مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
ترقیم عوامۃ: 39054 ترقیم الشثری: -- 40709
٤٠٧٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون (قال: اخبرنا) (١) ابو شيبة عن ابي إسحاق عن ابي بركة (الصائدي) (٢) قال: لما قتل علي ذا الثدية قال سعد: لقد قتل ابن ابي طالب جان الردهة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (قالوا: أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (الصابري)، وانظر: ما سيأتي برقم: [٤٠٧١٦]، والإكمال ١/ ٢٢٣.
(٣) ضعيف جدًا؛ أبو شيبة متروك، وأبو بركة مجهول.
حضرت ابوبر کہ صائدی فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذوالثدیہ کو قتل کردیا تو حضرت سعد نے فرمایا کہ ابن ابی طالب نے بل کے سانپ کو مارڈالا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40709]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40709، ترقيم محمد عوامة 39054)
ترقیم عوامۃ: 39055 ترقیم الشثری: -- 40710
٤٠٧١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن سميع الحنفي عن ابي رزين قال: لما كانت الحكومة بصفين وباين الخوارج (عليا) (١) رجعوا مباينين له، وهم في عسكر، وعلي في عسكر، [حتى دخل (علي الكوفة) (٢) (مع الناس بعسكره) (٣) ، ومضوا هم إلى حروراء بعسكرهم] (٤) ، فبعث علي إليهم ابن عباس فكلمهم فلم يقع منهم موقعا، فخرج (علي) (٥) إليهم (فكلمهم) (٦) حتى ⦗٥٤٦⦘ اجمعوا هم وهو على الرضا، فرجعوا حتى دخلوا الكوفة على الرضا منه ومنهم، فاقاموا يومين او نحو ذلك، قال: فدخل الاشعث بن قيس وكان يدخل على علي فقال: إن الناس يتحدثون انك رجعت لهم عن كفره، فلما ان كان الغد (او) (٧) الجمعة صعد (علي) (٨) المنبر فحمد الله واثنى عليه فخطب فذكرهم ومباينتهم الناس وامرهم الذي فارقوه فيه، فعابهم وعاب امرهم، قال: فلما نزل عن المنبر (تنادوا) (٩) من نواحي المسجد:"لا حكم إلا لله"، فقال علي: حكم الله انتظر فيكم، ثم قال بيده هكذا يسكتهم بالإشارة، وهو على المنبر حتى (اتاه) (١٠) رجل منهم واضعا إصبعيه في (اذنيه) (١١) وهو يقول: ﴿لئن اشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين﴾ [الزمر: ٦٥] (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (علي).
(٢) في [س]: (الكوفة على).
(٣) في [ع]: (بعسكره مع الناس).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [جـ، ط]: (و)، وسقط من: [أ، هـ].
(٨) سقط من: [أ، هـ].
(٩) في [ع]: (حتى تنادوا).
(١٠) في [هـ]: (أتى).
(١١) في [هـ]: (دابته).
(١٢) صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التاريخ ٣/ ١١٤.
حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ جب حکومت صفین میں تھی، اور خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا اور انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ توخوارج ایک لشکر میں تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسرے لشکر میں تھے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہاپنے لشکر کے ساتھ کوفہ واپس آگئے اور وہ اپنے لشکر میں حروراء چلے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا لیکن انہوں نے کوئی گنجائش نہ پائی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہان سے گفتگو کے لئے تشریف لئے گئے اور ان سے بات چیت ہوئی اور سب آپس میں راضی ہوگئے۔ اور کوفہ واپس آگئے۔ یہ رضامندی دو یا تین دن قائم رہی۔ پھر اشعث بن قیس آئے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اکثر آیا کرتے تھے اور انہوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے کہ آپ نے ان سے ان کے کفر کے باوجود رجوع کرلیا۔ اگلے دن یا جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر جلوہ افروز ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور خطبہ میں انہیں نصیحت فرمائی۔ لوگوں سے ان کے الگ ہونے کا تذکرہ کیا، جس چیز میں انہوں نے مفارقت کی اس کا انہیں حکم دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی اور ان کے طریقہ کار کی مذمت فرمائی۔ جب وہ منبر سے نیچے تشریف لائے تو مسجد کے کونوں سے آوازیں آنے لگیں کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کررہا ہوں۔ پھر منبر پر انہیں ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ فرمایا۔ اتنے میں خارجیوں کا ایک آدمی اپنی انگلیاں کانوں پر رکھ کر یہ آیت پڑھتے ہوئے آیا { لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُک وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40710]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40710، ترقيم محمد عوامة 39055)
ترقیم عوامۃ: 39056 ترقیم الشثری: -- 40711
٤٠٧١١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) ابن عيينة عن (عبيد الله) (٢) بن ابي يزيد عن ابن عباس انه ذكر عنده الخوارج فذكر من عبادتهم واجتهادهم فقال: ليسوا باشد اجتهادا من اليهود والنصارى ثم هم يصلون (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا)، وسقط من: [جـ].
(٢) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٨٦٦٥)، ومالك في المدونة ٣/ ٤٨، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٣٢٣، واللالكائي (٢٣١٥)، والآجري في الشريعة (٤٦).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے خوارج کا تذکرہ کیا گیا، ان کی عبادت اور مساعی کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں سے زیادہ کوشش کرنے والے اور ان سے زیادہ نماز پڑھنے والے نہیں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40711]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40711، ترقيم محمد عوامة 39056)
ترقیم عوامۃ: 39057 ترقیم الشثری: -- 40712
٤٠٧١٢ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن معمر عن (ابن) (١) طاوس عن ابيه عن ابن عباس انه ذكر (٢) ما يلقى الخوارج عند القرآن فقال: يؤمنون عند محكمه ويهلكون عند متشابهه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ربعي عن).
(٢) في [ع]: زيادة (له).
(٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق في التفسير ٣/ ٢٣٩، والمصنف (٢٠٨٩٥)، وابن أبي عاصم في السنة (٤٨٥)، وابن جرير في التفسير ٣/ ١٨١، والنهروي في ذم الكلام (١٩٣).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے تذکرہ کیا گیا کہ خوارج قرآن کو ہمیشہ بنیاد قرار دیتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اس کے محکم پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے متشابہ کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40712]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40712، ترقيم محمد عوامة 39057)
ترقیم عوامۃ: 39058 ترقیم الشثری: -- 40713
٤٠٧١٣ - حدثنا اسور بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن بشر بن (شغاف) (١) قال: سالني عبد الله بن سلام عن الخوارج فقلت: هم اطول الناس صلاة واكثرهم صوما غير انهم إذا خلفوا الجسر اهراقوا الدماء، واخذوا الاموال، فقال: لا (تسئل) (٢) عنهم (إلا ذا) (٣) ، اما إني قد قلت لهم: لا تقتلوا عثمان، دعوه، فوالله لئن تركتموه إحدى عشرة ليلة ليموتن على فراشه موتا، فلم يفعلوا، فإنه لم يقتل نبي إلا قتل به سبعون الفا من الناس، ولم يقتل خليفة إلا قتل به (خمسة) (٤) وثلاثون الفا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (شباب)، وفي [هـ]: (شفاف)، وفي [ع]: (سعاف).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط]: (لا سئل).
(٣) في [هـ]: (الأذى).
(٤) في [ع]: (خمس).
(٥) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان.
حضرت بشر بن شغاف فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے مجھ سے خوارج کے بارے میں سوال کیا تو میں نے عرض کیا کہ وہ سب سے لمبی نماز پڑھنے والے اور سب سے زیادہ روزے رکھنے والے ہیں۔ لیکن جب وہ پل کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں تو خون بہاتے ہیں اور مال چھین لے تھ ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کے بارے میں تم سے یہی سوال کیا جائے گا۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ حضرت عثمان کو شہید نہ کرو، انہیں چھوڑ دو خدا کی قسم اگر تم انہیں گیارہ راتوں تک چھوڑ دو تو وہ اپنے بستر پر انتقال کرجائیں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ جب کوئی نبی قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں ستر ہزار لوگ قتل ہوتے ہیں اور جب کوئی خلیفہ قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلہ میں پینتیس ہزار لوگ قتل ہوتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40713]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40713، ترقيم محمد عوامة 39058)
ترقیم عوامۃ: 39059 ترقیم الشثری: -- 40714
٤٠٧١٤ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن ابي الطفيل ان رجلا ولد له (غلام على عهد النبي ﷺ) (١) ، فدعا له واخذ ببشرة ⦗٥٤٨⦘ (جبهته) (٢) فقال بها هكذا وغمز جبهته ودعا له بالبركة، قال: (فنبت) (٣) شعرة في جبهته (كانها) (٤) هلبة فرس، فشب الغلام، فلما كان زمن الخوارج احبهم؛ فسقطت الشعرة عن جبهته، فاخذه ابوه فقيده مخافة ان يلحق (بهم) (٥) ، قال: فدخلنا عليه فوعظنا وقلنا له فيما نقول: الم تر ان بركة دعوة رسول الله ﷺ قد وقعت من (جبهتك) (٦) ، فما زلنا به حتى رجع عن رايهم، قال: فرد الله إليه الشعرة بعد في جبهته وتاب واصلح (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (على عهد النبي ﷺ غلام).
(٢) في [هـ]: (جبهة).
(٣) في [ع]: (فنبتت).
(٤) في [ع]: (كأنه).
(٥) في [أ، ب]: (فيهم).
(٦) في [ع]: (جهتك).
(٧) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد ٥/ ٤٥٦ (٢٣٨٠٥)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٢٣١، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٢٢٠)، وأبو القاسم البغوي كما في البداية والنهاية ٦/ ١٦٧.
حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ آپ نے اسے دعا دی اور اس کی پیشانی کی جلد کو چھوا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس بچے کی پیشانی پر گھوڑے کے بالوں جیسا خم دار ایک بال نکلا۔ پھر وہ لڑکا جوان ہوگیا اور جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوارج کی طرف مائل ہوگیا۔ پھر اس کی پیشانی سے وہ بال گرگیا۔ اس کے باپ نے اس کو پکڑ کر باندھ دیا کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ کہیں وہ خوارج کے ساتھ نہ جا ملے۔ ہم ایک مرتبہ اس سے ملے اور اسے نصیحت کی اور ہم نے اس سے کہا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت بھی تمہاری پیشانی سے گرگئی ہے۔ ہم اسے اسی طرح سمجھاتے رہے یہاں تک کہ اس نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی پیشانی کے بال کو واپس کردیا اور اس نے توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40714]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40714، ترقيم محمد عوامة 39059)
ترقیم عوامۃ: 39060 ترقیم الشثری: -- 40715
٤٠٧١٥ - حدثنا ابو اسامة عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: ذكر الخوارج عند ابي هريرة فقال: اولئك شر الخلق (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عمير صدوق.
حضرت ابوہریرہ کے سامنے خوارج کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بدترین مخلوق ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40715]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40715، ترقيم محمد عوامة 39060)
ترقیم عوامۃ: 39061 ترقیم الشثری: -- 40716
٤٠٧١٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) ابو شيبة عن ابي إسحاق عن ابي بركة الصائدي قال: لما قتل علي ذا الثدية قال سعد: لقد قتل علي جان (الردهة) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنبأنا).
(٢) في [ع]: (الردها).
(٣) ضعيف جدًا؛ أبو شيبة متروك، وأبو بركة مجهول.
حضرت ابوبر کہ صائدی فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذوالثدیہ کو قتل کردیا تو حضرت سعد نے فرمایا کہ ابن ابی طالب نے بل کے سانپ کو مارڈالا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40716]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40716، ترقيم محمد عوامة 39061)
ترقیم عوامۃ: 39062 ترقیم الشثری: -- 40717
٤٠٧١٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة عن ابي إسحاق قال: سمعت عاصم ابن ضمرة (قال) (١) : إن خارجة خرجت على حكم، فقالوا: لا حكم إلا لله، فقال علي: إنه لا حكم إلا لله، [ولكنهم يقولون: لا إمرة، ولا (بد) (٢) للناس من امير بر او فاجر، يعمل في إمارته المؤمن (ويستمتع فيها) ) (٣) (٤) الكافر، ويبلغ الله] (٥) فيه (الاجل) (٦) (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (يد).
(٣) في [ع]: (فيه).
(٤) في [س]: (ويستمع منها).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ع].
(٦) في [ط]: (فيها الأمل)، وفي [س]: (تسمية البلى).
(٧) حسن؛ عاصم صدوق، أخرجه البيهقي ٨/ ١٨٤.
حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ خوارج نے حکومت کے خلاف آواز اٹھائی اور یہ نعرہ بلند کیا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ بیشک اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں، لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ کسی کی امارت نہیں حالانکہ لوگوں کے لئے ایک امیر کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔ مومن اس کی امارت میں کام کرے، کافر اس میں زندگی گزارے اور اللہ تعالیٰ اسے اسی کی مدت تک پہنچا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40717]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40717، ترقيم محمد عوامة 39062)
ترقیم عوامۃ: 39063 ترقیم الشثری: -- 40718
٤٠٧١٨ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: خاصم عمر بن عبد العزيز الخوارج، فرجع من رجع منهم، وابت طائفة منهم ان يرجعوا، فارسل عمر رجلا على خيل وامره ان ينزل حيث (يرتحلون) (١) ، ولا يحركهم ولا يهيجهم فإن (٢) قتلوا وافسدوا في الارض (فابسط) (٣) عليهم وقاتلهم، وإن هم لم يقتلوا ولم يفسدوا في الارض فدعهم (يسيرون) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يرحلون).
(٢) في [ع]: زيادة (هم).
(٣) في [هـ]: (فاسط).
(٤) في [ع]: (يسيروا).
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے خوارج سے گفت و شنید کی، ان میں سے جس نے رجوع کرنا تھا رجوع کرلیا۔ ان کے ایک ٹولے نے رجوع کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان کی طرف گھڑ سواروں کا ایک لشکر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ وہاں چلیں جائیں جہاں خوارج کا قیام ہے۔ ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور نہ انہیں بھڑکائیں، اگر وہ قتل کریں یا زمین پر فساد مچائیں تو ان پر حملہ کردیں اور ان سے قتال کریں اور اگر وہ قتال نہ کریں اور زمین پر فساد نہ مچائیں تو انہیں چھوڑ دیں اور انہیں ان کا کام کرنے دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40718]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40718، ترقيم محمد عوامة 39063)