سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
11. بَابُ إِمَامَةِ جَبْرَائِيلَ
باب: حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
ترقیم العلمیہ : 996 ترقیم الرسالہ : -- 1009
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ:" جَاءَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ، فَجَاءَهُ الْعَصْرَ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ فَصَلاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ، فَقَامَ فَصَلاهَا، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ، فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ، قَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت سورج ڈھل چکا تھا اور بولے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر کچھ وقت گزر گیا اتنا کہ جب کسی شخص کا سایہ اس کے جتنا ہو جاتا تو وہ عصر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو جبرائیل علیہ السلام بولے: ”اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کی جب سورج مکمل غروب ہو چکا تھا، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ شفق رخصت ہو گئی، تو جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے یہ نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب صبح صادق ہو چکی تھی، وہ بولے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کی، اگلے دن جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ظہر کے وقت اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے جتنا ہو چکا تھا، اور بولے: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس سے دوگنا ہو چکا ہوتا ہے اور بولے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، یہ وہی ایک ہی وقت تھا (اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی) وہ بولے: ”اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجیے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب ایک تہائی رات گزر چکی تھی اور بولے: ”اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی، اور بولے: ”اٹھیے اور صبح کی نماز ادا کیجیے۔“ پھر انہوں نے بتایا: ”ان دونوں کے درمیان کا وقت (نمازوں کا مخصوص شرعی) وقت ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1009]
ترقیم العلمیہ: 996
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 997 ترقیم الرسالہ : -- 1010
ثنا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، ثنا جَابِرٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1010]
ترقیم العلمیہ: 997
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 998 ترقیم الرسالہ : -- 1011
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثُ ، ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الصَّلاةَ، فَجَاءَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَارَ الظِّلُّ مثل قَامَةِ شَخْصِ الرَّجُلِ، فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ وَقْتٌ، قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ، فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا صَلَّى بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاةِ؟ مَا بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ وَقْتٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز کے بارے میں بتائیں وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام آگے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اگلے دن جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا جبرائیل آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس روایت کے آخر میں یہ ہے: جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”ان دونوں نمازوں کے درمیان (نمازوں کا شرعی) وقت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں (کے اوقات) کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح نماز پڑھائی جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھائی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں (اوقات کے) کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1011]
ترقیم العلمیہ: 998
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 999 ترقیم الرسالہ : -- 1012
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ . ح وَثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ:" وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فِي وَقْتِهَا بِالأَمْسِ" . حَدِيثُ صَالِحِ بْنِ مَالِكٍ مُخْتَصَرٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل نے مکہ میں مجھے دو بار نماز پڑھائی۔“ اس کے بعد انہوں نے حدیث ذکر کی ہے، جس میں ان کے یہ الفاظ ہیں: ”اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا، اگلے دن بھی مغرب کی نماز اس وقت میں ادا کی جس وقت میں پہلے دن ادا کی تھی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1012]
ترقیم العلمیہ: 999
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1000 ترقیم الرسالہ : -- 1013
حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ يَوْمًا بِهَذَا وَيَوْمًا بِهَذَا ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاةَ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں اوقات میں نماز پڑھائی ایک دن اس وقت میں اور ایک دن اس وقت میں اور ارشاد فرمایا: ”نماز کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں اوقات کے درمیان (نمازوں کا مخصوص وقت) ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1013]
ترقیم العلمیہ: 1000
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1001 ترقیم الرسالہ : -- 1014
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ومُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ مَرَّتَيْنِ عِنْدَ الْبَيْتِ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي:" وَصَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَقْتًا وَاحِدًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ مجھے نماز پڑھائی۔“ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں دوسرے دن کے بارے میں انہوں نے یہ بات نقل کی ہے: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) ”انہوں نے مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ افطاری کر لیتا ہے یہ ایک ہی وقت تھا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1014]
ترقیم العلمیہ: 1001
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 325، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 698، 704، 705، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 393، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 149، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1732، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1014، 1015، 1016، 1017، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3140»
ترقیم العلمیہ : 1002 ترقیم الرسالہ : -- 1015
ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ جَبْرَائِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ إِلا الْمَغْرِبَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام نمازیں دو اوقات میں پڑھائیں البتہ مغرب کی نماز (ایک ہی وقت میں پڑھائی)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1015]
ترقیم العلمیہ: 1002
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 325، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 698، 704، 705، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 393، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 149، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1732، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1014، 1015، 1016، 1017، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3140»
ترقیم العلمیہ : 1003 ترقیم الرسالہ : -- 1016
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا بِطُولِهِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1016]
ترقیم العلمیہ: 1003
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 325، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 698، 704، 705، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 393، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 149، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1732، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1014، 1015، 1016، 1017، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3140»
ترقیم العلمیہ : 1004 ترقیم الرسالہ : -- 1017
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا جَدِّي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ، فَجَاءَنِي فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ فَذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ"، وَقَالَ:" ثُمَّ جَاءَنِي حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِي الْمَغْرِبَ، وَكَذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي وَقْتًا وَاحِدًا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بیان کی ہے: ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے مکہ میں دو مرتبہ نماز پڑھائی۔“ پہلی مرتبہ وہ میرے پاس آئے پھر انہوں نے نماز کے اوقات کا ذکر کیا (اس کے بعد روایت میں یہ الفاظ ہیں): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا انہوں نے مجھے مغرب کی نماز پڑھائی اس طرح دوسرے دن بھی اسی وقت میں پڑھائی جو ایک ہی وقت تھا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1017]
ترقیم العلمیہ: 1004
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 325، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 698، 704، 705، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 393، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 149، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1732، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1014، 1015، 1016، 1017، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3140»
ترقیم العلمیہ : 1005 ترقیم الرسالہ : -- 1018
ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالُوا: ثنا حُمَيْدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الرَّبِيعِ ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ وَاقِدٍ مَوْلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَانِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ:" ثُمَّ أَتَانِي حِينَ سَقَطَ الْقُرْصُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ، فَصَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَتَانِي مِنَ الْغَدِ حِينَ سَقَطَ الْقُرْصُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ، فَصَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ" . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل علیہ السلام میرے پاس اس وقت آئے جب صبح صادق ہو چکی تھی۔“ (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے) مغرب کی نماز کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”پھر وہ میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا اور بولے: اٹھیے اور نماز ادا کیجیے، تو میں نے مغرب کی تین رکعت ادا کر لیں پھر وہ اگلے دن میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا اور بولے: اٹھیے اور نماز ادا کیجیے تو میں نے مغرب کی تین رکعت ادا کیں۔“ راوی نے اس روایت کو طویل حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1018]
ترقیم العلمیہ: 1005
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1018، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«ضعيف، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) _x000D_»
«ضعيف، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) _x000D_»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف