سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
57. بَابُ مَا رُوِيَ فِي لَمْسِ الْقُبُلِ وَالدُّبُرِ وَالذَّكَرِ وَالْحُكْمِ فِي ذَلِكَ
باب: (عورت کا اپنی) اگلی یا پچھلی شرمگاہ یا مرد کا اپنی شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کا حکم
ترقیم العلمیہ : 529 ترقیم الرسالہ : -- 537
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ السَّرَّاجُ ، قَالُوا: نا أَبُو الأَشْعَثِ ، قَالا: نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نا أَيُّوبُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" . قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ: إِذَا مَسَّ رُفْغَيْهِ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَاللَّفْظُ لأَبِي الأَشْعَثِ صَحِيحٌ.
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے، وہ وضو کرے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: عروہ یہ بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اپنی بودار جگہ یا اپنے خصیے کو چھو لے یا اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہیے۔“ یہ الفاظ ابواشعث کے نقل کردہ ہیں، اور یہ روایت مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 537]
ترقیم العلمیہ: 529
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 127، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 33، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1112، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 163، 446، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 181، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 82، 83، 84، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 751، 752، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 479، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 527، 528، 529، 530، 533، 536، 537، 539،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1113، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 355، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22100»
«قال البخاري: أحاديث الوضوء من مس الفرج أصحها حديث بسرة، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 188) _x000D_»
«قال البخاري: أحاديث الوضوء من مس الفرج أصحها حديث بسرة، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 188) _x000D_»
الحكم على الحديث:
صحیح
ترقیم العلمیہ : 530 ترقیم الرسالہ : -- 538
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبِي، يَقُولُ:" إِذَا مَسَّ رُفْغَيْهِ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ فَرْجَهُ فَلا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ" . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
ہشام بن عروہ یہ بیان کرتے ہیں: میرے والد یہ فرمایا کرتے تھے کہ ”جب کوئی شخص اپنی میل والی جگہ یا اپنے خصیے یا اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو وہ اس وقت تک نماز ادا نہ کرے، جب تک وضو نہ کر لے۔“ اس روایت کے تمام راوی مستند ہیں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 538]
ترقیم العلمیہ: 530
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 127، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 33، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1112، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 163، 446، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 181، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 82، 83، 84، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 751، 752، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 479، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 527، 528، 529، 530، 533، 536، 537، 539،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1113، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 355، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22100»
«قال الدارقطني: وهذا محفوظ من رواية هشام عن أبيه من قوله ليس فيه عائشة _x000D_»
«قال الدارقطني: وهذا محفوظ من رواية هشام عن أبيه من قوله ليس فيه عائشة _x000D_»
الحكم على الحديث:
صحیح
ترقیم العلمیہ : 531 ترقیم الرسالہ : -- 539
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، نا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًا ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ، وَقَدْ كَانَتْ صَحِبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ فَلا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ" .
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ یا اپنے خصیے کو چھو لے، تو وہ اس وقت تک نماز ادا نہ کرے، جب تک وضو نہ کر لے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 539]
ترقیم العلمیہ: 531
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 127، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 33، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1112، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 163، 446، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 181، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 82، 83، 84، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 751، 752، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 479، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 527، 528، 529، 530، 533، 536، 537، 539،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1113، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 355، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22100»
«قال البخاري: أحاديث الوضوء من مس الفرج أصحها حديث بسرة، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 188) _x000D_»
«قال البخاري: أحاديث الوضوء من مس الفرج أصحها حديث بسرة، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 188) _x000D_»
الحكم على الحديث:
صحیح
ترقیم العلمیہ : 532 ترقیم الرسالہ : -- 540
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُؤَسِّسُونَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَهُمْ يَنْقُلُونَ الْحِجَارَةَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نَنْقُلُ كَمَا يَنْقُلُونَ؟ قَالَ:" لا وَلَكِنِ اخْلِطْ لَهُمُ الطِّينَ يَا أَخَا الْيَمَامَةِ، فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ". فَجَعَلْتُ أَخْلِطُ لَهُمْ وَيَنْقِلُونَهُ .
سیدنا قیس بن طلق رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لوگ اس وقت مدینہ منورہ کی مسجد بنانے میں مصروف تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگ اس وقت پتھر منتقل کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا میں بھی اسی طرح نہ کروں، جیسے یہ لوگ (پتھر) منتقل کر رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! بلکہ تم انہیں گارا بنا دو، اے یمامہ کے رہنے والو! کیونکہ تم اس میں ماہر ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں بنا دیا اور وہ لوگ اسے لے کر جانے لگے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 540]
ترقیم العلمیہ: 532
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 540، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 8239»
«قال ابن رجب: محمد بن جابر فيه ضعف، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (2 / 481)»
«قال ابن رجب: محمد بن جابر فيه ضعف، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (2 / 481)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 533 ترقیم الرسالہ : -- 541
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ" . قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: سَأَلْتُ أَبِي، وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ هَذَا، فَقَالا: قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ لَيْسَ مِمَّنْ يَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ وَوَهَّنَاهُ، وَلَمْ يُثْبِتَاهُ.
سیدنا قیس بن طلق رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ سے شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے جسم کا حصہ ہے۔“ ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد (ابوحاتم) اور ابوشیخ زرعہ سے محمد بن جابر کی نقل کردہ اس روایت کے بارے میں دریافت کیا، تو دونوں نے جواب دیا: ”قیس بن طلق ایسے نہیں ہیں، جن کو مستند تسلیم کیا جائے۔“ تو ان دونوں حضرات نے اس راوی کو کمزور ظاہر کیا اور اسے مستند قرار نہیں دیا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 541]
ترقیم العلمیہ: 533
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 20، 21، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1119، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 165، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 182، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 85، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 483، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 541، 543، 544، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16543»
«قال ابن عبدالبر: محمد بن جابر يضعف، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (17 / 182)»
«قال ابن عبدالبر: محمد بن جابر يضعف، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (17 / 182)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 534 ترقیم الرسالہ : -- 542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ ، نا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، نا الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وكَانَ مِنَ الصَّالِحِينَ وَذَكَرَ مِنْ فَضْلِهِ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخَطْمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي احْتَكَكْتُ فِي الصَّلاةِ فَأَصَابَتْ يَدِي فَرْجِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أَفْعَلُ ذَلِكَ" .
ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے۔ ایک روایت میں یہ بات منقول ہے: عصمہ بن مالک حطمی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، انہوں نے یہ بات نقل کی ہے: ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے نماز کے دوران خارش ہوئی، میں نے خارش کی، تو میرا ہاتھ میری شرمگاہ کو لگ گیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(کبھی) میں بھی ایسا کر لیتا ہوں۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 542]
ترقیم العلمیہ: 534
تخریج الحدیث: «ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 542 , انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الزیلعی: هو حديث ضعيف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 85)»
«قال الزیلعی: هو حديث ضعيف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 85)»
الحكم على الحديث:
ضعيف
ترقیم العلمیہ : 535 ترقیم الرسالہ : -- 543
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ فَرْوَةَ الْبَلَدِيُّ أَبُو رَوْحٍ ، نا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ، فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ فِي الصَّلاةِ؟ فَقَالَ:" وَهَلْ هِيَ إِلا بَضْعَةٌ مِنْهُ أَوْ مُضْغَةٌ" . كَذَا قَالَ أَبُو رَوْحٍ.
قیس بن طلق اپنے والد سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم ایک وفد کی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی، ایک شخص آیا، وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آدمی کے نماز کے دوران اپنی شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) ”گوشت کا ٹکڑا ہے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 543]
ترقیم العلمیہ: 535
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 20، 21، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1119، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 165، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 160، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 182، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 85، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 483، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 541، 543، 544، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16543»
«قال ابن حجر: حديث صحيح او حسن، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 26)»
«قال ابن حجر: حديث صحيح او حسن، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 26)»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن صحيح
ترقیم العلمیہ : 536 ترقیم الرسالہ : -- 544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نا بُنْدَارٌ ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الْفَرَجِ، فَقَالَ:" بَضْعَةٌ مِنْكَ" . أَيُّوبُ مَجْهُولٌ.
سیدنا قیس بن طلق رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔“ اس روایت کا راوی ایوب، مجہول ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 544]
ترقیم العلمیہ: 536
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 20، 21، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1119، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 165، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 160، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 182، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 85، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 483، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 541، 543، 544، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16543»
«قال ابن حجر: حديث صحيح او حسن، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 26)»
«قال ابن حجر: حديث صحيح او حسن، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 26)»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن صحيح
ترقیم العلمیہ : 537 ترقیم الرسالہ : -- 545
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، نا رَجَاءُ بْنُ مَرْجَاءَ الْحَافِظُ ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ يَحْيَى يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: بِقَوْلِ الْكُوفِيِّينَ وَتَقَلَّدَ قَوْلَهُمْ، وَاحْتَجَّ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَقَالَ لِيَحْيَى: كَيْفَ تَتَقَلَّدَ إِسْنَادَ بُسْرَةَ، وَمَرْوَانُ أَرْسَلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: وَقَدْ أَكْثَرَ فِي النَّاسِ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَلا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كِلا الأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا، فَقَالَ يَحْيَى: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ" . فَقَالَ فَقَالَ عَلِيُّ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " لا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ" ، فَقَالَ يَحْيَى: عَنْ مَنْ؟ قَالَ: سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ، فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ: نَعَمْ وَلَكِنْ أَبُو قَيْسٍ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ. فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ" مَا أُبَالِي مَسَسْتُهُ أَوْ أَنْفِي". فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارٌ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا.
رجاء بن مرجی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم مسجد خیف میں اکٹھے ہوئے، جن میں احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور یحییٰ بن معین تھے، ان لوگوں کے درمیان شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں بحث چھڑ گئی، تو یحییٰ نے کہا: ”اس کے بعد وضو کیا جائے گا۔“ علی بن مدینی نے اہل کوفہ کے قول کے مطابق رائے بیان کی اور ان کے قول کی تقلید کی۔ یحییٰ بن معین نے اپنے موقف کی تائید میں بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کی، جبکہ علی بن مدینی نے اپنے موقف کی تائید میں قیس بن طلق کی روایت نقل کی۔ انہوں نے یحییٰ سے کہا: ”تم بسرہ کی سند کی کیسے پیروی کر سکتے ہو، جبکہ مروان (جو مدینہ کا گورنر تھا) نے ایک سپاہی کو بھیجا تھا، یہاں تک کہ وہ سپاہی اس خاتون کا جواب لے کر مروان کے پاس آیا تھا۔“ تو یحییٰ نے کہا: ”اکثر لوگوں نے قیس بن طلق پر تنقید کی ہے اور ان کی روایت کو مستند قرار نہیں دیا۔“ تو امام احمد بن حنبل نے کہا: ”آپ دونوں نے جو بات بیان کی، واقعہ ایسا ہے۔“ یحییٰ مہدی نے امام مالک کے حوالے سے نافع کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”اس کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں ہے، یہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔“ تو یحییٰ نے دریافت کیا: ”یہ بات کس نے نقل کی ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ سفیان نے ابوقیس کے حوالے سے ہزیل کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات نقل کی ہے۔“ تو جب بھی کسی معاملے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے مختلف ہو، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود اس بات کے زیادہ مستحق ہوں گے کہ ان کی پیروی کی جائے۔ تو امام احمد بن حنبل نے ان سے فرمایا کہ ”ایسا ہی ہے۔“ لیکن ابوقیس کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تو انہوں نے کہا: ”ابونعیم نے معمر کے حوالے سے، عمیر کے حوالے سے، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں: ”مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے، میں اسے (شرمگاہ کو) چھوؤں یا اپنی ناک کو چھوؤں۔“ تو امام احمد بن حنبل نے یہ کہا: ”سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں ایک ہی مرتبہ کے ہیں، تو جو شخص چاہے وہ ان کی رائے کو اختیار کرے اور جو شخص چاہے وہ ان کی رائے کو اختیار کرے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 545]
ترقیم العلمیہ: 537
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 545»
ترقیم العلمیہ : 538 ترقیم الرسالہ : -- 546
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا أَبُو الرَّبِيعِ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، نا حُصَيْنٌ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : " مَا أُبَالِي مَسِسْتُ ذَكَرِي أَوْ مَسِسْتُ أَنْفِي أَوْ أُذُنِي وَأَنَا فِي الصَّلاةِ" .
شقیق بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: ”میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا، میں نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا ہے یا اپنی ناک کو چھو لیا ہے، جبکہ میں نماز کی حالت میں ہوں۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 546]
ترقیم العلمیہ: 538
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 546، 547، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 429، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1751، 1760، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 482، 485، 487، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 9218»