، ثم اجلس في بيتك حتى تاتيك يد خاطئة او (منية) (١) قاضية"، فقد وقعت وفعلت ما قال لي رسول الله ﷺ (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ميت).
(٢) معلول؛ لم يضبط المؤلف إسناده، وصوابه علي بن زيد بدل (ثابت)، وقد ذكر ابن ماجه أن الشك من ابن أبي شيبة (٣٩٦٢)، وسيأتي على وجه المحفوظ في ١٥/ ٥١ برقم (٤٠٠٧٣).

حضرت ابو بردہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں حضرت محمد بن مسلمہ کے پاس گیا میں نے ان سے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ اس معاملے میں اس مرتبے پر ہیں اگر آپ لوگوں کی طرف نکلیں آپ روکتے اور حکم دیتے تو انہوں نے ارشاد فرمایا بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنے اور تفرق و اختلافات ہوں گے پس اگر ایسا ہو تو اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر جانا تلوار اس پر مارنا یہاں تک کہ تو اسے توڑ دے پھر اپنے گھر مں پ بیٹھ جانا یہاں تک کہ تیرے پاس آئے کوئی غلطی کرنے والا ہاتھ یا فیصلہ کرنے والی موت پس ایسا ہوچکا ہے لہذا میں نے ایسا ہی کیا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39981]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39981، ترقيم محمد عوامة 38353)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں