🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39045 ترقیم الشثری: -- 40699
٤٠٦٩٩ - حدثنا عمرو بن يحيى (بن) (١) عمرو بن سلمة (الهمداني) (٢) عن ابيه عن جده قال: كنا جلوسا (على) (٣) باب عبد الله (ننتظره) (٤) ان يخرج إلينا فخرج فقال: إن رسول الله ﷺ حدثنا:"ان قوما يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم (يمرقون) (٥) من الإسلام كما (يمرق) (٦) السهم من الرمية، وايم الله لا ادري (لعل) (٧) اكثرهم منكم" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عن).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (عند).
(٤) في [س]: (تنتظره)، وفي [هـ]: (ننتظر).
(٥) في [ع]: (يمزقون).
(٦) في [ع]: (يمزق).
(٧) في [ع]: (لعلى).
(٨) حسن؛ يحيى بن عمرو صدوق، قال عنه سفيان: "لا بأس به" كما في المعرفة ليعقوب ٣/ ١٨٩، وأبوه ثقة من رجال التقريب، وابنه عمرو، اختلف قول ابن معين فيه، وقد رواه عنه جمع من الأئمة، والخبر أخرجه البخاري في التاريخ ٦/ ٣٣٧، والخطيب في تاريخ بغداد ١٢/ ١٦٢ والموضح ١/ ٣٣٣، وأسلم في تاريخ واسط ص ١٩٨.

حضرت سلمہ ہمدانی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ کے انتظار میں ان کے دروازے پر بیٹھے تھے، وہ تشریف لائے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیان کیا کہ ایک قوم قرآن مجید کو پڑھتی ہوگی لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکلتا ہے۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ شاید ان سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ تم میں سے ہوں۔ حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کو دیکھا کہ یوم نہروان میں خوارج کے ساتھ ہم سے قتال کررہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40699، ترقيم محمد عوامة 39045)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40700
٤٠٧٠٠ - قال: فقال عمرو بن (سلمة) (١) : فراينا عامة (اولئك) (٢) يطاعنونا يوم النهروان مع الخوارج.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ع]: (ذلك).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40700، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39046 ترقیم الشثری: -- 40701
٤٠٧٠١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) عبد الرحمن بن حميد (الرؤاسي) (٢) قال: حدثنا عمران بن ظبيان عن ابي (تحيى) (٣) قال: سمع رجلا من الخوارج وهو (٤) يصلي صلاة الفجر يقول: ﴿ولقد اوحي إليك وإلى الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين﴾ [الزمر: ٦٥] قال: فترك سورته التي كانت فيها قال: (وقرا) (٥) : ﴿فاصبر إن وعد الله حق ولا يستخفنك الذين لا يوقنون﴾ [الروم: ٦٠] (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [جـ]: (الرقاشي).
(٣) هو حكيم بن سعد، وفي [أ، ب، هـ]: (يحيى).
(٤) يعني عليًّا ﵁ كما في مصادر التخريج.
(٥) في [ع]: (وقال).
(٦) ضعيف؛ لضعف عمران بن ظبيان، أخرجه ابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٣/ ٤٤٢، والحاكم ٣/ ١٥٨ (٤٧٠٤)، والبيهقي ٢/ ٢٤٥، والشافعي في الأم ٧/ ١٦٥.

حضرت ابو تحیی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک خارجی کو فجر کی نماز میں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: { وَلَقَدْ أُوحِیَ إلَیْک وَإِلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ أَشْرَکْت لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُک وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ } یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی سورت کو چھوڑ دیا اور یہاں سے پڑھا { فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَلاَ یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40701، ترقيم محمد عوامة 39046)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39047 ترقیم الشثری: -- 40702
٤٠٧٠٢ - حدثنا قطن بن عبد الله (ابو مرى) (١) عن ابي غالب قال: كنت في مسجد دمشق فجاءوا بسبعين راسا من رؤوس الحرورية فنصبت على درج المسجد، فجاء ابو (امامة) (٢) فنظر إليهم فقال: كلاب جهنم، شر قتلى قتلوا تحت ظل السماء، ومن قتلوا خير قتلى تحت (ظل) (٣) السماء، وبكى (ونظر) (٤) إلي وقال: يا ابا غالب إنك من بلد هؤلاء؟ قلت: نعم، (قال) (٥) : اعاذك - (قال) (٦) : اظنه ⦗٥٤٠⦘ قال- الله منهم، قال: تقرا آل عمران؟ قلت: نعم، قال: ﴿منه آيات محكمات هن ام الكتاب واخر متشابهات فاما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله وما يعلم تاويله إلا الله والراسخون في العلم﴾ [آل عمران: ٧] قال: ﴿يوم تبيض وجوه وتسود وجوه فاما الذين اسودت وجوههم اكفرتم بعد إيمانكم فذوقوا العذاب بما كنتم تكفرون﴾ [آل عمران: ١٠٦] ، قلت: يا ابا (امامة) (٧) إني رايتك تهريق عبرتك؟ قال: نعم! رحمة لهم، إنهم كانوا من اهل الإسلام، قال: افترقت بنو إسرائيل على واحدة وسبعين فرقة، وتزيد هذه الامة فرقة واحدة، كلها في النار إلا السواد الاعظم؛ عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم، وإن تطيعوه تهتدوا، وما على الرسول إلا البلاغ (المبين) (٨) ، السمع والطاعة خير من الفرقة والمعصية، فقال له رجل: يا ابا امامة! امن رايك تقول (ام من) (٩) شيء سمعته من رسول الله ﷺ؟ قال: إني إذن لجريء، قال: بل سمعته من رسول الله ﷺ غير مرة ولا مرتين -حتى ذكر سبعا (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الوتري).
(٢) في [س]: (أسامة).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (طل)، وسقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (فنظر).
(٥) في [ع]: (قالي).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (أمية).
(٨) سقط من: [جـ، س، ط، هـ].
(٩) في [ع]: (أمن)، وفي [هـ]: (أم).
(١٠) حسن؛ أبو غالب صدوق، وقطن ويقال: قطري ذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جماعة منهم المصنف، أخرجه أحمد (٢٢١٨٤)، والترمذي (٣٠٠٠)، وابن ماجه (١٧٦)، والحاكم ٢/ ١٤٩، والحميدي (٩٠٨)، والحارث كما في الإتحاف (٤٦٦٢)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٥٤٤)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٥١٩)، والطبراني (٨٠٣٥)، والآجري في الشريعة ص ٣٥، والخليلي في الإرشاد ٢/ ٤٦٨، والبيهقي ٨/ ١٨٨، والخطيب في التاريخ ٩/ ٣٩٤، وعبد الرزاق (١٨٦٦٣).

حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی جامع مسجد میں تھا کہ لوگ ستر خارجیوں (حروریوں) کے سر لے کر آئے۔ ان سروں کو مسجد کی سیڑھیوں پر نصب کردیا گیا۔ جب حضرت ابو امامہ تشریف لائے اور ان کے سروں کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں۔ آسمان کے نے چر مارے جانے والے یہ بدترین مخلوق ہیں۔ اور جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے وہ آسمان کے نیچے سب سے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ روئے اور میری طرف دیکھا اور مجھ سے فرمایا کہ اے ابو غالب! تم ان لوگوں کے شہر سے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں محفوظ رکھا۔ پھر فرمایا کہ کیا تم سورة آل عمران پڑھتے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:{ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ فَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَائَ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلاَّ اللَّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ } اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَأَمَّا الَّذِینَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ أَکَفَرْتُمْ بَعْدَ إیمَانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ } حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوامامہ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ان پر رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں۔ وہ اہل اسلام میں سے تھے۔ بنی اسرائیل والے اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور اس امت میں ایک فرقے کا اضافہ ہوگا، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے بڑی جماعت کے۔ ان پر وہ ہے جس کے وہ مکلف بنائے گئے اور تم پر وہ ہے جس کے تم مکلف بنائے گئے۔ اگر تم اس بڑی جماعت کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور پیغام دینے والے پر تو بات کو کھول کھول کر بیان کردینا ہی ہوتا ہے۔ بات کو سننا اور اطاعت کرنا فرقہ میں پڑنے اور معصیت سے بہتر ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اے ابو امامہ! یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں یہ بات اپنی رائے سے کہوں تو دین کے معاملے میں جرأت کرنے والا بن جاؤں گا! میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک، دو مرتبہ نہیں بلکہ سات مرتبہ سنی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40702، ترقيم محمد عوامة 39047)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39048 ترقیم الشثری: -- 40703
٤٠٧٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون الواسطي قال: (حدثنا) (١) سليمان التيمي عن ⦗٥٤١⦘ ابي مجلز قال: نهى علي اصحابه ان (يبسطوا) (٢) على الخوارج حتى يحدثوا حدثا فمروا بعبد الله بن خباب فاخذوه. فمر بعضهم على تمرة ساقطة من نخلة فاخذها فالقاها في فيه، فقال بعضهم: تمرة معاهد، فبم استحللتها؟ فالقاها من فيه. ثم مروا على خنزير (فنفحه) (٣) بعضهم بسيفه، فقال بعضهم: خنزير معاهد، فبم استحللته؟ فقال عبد الله: الا ادلكم على ما هو اعظم عليكم حرمة من هذا؟ قالوا: نعم، قال: انا، فقدموه فضربوا عنقه. فارسل إليهم علي ان اقيدونا (بعبد الله) (٤) بن خباب، فارسلوا إليه: وكيف نقيدك وكلنا قتله، قال: اوكلكم قتله؟ قالوا: نعم، (فقال) (٥) : الله اكبر. ثم امر اصحابه ان (يبسطوا) (٦) عليهم، قال: والله لا يقتل منكم عشرة ولا (يفلت) (٧) منهم عشرة، قال: فقتلوهم. فقال: اطلبوا فيهم ذا الثدية، فطلبوه (فاتي) (٨) به، فقال: من يعرفه؟ فلم يجدوا احدا يعرفه إلا رجلا، قال: انا رايته (بالحيرة) (٩) ، فقلت له: اين تريد؟ (قال) (١٠) : هذه، واشار إلى الكوفة، (ومالي) (١١) بها معرفة، قال: فقال علي: ⦗٥٤٢⦘ صدق هو من الجان (١٢)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: (بسطوا)، وفي [هـ]: (يسطوا).
(٣) في [هـ]: (فنفخه).
(٤) في [ع]: (لعبد اللَّه).
(٥) في [ع]: (قال).
(٦) في [هـ]: (يسطوا).
(٧) في [أ، ب، س]: (يغلب).
(٨) في [ع]: (فأتوا).
(٩) في [هـ]: (بالحيوة).
(١٠) في [ع]: (فقال).
(١١) في [جـ]: (مال).
(١٢) منقطع؛ أبو مجلز لا يروي عن علي، أخرجه الدارقطني ٣/ ١٣١، وأبو عبيد في الأموال (٤٧٥)، والبيهقي ٨/ ١٨٤، ومسدد كما في المطالب العالية (٤٤٤٠)، وفيه: (عن أبي مجلز أراه عن قيس بن عباد)، وسيأتي بنحوه برقم [٤٠٧٠٦].

حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو خوارج کے ساتھ معرکہ آرائی سے اس وقت تک منع کیا جب تک وہ خود چھیڑ خانی نہ کریں۔ چناچہ خوارج حضرت عبد اللہ بن خباب کے پاس سے گزرے اور انہیں پکڑ لیا۔ پھر ان میں سے ایک شخص ایک کھجور کے درخت سے گری ہوئی کھجور کو اٹھا کر کھانے لگا تو ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کی کھجور ہے تم اسے کیسے حلال سمجھتے ہو؟ چناچہ اس نے کھجور منہ سے پھینک دی۔ پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے تو ایک آدمی نے اسے اپنی تلوار ماری۔ ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کا خنزیر ہے تم اسے اپنے لئے کیسے حلال سمجھتے ہو؟ حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں ان چیزوں سے زیادہ قابل احترام چیز کا نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا بتائیے، حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ میں ہوں۔ وہ آگے بڑھے اور حضرت عبد اللہ بن خباب کی گردن کاٹ ڈالی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ حضرت عبد اللہ بن خباب کے قاتل کو میری طرف بھیج دو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کے قاتل آپ کو کیسے بھیجیں، ہم سب نے انہیں قتل کیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم سب نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور پھر اپنے ساتھیوں کو ان پر چڑھائی کا حکم دے دیا۔ اور فرمایا خدا کی قسم! تم میں سے دس آدمی قتل نہیں ہوں گے اور ان میں سے دس آدمی باقی نہیں بچیں گے۔ پس لوگوں نے ان سے قتال کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ ان میں ذوالثدیہ کو تلاش کرو۔ لوگوں نے اسے تلاش کیا اور اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا انہوں نے پوچھا کہ اسے کون جانتا ہے۔ پھر صرف ایک آدمی ملا جو اسے جانتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے اسے حیرہ میں دیکھا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو؟ اس نے کہا کہ اس طرف، اور پھر اس نے کوفہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ مجھے اس کا علم نہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ جنوں میں سے ہے، اس نے سچ کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40703، ترقيم محمد عوامة 39048)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39049 ترقیم الشثری: -- 40704
٤٠٧٠٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) عمران بن حدير عن ابي مجلز قال: لما لقي علي الخوارج (اكب) (٢) عليهم المسلمون، فوالله ما اصيب من (المسلمين) (٣) تسعة حتى افنوهم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنبأنا).
(٢) في [ع]: (ثم كب).
(٣) في [س]: (المسلمون).
(٤) منقطع؛ أبو مجلز لم يدرك ذلك، أخرجه يعقوب بن سفيان كما في فتح الباري ١٢/ ٢٦٦، والبداية والنهاية ٦/ ٢١٨، وأخرجه الخطيب في تاريخ بغداد ٧/ ٣٤٨.

حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج پر چڑھائی کی تو مسلمان بھی ان پر ٹوٹ پڑے، خدا کی قسم صرف نو مسلمان شہید ہوئے تھے کہ انہوں نے خوارج کو تہس نہس کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40704]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40704، ترقيم محمد عوامة 39049)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39050 ترقیم الشثری: -- 40705
٤٠٧٠٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن سعيد بن (جمهان) (١) قال: كانت الخوارج قد دعوني حتى كدت ان ادخل فيهم، (فرايت) (٢) اخت ابي بلال في المنام كانها (رات) (٣) ابا بلال اهلب، (قال) (٤) : فقلت: يا اخي ما (شانك؟) (٥) (٦) قال: فقال: جعلنا بعدكم كلاب اهل النار.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (جهمان).
(٢) في [س]: (فرأت).
(٣) في [هـ]: (رأيت).
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) في [هـ]: (سنانك).
(٦) في [هـ]: زيادة (قال: فقال: يا أخي سنانك).

حضرت سعید بن جمہان فرماتے ہیں کہ خوارج نے مجھے اپنی جماعت میں داخل ہونے کی دعوت دی، قریب تھا کہ میں ان میں شمولیت اختیار کرلیتا۔ اس اثناء میں ابو بلال کی بہن نے خواب میں ابو بلال اہلب کو دیکھا اور اس سے پوچھا کہ اے میرے بھائی! تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ ہمیں تمہارے بعد جہنم کے کتے بنادیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40705]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40705، ترقيم محمد عوامة 39050)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39051 ترقیم الشثری: -- 40706
٤٠٧٠٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: حدثني رجل من عبد القيس قال: كنت مع الخوارج فرايت منهم شيئا ⦗٥٤٣⦘ كرهته، (ففارقتهم) (١) على ان لا اكثر عليهم، فبينا انا مع طائفة منهم إذ راوا رجلا (خرج) (٢) كانه (فزع) (٣) ، وبينهم وبينه نهر، فقطعوا إليه النهر، فقالوا: كانا رعناك؟ قال: اجل، قالوا: ومن انت؟ قالا: انا عبد الله بن خباب بن (الارت) (٤) ، قالوا: عندك حديث تحدثناه عن ابيك عن رسول الله ﷺ، (فقال: حدثني ابي عن رسول الله ﷺ) (٥) :"إن فتنة جائية، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، فإذا لقيتهم فإن استطعت ان تكون عبد الله المقتول (فلا) (٦) تكن عبد الله القاتل"، قال: فقربوه إلى (النهر) (٧) فضربوا عنقه فرايت دمه يسيل (يجري) (٨) على الماء كانه شراك (ما (ابذقر) (٩) بالماء حتى توارى عنه، ثم دعوا بسرية له حبلى فبقروا عما في بطنها (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [هـ]: (قرع).
(٤) في [ع]: (الأرث).
(٥) في [هـ]: (قال سمعته يقول: أنه سمع النبي ﷺ يقول).
(٦) في [ع]: (ولا).
(٧) في [ط]: (النهرة).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) في [هـ]: (ماء اندفر)، وفي [أ]: (ما اندثر)، وفي [جـ]: (ما المدفر).
(١٠) مجهول؛ لإبهام الرجل القيسي، أخرجه أحمد (٢١٠٦٤)، وابن سعد ٥/ ٢٤٥، وعبد الرزاق (١٨٥٧٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٨٣)، وأبو يعلى (٧٢١٥)، والطبراني (٣٦٣٠)، والدارقطني ٣/ ١٣٢، والخطيب ١/ ٢٠٥، وأبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ٢٩٥.

بنو عبد القیس کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ میں خوارج کے ساتھ تھا کہ میں نے ان میں ایسی چیزوں کو دیکھا جنہیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لہٰذا میں نے ان سے جدائی کا فیصلہ کرلیا۔ میں ابھی انہی کی ایک جماعت کے ساتھ تھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے اور ان کے درمیان نہر حائل تھی۔ انہوں نے اس آدمی کو پکڑنے کے لئے نہر عبور کی اور کہا کہ شاید ہم نے تمہیں ڈرا دیا۔ اس نے کہا ہاں کچھ یونہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس آدمی نے کہا کہ میں عبد اللہ بن خباب بن ارت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایک حدیث ہے جو تم اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میرے والد نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا کہ فتنہ آنے والا ہے۔ اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا۔ اگر تم اللہ کے مقتول بندے بن سکو تو بن جانا لیکن اللہ کے قاتل بندے نہ بننا۔ پھر وہ لوگ حضرت عبد اللہ بن خباب کو نہر کے قریب لے گئے اور ان کی گردن کاٹ ڈالی۔ میں نے ان کے خون کو نہر کی لہروں پر بہتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے حضرت عبد اللہ بن خباب کی ایک حاملہ باندی کو بلایا اور اس کے پیٹ کو چاک کرڈالا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40706]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40706، ترقيم محمد عوامة 39051)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39052 ترقیم الشثری: -- 40707
٤٠٧٠٧ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) موسى بن محمد الانصاري ⦗٥٤٤⦘ قال: حدثني يحيى بن (حيان) (٢) عن جبلة بن (سحيم) (٣) وفلان بن (نضلة) (٤) قالا: بعث علي إلى الخوارج فقال: لا تقاتلوهم حتى (يدعوا) (٥) إلى ما كانوا عليه من (عطاء او) (٦) رزق في امان من الله ورسوله، فابوا وسبونا (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: (حبان).
(٣) في [ع]: (حسبم)، وفي [س]: (سجم).
(٤) في [أ، ب]: (فضله)، وفي [س]: (نفلة).
(٥) في [ع]: (يدعون).
(٦) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (عطاء)، وفي [هـ]: (إعطاء).
(٧) منقطع؛ ليس لجبلة رواية عن علي.

حضرت جبلہ بن سحیم اور ابن نضلہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کی طرف ایک لشکر کو روانہ فرمایا اور ان سے فرمایا کہ خوارج سے اس وقت تک قتال نہ کرنا جب تک انہیں دعوت نہ دی جائے کہ وہ پہلے والے سالانہ وظیفہ اور اللہ ورسول اللہ کے امان کو قبول کرلیں۔ لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور ہمیں گالم گلوچ کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40707]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40707، ترقيم محمد عوامة 39052)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39053 ترقیم الشثری: -- 40708
٤٠٧٠٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا موسى بن قيس الحضرمي عن سلمة ابن كهيل عن زيد بن وهب قال: خطبنا علي بالمدائن بقنطرة (الديزجان) (١) فقال: قد ذكر لي ان خارجة تخرج من قبل المشرق فيهم ذو الثدية، وإني لا ادري اهم هؤلاء ام غيرهم؟ قال: فانطلقوا يلقى بعضهم بعضا، فقالت الحرورية: لا تكلموهم كما كلمتموهم يوم حروراء (بكلمة) (٢) (فرجعتم) (٣) ، قال: فشجر بعضهم بعضا بالرماح، فقال (بعض) (٤) اصحاب علي: قطعوا العوالي، قال: فاستداروا فقتلوهم وقتل (من) (٥) اصحاب علي إثنا عشر او ثلاثة عشر، فقال: التمسوه، (فالتمسوه) (٦) فوجدوه فقالوا: والله ما كذبت ولا كذبت، اعملوا ⦗٥٤٥⦘ واتكلوا، فلولا ان (تتكلوا) (٧) لاخبرتكم بما قضى الله لكم على لسان نبيكم (٨) ، ثم قال: لقد شهدنا ناس باليمن، قالوا: كيف ذاك يا امير المؤمنين؟ فقال: كان (هواهم) (٩) معنا (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (الديرحان)، وسقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب]: (فتحملوهم)، وفي [ع]: (فلكموهم)، وفى [هـ]: (فكلمة).
(٣) في [أ]: (ورجعتم).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) سقط من: [ع].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [هـ]: (تتكلموا).
(٨) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٩) في [هـ]: (هداهم اللَّه)، وفي [أ، ب]: (هداهم).
(١٠) حسن؛ موسى بن قيس الحضرمي صدوق، أخرجه النسائي (٨٥٧٠)، والبزار (٥٨٠)، وابن أبي عاصم في السنة (٩١٦)، وأصله عند مسلم (١٠٦٦).

حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیزجان کے پل پر مدائن میں ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبے میں آپ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ ایک جماعت مشرق کی طرف سے خروج کرنے والی ہے ان میں ذوالثدیہ بھی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ وہی لوگ ہیں یا کوئی اور ہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہوئے چلے، حروریہ نے کہا کہ ان سے اس طرح بات نہ کرنا جس طرح تم نے ان سے حروراء کے دن بات کی تھی۔ پھر انہوں نے ان سے بات کی اور تم لوٹ گئے۔ پھر ان کے درمیان نیزے چلنے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کچھ ساتھیوں نے کہا کہ نیزوں کو کاٹ دو اور پھر وہ گھوم کر آئے اور ان سے قتال کیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے بارہ یا تیرہ لوگ شہید ہوئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اسے تلاش کرو، انہوں نے اسے تلاش کیا اور پالیا۔ پھر فرمایا کہ خدا کی قسم نہ تو نے جھوٹ بولا اور نہ تجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ عمل کرتے رہو اور پر امید نہ ہو۔ اگر تم امید پر سہارا نہ لگا لو تو میں تمہیں وہ بات بتادوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے جاری فرمائی ہے۔ پھر فرمایا کہ ہمارے ساتھ یمن کے بھی کچھ لوگ تھے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ کیسے اے امیر المومنین! آپ نے فرمایا کہ ان کی خواہشات ہمارے ساتھ تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40708]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40708، ترقيم محمد عوامة 39053)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں