مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
ترقیم عوامۃ: 39064 ترقیم الشثری: -- 40719
٤٠٧١٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا محمد بن عمرو عن ابي سلمة قال: قلت لابي سعيد الخدري: هل سمعت (من) (١) رسول الله ﷺ يذكر في ⦗٥٥٠⦘ الحرورية شيئا؟ قال: نعم، سمعته يذكر قوما يعبدون،"يحقر احدكم صلاته وصومه مع صومهم، (يمرقون) (٢) من الدين كما (يمرق) (٣) السهم من الرمية"، اخذ (سيفه) (٤) فنظر في نصله فلم ير شيئا، فنظر في (رصافه) (٥) فلم ير شيئا، فنظر في قدحه فلم ير شيئا، فنظر في (القذذ) (٦) فتمارى هل يرى شيئا ام لا (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ع]: (يمزقون).
(٣) في [ع]: (يمزق).
(٤) في [هـ]: (سهمه).
(٥) في [ع]: (رضافة).
(٦) في [هـ]: (القدد) وفي [خـ]: القرح.
(٧) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١١٢٩١)، وابن ماجه (١٦٩)، وأبو يعلى (١٢٣٣)، وبنحوه البخاري (٦٩٣١)، ومسلم (١٠٦٤).
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری سے عرض کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی حروریہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قوم کا تذکرہ کرتے سنا جو عبادت کرتے ہوں گے، آپ نے فرمایا کہ تم ان کی عبادت کے سامنے اپنی عبادت کو حقیر سمجھو گے، ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے کو حقیر سمجھو گے، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ وہ اپنی تلوار کو لے گا پھر وہ اپنے تیر کے پھل کو دیکھے گے وہاں کچھ نہ پائے گا، اس کے عقبی حصے کو دیکھے گا وہاں بھی کچھ نہ پائے گا۔ وہ اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھے گا وہاں بھی کچھ نہ پائے گا، پھر تیر کے پروں کو دیکھے گا اور اسے شک ہوگا کہ اس نے کچھ دیکھا بھی ہے یا نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40719]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40719، ترقيم محمد عوامة 39064)
ترقیم عوامۃ: 39065 ترقیم الشثری: -- 40720
٤٠٧٢٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا ايوب عن غيلان بن جرير قال: اردت ان اخرج مع ابي قلابة إلى مكة فاستاذنت عليه فقلت: ادخل؟ قال: (نعم) (١) إن لم تكن حروريا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
حضرت غیلان بن جریر فرماتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ کے ساتھ مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ میں نے ان سے اجازت طلب کی۔ میں نے کہا کہ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، اگر تم حروری نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40720]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40720، ترقيم محمد عوامة 39065)
ترقیم عوامۃ: 39066 ترقیم الشثری: -- 40721
٤٠٧٢١ - حدثنا يزيد بن هارون (١) عن حماد (بن سلمة) (٢) عن ابي عمران الجوني عن عبد الله بن رباح عن كعب قال: الذي تقتله الخوارج له عشرة (انور) (٣) فضل ثمانية (انور) (٤) على نور الشهداء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (قال: حدثنا).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (أنوار).
(٤) في [هـ]: (أنوار).
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جسے خوارج شہید کریں اس کے لئے دس نور ہیں اور اسے شہداء کے نور سے دو نور زیادہ دیئے جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40721]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40721، ترقيم محمد عوامة 39066)
ترقیم عوامۃ: 39067 ترقیم الشثری: -- 40722
٤٠٧٢٢ - حدثنا حميد عن (حسن) (١) عن ابي نعامة عن خالد قال: سمعت ابن عمر يقول: إنهم عرضوا (بغيرنا) (٢) ، لو كنت فيها ومعي سلاحي (لقاتلت) (٣) عليها -يعني نجدة واصحابه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الحسن).
(٢) في [هـ]: (بغير نار).
(٣) في [أ، ب]: (لقابلت).
(٤) صحيح؛ وتقدم نحوه برقم [٤٠٦٩٥].
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نجدہ اور اس کے ساتھیوں نے ہمارے غیر سے تعرض کیا، اگر میں ان میں ہوتا اور میرے ساتھ میرا ہتھیار ہوتا تو میں ان سے قتال کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40722]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40722، ترقيم محمد عوامة 39067)
ترقیم عوامۃ: 39068 ترقیم الشثری: -- 40723
٤٠٧٢٣ - حدثنا حميد عن الحسن عن ابيه قال: اشهد ان كتاب عمر بن عبد العزيز قرئ علينا إن سفكوا الدم الحرام وقطعوا السبيل (فتبرا) (١) في كتابه من الحرورية وامر بقتالهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فبرا).
حضرت حسن کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کا خط ہمارے سامنے پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا کہ اگر حروری لوگ محترم خون کو بہائیں اور راہزنی کریں تو ہم ان سے بری ہیں اور آپ نے ان سے قتال کا حکم دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40723]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40723، ترقيم محمد عوامة 39068)
ترقیم عوامۃ: 39069 ترقیم الشثری: -- 40724
٤٠٧٢٤ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عبد العزيز بن (سياه) (١) قال: حدثنا حبيب ابن ابي ثابت عن ابي وائل قال: اتيته فسالته عن هؤلاء القوم الذين قتلهم علي، قال: قلت: (فيم) (٢) فارقوه؟ و (فيم) (٣) (استحلوه؟) (٤) و (فيم) (٥) دعاهم؟ (وفيم) (٦) فارقوه؟ ثم (استحل) (٧) دماءهم؟ ⦗٥٥٢⦘ قال: إنه لما (استحر) (٨) القتل في اهل الشام بصفين اعتصم معاوية واصحابه (بجبل) (٩) ، فقال عمرو بن (العاص) (١٠) : ارسل إلى علي بالمصحف، فلا والله لا يرده عليك، قال: فجاء به رجل يحمله (ينادي) (١١) : بيننا وبينكم كتاب الله: ﴿الم تر إلى الذين اوتوا نصيبا من الكتاب يدعون إلى كتاب الله ليحكم بينهم ثم يتولى فريق منهم وهم معرضون﴾ [آل عمران: ٢٣] ، قال: فقال علي: نعم، بيننا وبينكم كتاب الله، انا اولى به منكم. قال: فجاءت الخوارج وكنا ( (نسميهم) (١٢) يومئذ) (١٣) القراء، قال: فجاءوا (باسيافهم) (١٤) على (١٥) عواتقهم، فقالوا: يا امير المؤمنين (لا) (١٦) نمشي إلى هؤلاء القوم حتى يحكم الله بيننا وبينهم. فقام سهل بن حنيف فقال: ايها الناس اتهموا انفسكم، (لقد) (١٧) كنا مع رسول الله ﷺ يوم الحديبية ولو نرى قتالا لقاتلنا، وذلك في الصلح الذي كان بين رسول الله ﷺ (١٨) [ (وبين المشركين فجاء عمر فاتى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله السنا على) (١٩) حق وهم على باطل؟ قال:"بلى"، قال: اليس قتلانا في الجنة ⦗٥٥٣⦘ وقتلاهم في النار؟ قال:"بلى"، قال: ففيم نعطي (الدنية) (٢٠) في ديننا ونرجع ولما يحكم الله بيننا وبينهم؟ فقال:" (يا) (٢١) ابن الخطاب إني رسول الله ولن يضيعني الله ابدا". [قال: فانطلق عمر ولم يصبر متغيظا حتى اتى ابا بكر فقال: يا ابا بكر السنا على حق وهم على باطل؟ فقال: بلى، قال: (اليس) (٢٢) قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار؟ قال: بلى، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا ونرجع ولما يحكم الله بيننا وبينهم؟ فقال: يا ابن الخطاب! إنه رسول الله ولن يضيعه الله ابدا] (٢٣) ، قال: فنزل القرآن على محمد ﷺ (٢٤) بالفتح، فارسل إلى عمر فاقراه إياه، فقال: يا رسول الله او فتح هو؟ قال: نعم، فطابت نفسه ورجع. فقال علي: ايها الناس! ان هذا فتح، فقبل علي القضية ورجع ورجع الناس. ثم انهم خرجوا بحروراء اولئك العصابة من الخوارج بضعة عشر الفا، فارسل إليهم يناشدهم الله، فابوا عليه فاتاهم صعصعة بن صوحان فناشدهم الله وقال: علام تقاتلون خليفتكم؟ قالوا: نخاف الفتنة، قال: فلا تعجلوا ضلالة العام مخافة فتنة (عام) (٢٥) قابل، (٢٦) فرجعوا (فقالوا) (٢٧) : نسير على ناحيتنا، فإن (عليا) (٢٨) قبل ⦗٥٥٤⦘ القضية (٢٩) قاتلناهم يوم صفين، وإن نقضها قاتلنا معه. فساروا حتى بلغوا النهروان، فافترقت منهم فرقة فجعلوا يهدون الناس قتلا، فقال اصحابهم: ويلكم (ما على هذا) (٣٠) فارقنا (عليا) (٣١) . فبلغ (عليا) (٣٢) امرهم فقام فخطب الناس فقال: (اما) (٣٣) ترون، اتسيرون إلى اهل الشام ام ترجعون إلى هؤلاء الذين خلفوا إلى ذراريكم، فقالوا: لا، بل نرجع إليهم، فذكر امرهم فحدث عنهم (ما) (٣٤) قال فيهم رسول الله ﷺ:"إن فرقة تخرج عند اختلاف (٣٥) الناس تقتلهم اقرب الطائفتين بالحق، علامتهم رجل فيهم يده كثدي المراة". فساروا حتى التقوا بالنهروان فاقتتلوا قتالا شديدا، فجعلت خيل علي لا (تقوم) (٣٦) لهم؛ فقام علي فقال: ايها الناس! إن كنتم إنما تقاتلون لي، فوالله ما عندي ما اجزيكم به، وإن كنتم إنما تقاتلون لله فلا يكن هذا قتالكم، فحمل الناس حملة واحدة، فانجلت الخيل عنهم وهم مكبون على وجوههم. فقال علي: اطلبوا الرجل فيهم، قال: فطلب الناس فلم يجدوه حتى قال بعضهم: غرنا ابن ابي طالب من إخواننا حتى (قتلناهم) (٣٧) ، فدمعت عين علي، ⦗٥٥٥⦘ قال: فدعا بدابته فركبها فانطلق حتى اتى وهدة فيها قتلى بعضهم على بعض فجعل يجر بارجلهم حتى وجد الرجل تحتهم، (فاجتروه) (٣٨) فقال علي: الله اكبر، وفرح الناس ورجعوا. وقال علي: لا اغزو العام، ورجع إلى الكوفة وقتل، واستخلف (حسن) (٣٩) (فسار) (٤٠) بسيرة ابيه، ثم (بعث) (٤١) بالبيعة إلى معاوية (٤٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (ساه).
(٢) في [أ، ب]: (نعم).
(٣) في [ب، هـ]: (فيما).
(٤) في [أ، ب]: (استحللوه له)، وفي [جـ، ع]: (استحالوا له)، وفي [س]: (استحلوا الدم)، وفي [هـ]: (استجابوا له).
(٥) في [ب، هـ]: (فيما).
(٦) في [ع]: (فيما).
(٧) في [س]: (استحق).
(٨) في [ب]: (استجر)، وفي [ع]: (استحق).
(٩) في [س]: (بحمل).
(١٠) في [أ، ب، س، ع]: (العاصي).
(١١) سقط من: [س].
(١٢) في [س]: بياض.
(١٣) في [ع]: (يومئذ نسميهم).
(١٤) في [س]: (بأشيانهم).
(١٥) في [ع]: زيادة (أعناقهم).
(١٦) في [ع]: (الأ).
(١٧) في [ع]: (لو).
(١٨) سقط من: [ع].
(١٩) سقط من: [أ، ب].
(٢٠) في [ع]: (الدية).
(٢١) سقط من: [جـ].
(٢٢) في [ع]: (ليس).
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢٤) سقط من: [ع].
(٢٥) في [ع]: (غام).
(٢٦) في [ع]: زيادة (قال).
(٢٧) في [هـ]: (فقاتلوا).
(٢٨) في [ع]: (علي).
(٢٩) في [أ، ب، جـ، ع]: زيادة (قاتلنا على ما).
(٣٠) في [ع]: (على ما هذا).
(٣١) في [ع]: (علي).
(٣٢) في [ع]: (علي).
(٣٣) في [ع]: (ما).
(٣٤) في [ع]: (لما).
(٣٥) في [ع]: زيادة (من).
(٣٦) في [أ، ب]: (يقوم).
(٣٧) في [ع]: (قاتلناهم).
(٣٨) في [أ، ب، ط، هـ]: (فأخبروه).
(٣٩) في [ع]: (حسنًا).
(٤٠) في [أ، ب، هـ]: (فساروا).
(٤١) سقط من: [هـ].
(٤٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٨٢، ٤٨٤٤)، ومسلم (١٧٨٥)، وأحمد ٣/ ٤٨٥ (١٥٩٧٥)، والنسائي (١١٥٠٤)، وأبو يعلى (٤٧٤)، وإسحاق كما في المطالب العالية (٤٤٣٩).
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو وائل کے پاس آیا اور میں نے ان سے اس قوم کے بارے میں سوال کیا جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تھا۔ میں نے کہا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیوں چھوڑا؟ ان کے خون کو حلال کیوں سمجھا؟ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کس چیز کی دعوت دی تھی؟ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خون کو کس بنا پر حلال قرار دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ جب صفین کے مقام پر اہل شام میں قتل زور پکڑ گیا تو حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں نے ایک پہاڑ کو ٹھکانہ بنایا۔ حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف بھیجو، خدا کی قسم! وہ اس کا انکار نہیں کریں گے۔ پس ایک آدمی مصحف لایا اور وہ یہ اعلان کررہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے { أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ أُوتُوا نَصِیبًا مِنَ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ إِلَی کِتَابِ اللہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیقٌ مِنْہُمْ وَہُمْ مُعْرِضُونَ } اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے اور میں اس پر عمل کرنے کا تم سے زیادہ پابند ہوں۔ (٢) پھر خوارج آئے اور ان دنوں ہم انہیں ”قرائ“ کہا کرتے تھے۔ وہ اپنی تلواروں کو کندھے پر لٹکا کر لائے اور کہنے لگے اے امیر المؤمنین! کیا ہم ان لوگوں کی طرف پیش قدمی نہ کریں کہ اللہ ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اس پر حضرت سہل بن حنیف نے فرمایا کہ اے لوگو! اپنے نفوس کی مذمت کرو، ہم حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اگر ہم قتال کو مستحسن سمجھتے تو قتال کرتے۔ یہ وہ صلح کا معاہدہ تھا جو مشرکین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ہوا تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (٣) پھر حضرت عمر غصے کی حالت میں حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اے ابن خطاب! وہ اللہ کے رسول ہوں، اللہ انہیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (٤) پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورة الفتح کو نازل کیا، آپ نے کسی کو بھیج کو حضرت عمر کو بلایا اور ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت فرمائی۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔ پھر وہ خوش ہوگئے اور واپس چلے گئے۔ (٥) اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے لوگو! یہ فتح ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو قبول فرمالیا اور واپس چلے گئے اور لوگ بھی واپس چلے گئے۔ (٦) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو قبول کرنے کے بعد خوارج کے دس ہزار سے زیادہ لوگ حروراء چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اللہ کا واسطہ دے کر واپس آنے کو کہا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ پھر ان کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے اور اللہ کا واسطہ دیا اور ان سے پوچھا کہ تم کس بنیاد پر اپنے خلیفہ سے قتال کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں فتنہ کا خوف ہے۔ اس نے کہا کہ آنے والے سال کے فتنے سے عوام کو ابھی سے گمراہ مت کرو۔ وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنے علاقے میں جارہے ہیں کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فیصلے کو قبول کرلیا ہے۔ ہم نے اسی وجہ سے قتال کیا جس وجہ سے صفین کی جنگ میں قتال کیا تھا اور اگر وہ فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ہم ان کے ساتھ قتال کریں گے۔ (٧) پھر وہ لوگ چلے اور جب وہ نہروان پہنچے تو ایک جماعت ان سے الگ ہوگئی اور لوگوں کو قتل کی دھمکی دینے لگی۔ ان کے ساتھیوں نے کہا کہ تمہارا ناس ہو کیا ہم نے اس بات پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی یہ خبر پہنچی تو آپ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا کہ تم کیا دیکھتے ہو؟ کیا تم شام کی طرف جارہے ہو یا تم ا [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40724، ترقيم محمد عوامة 39069)
ترقیم عوامۃ: 39070 ترقیم الشثری: -- 40725
٤٠٧٢٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد بن وهب عن علي قال: لما كان يوم النهروان لقي الخوارج، فلم يبرحوا حتى شجروا بالرماح فقتلوا جميعا، فقال علي: اطلبوا ذا الثدية، فطلبوه فلم يجدوه فقال علي: ما كذبت ولا كذبت، اطلبوه، فطلبوه فوجدوه في (وهدة) (١) من الارض عليه ناس من القتلى، فإذا رجل على يده مثل سبلات السنور (٢) ، قال: (فكبر) (٣) علي والناس، واعجب الناس واعجب علي (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (هذه).
(٢) أي: شارب الهر.
(٣) في [ب]: (كبر).
(٤) صحيح؛ أخرجه النسائي (٨٥٦٩)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٤٩٦)، وبنحوه البزار (٥٨٠)، وابن أبي عاصم في السنة (٩١٦)، وأصله عند مسلم (١٠٦٦).
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ یوم نہروان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خوارج سے مڈبھیڑ ہوئی۔ نیزے مسلسل چلتے رہے اور خوارج مارے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان میں ذوالثدیہ کو تلاش کرو، لیکن تلاش کے بعد بھی وہ نہ ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ میرے ساتھ جھوٹ بولا گیا۔ اسے تلاش کرو۔ جب پھر تلاش کیا گیا تو وہ مقتولین کے ساتھ ایک جگہ زمین پر پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ پر بلی کے پنجوں جیسی کوئی چیز تھی۔ اسے دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے اللہ اکبر کہا اور لوگ بھی خوش ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی خوش ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40725]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40725، ترقيم محمد عوامة 39070)
ترقیم عوامۃ: 39071 ترقیم الشثری: -- 40726
٤٠٧٢٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن ⦗٥٥٦⦘ الحارث عن رجل من بني (نصر) (١) بن معاوية (قال) (٢) : كنا عند علي (فذكروا) (٣) اهل النهر (فسبهم) (٤) رجل، فقال علي: لا تسبوهم، ولكن إن خرجوا على إمام عادل فقاتلوهم، وإن خرجوا على إمام جائر فلا تقاتلوهم، فإن لهم بذلك مقالا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (نضر).
(٢) في [ط]: (قالوا).
(٣) في [ط]: (فذكر).
(٤) في [ط]: (فيهم).
(٥) مجهول؛ لجهالة الرجل النصري.
بنو نصر بن معاویہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے کہ خوارج کا ذکر چھڑ گیا۔ ایک آدمی نے انہیں گالی دی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہیں گالی مت دو۔ اگر وہ امام عادل کے خلاف خروج کریں تو ان سے قتال کرو اور اگر وہ ظالم امام کے خلاف خروج کریں تو ان سے قتال نہ کرو۔ کیونکہ انہیں گفتگو کا حق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40726، ترقيم محمد عوامة 39071)
ترقیم عوامۃ: 39072 ترقیم الشثری: -- 40727
٤٠٧٢٧ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن سلمة عن الازرق بن قيس عن شريك بن شهاب الحارثي قال: جعلت اتمنى ان القى رجلا من اصحاب محمد ﷺ (١) يحدثني عن الخوارج، فلقيت ابا برزة الاسلمي في نفر من اصحابه في يوم عرفة، فقلت: حدثني بشيء سمعته من رسول الله ﷺ يقوله في الخوارج، (فقال) (٢) : (احدثك) (٣) بما سمعت اذناي ورات عيناي، اتي رسول الله ﷺ بدنانير فجعل يقسمها وعنده رجل اسود (مطموم) (٤) الشعر، عليه ثوبان ابيضان، بين عينيه اثر السجود، وكان يتعرض لرسول الله ﷺ (٥) فلم يعطه، فاتاه فعرض له من قبل وجهه فلم يعطه شيئا، فاتاه من قبل (يمينه) (٦) فلم يعطه شيئا، ثم اتاه من قبل ⦗٥٥٧⦘ شماله فلم (يعطه) (٧) شيئا، ثم اتاه من خلفه فلم يعطه شيئا، فقال: يا محمد ما عدلت منذ اليوم في القسمة، فغضب رسول الله ﷺ غضبا شديدا ثم قال:"والله لا تجدون احدا اعدل عليكم مني" -ثلاث مرات، ثم قال:"يخرج عليكم رجال من قبل المشرق كان هذا منهم، هديهم هكذا، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، (يمرقون) (٨) من الدين كما (يمرق) (٩) السهم من الرمية، ثم لا يعودون إليه -ووضع يده على صدره- سيماهم (التحليق) (١٠) لا يزالون يخرجون حتى يخرج آخرهم مع المسيح الدجال، فإذا رايتموهم فاقتلوهم -ثلاثا- (١١) شر الخلق والخليقة" -يقولها ثلاثا (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ع]: (قال).
(٣) في [هـ]: (أحدثكم).
(٤) في [ع]: (مظموم).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [ع]: (تعطه).
(٨) في [ع]: (يمزقون).
(٩) في [ع]: (يمزق).
(١٠) في [ط، هـ]: (التخلق).
(١١) في [هـ]: زيادة (هم).
(١٢) مجهول؛ لجهالة شريك بن شهاب، أخرجه أحمد (١٩٧٨٣)، والنسائي (٣٥٦٦)، والحاكم ٢/ ١٤٦، والطيالسي (٩٢٣)، والبزار (٣٨٤٦)، والمزي ١٢/ ٤٦٠، والروياني (٧٦٦)، والهروي في ذم الكلام (٦٥٢).
حضرت شریک بن شہاب حارثی کہتے ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی ایسے ساتھی سے ملوں جو مجھے خوارج کے بارے میں بتائے، میں یوم عرفہ کو حضرت ابو برزہ اسلمی سے ملا وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خوارج کے بارے میں سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ان کے بارے میں ایسا واقعہ سناؤں گا جسے میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا ہے۔ ہوا یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ دنانیر لائے گئے۔ آپ انہیں تقسیم کرنے لگے، آپ کے پاس ایک آدمی تھا جس کے بال ڈھکے ہوئے تھے، اس پر دو سفید کپڑے تھے، اس کی آنکھوں کے درمیان سجدوں کا نشان تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوکر آپ سے وہ دنانیر لینا چاہتا تھا، لیکن آپ نے اسے عطا نہ فرمائے۔ وہ آپ کے چہرہ مبارک کی طرف سے آیا لیکن آپ نے اسے کچھ نہ دیا، وہ دائیں طرف سے آیا، آپ نے اسے کچھ نہ دیا، پھر وہ بائیں طرف سے آیا آپ نے اسے پھر بھی کچھ نہ دیا، پھر وہ پیچھے سے آیا تو آپ نے اسے پھر بھی کچھ نہ دیا۔ پھر وہ کہنے لگا اے محمد! آج کے دن آپ نے تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ غصہ میں آئے اور آپ نے تین مرتبہ فرمایا ”خدا کی قسم! تم اپنے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی کو انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے“ پھر آپ نے فرمایا کہ تم پر مشرق کی طرف سے کچھ لوگ خروج کریں گے، یہ مجھے ان میں سے لگتا ہے، ان کا طریقہ کاریہ ہوگا کہ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، پھر وہ اس میں واپس نہیں آئیں گے۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھا اور فرمایا کہ سر منڈانا ان کا شعار ہوگا، ان کا خروج ہمیشہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کے ساتھ نکلے گا۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم انہیں دیکھو تو ان سے قتال کرو۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ وہ تخلیق اور عادت کے اعتبار سے بدترین لوگ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40727، ترقيم محمد عوامة 39072)
ترقیم عوامۃ: 39073 ترقیم الشثری: -- 40728
٤٠٧٢٨ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني قرة بن خالد السدوسي قال: حدثنا ابو الزبير عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: ["يجيء قوم يقرؤون القرآن لا يجاوز (تراقيهم) (١) (يمرقون) (٢) من الدين كما (يمرق) (٣) السهم من الرمية على (فوقه) (٤) " (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (تراقبهم).
(٢) في [ع]: (يمزقون).
(٣) في [ع]: (يمزق).
(٤) في [ع]: (قومه).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٠٦٣)، وأحمد (١٤٨٦١).
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40728]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40728، ترقيم محمد عوامة 39073)