🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ إِمَامَةِ جَبْرَائِيلَ
باب: حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1006 ترقیم الرسالہ : -- 1019
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَنَسٍ ، ثنا حَاتِمُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُلْهِيهِ عَنْ صَلاةِ الْمَغْرِبِ طَعَامٌ وَلا غَيْرُهُ" .
سیدنا امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: کھانا یا کوئی اور مصروفیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مغرب کی نماز میں تاخیر نہیں کرتی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1019]
ترقیم العلمیہ: 1006
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3758، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5123، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1019، 1020، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5889، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 829، هذا حديث ضعيف لا يثبت فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 101)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1007 ترقیم الرسالہ : -- 1020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِجَابِرٍ تَأْخِيرَ الْمَغْرِبِ مِنْ أَجْلِ عَشَائِهِ، فَقَالَ جَابِرٌ :" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُؤَخِّرُ صَلاةً لِطَعَامٍ وَلا غَيْرِهِ" .
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر سے رات کے کھانے کی وجہ سے مغرب کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے یا کسی بھی اور کام کی وجہ سے (مغرب کی) نماز تاخیر سے ادا نہیں کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1020]
ترقیم العلمیہ: 1007
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3758، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5123، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1019، 1020، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5889، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 829، هذا حديث ضعيف لا يثبت فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 101)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1008 ترقیم الرسالہ : -- 1021
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، أنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" بَادِرُوا بِصَلاةِ الْمَغْرِبِ طُلُوعَ النَّجْمِ" .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ستارے نکلنے سے پہلے ہی مغرب کی نماز ادا کر لو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1021]
ترقیم العلمیہ: 1008
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1021، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24004، 24064، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 601، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3351، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4057، 4058، 4059، 863»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1009 ترقیم الرسالہ : -- 1022
ثنا أَبُو طَالِبِ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ طَالِبٍ ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ إِدْرِيسُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَنَّاقٍ الْفَرَّاءُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جِدَارٍ ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلنَّاسِ بِالصَّلاةِ حِينَ فُرِضَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَامَ جَبْرَائِيلُ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا النَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لا يَجْهَرُ فِيهَا بِقِرَاءَةٍ، يَأْتَمُّ النَّاسُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأْتَمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرَائِيلَ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا دَخَلَ وَقْتُ الْعَصْرِ صَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لا يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، يَأْتَمُّ الْمُسْلِمُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأْتَمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرَائِيلَ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ صَلَّى بِهِمْ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ وَلا يَجْهَرُ فِي الثَّالِثَةِ، ثُمَّ أَمْهَلَهُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ صَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَجْهَرُ فِي الأُولَيَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ وَلا يَجْهَرُ فِي الأُخْرَيَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب سورج ڈھل چکا تھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب نماز لوگوں پر فرض ہو گئی تھی، جبرائیل علیہ السلام آپ کے آگے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے چار رکعت نماز ادا کی جس میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے پھر اس کے بعد وقت گزرا جب عصر کا وقت آیا تو جبرائیل علیہ السلام نے ان لوگوں کو چار رکعت پڑھائیں انہوں نے اس میں بھی بلند آواز میں قراءت نہیں کی، مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کرتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو انہوں نے لوگوں کو تین رکعت پڑھائیں جن میں سے پہلی دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی اور تیسری رکعت میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، تو انہوں نے لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھائی جن میں سے پہلی دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی اور آخری دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ صبح صادق ہوئی تو انہوں نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور انہوں نے ان دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1022]
ترقیم العلمیہ: 1009
تخریج الحدیث: «مرسل، أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2555، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1022»

الحكم على الحديث: [مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1010 ترقیم الرسالہ : -- 1023
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ، مُرْسَلا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1023]
ترقیم العلمیہ: 1010
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1023، وأبو داود فى "المراسيل"، 12»
«قال ابن حجر: مرسل، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307) _x000D_»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1011 ترقیم الرسالہ : -- 1024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ ، ثنا أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ التُّوزِيُّ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثنا ابْنُ نَمِرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ فَقَدَّمَ ثُمَّ أَخَّرَ، وَقَالَ:" بَيْنَهُمَا وَقْتٌ" .
سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے پہلے ابتدائی وقت میں نماز ادا کی، پھر آخری وقت میں نماز ادا کی اور فرمایا: ان دونوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1024]
ترقیم العلمیہ: 1011
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 706، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1024»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1012 ترقیم الرسالہ : -- 1025
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ الدَّقَّاقُ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ" أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ، يَعْنِي زَالَتْ، ثُمَّ ذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ، وَقَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ، فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ، فَصَلَّى" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا (اس کے بعد راوی نے اس میں نمازوں کے اوقات کا ذکر کیا ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے): پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، اور بولے: اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر وہ اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا (یعنی مغرب کی نماز کا) وقت ایک ہی تھا وہ بولے: اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1025]
ترقیم العلمیہ: 1012
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 610، 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 352، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1448،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 697، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 493، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1494، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1723، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 456، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17364، 22785»
«قال محمد بن عبد الباقي الزرقاني: فذكره منقطعا لكن رواه الطبرا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1013 ترقیم الرسالہ : -- 1026
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ يُعَلِّمُكُمْ دِينِكُمْ"، فَصَلَّى وَذَكَرَ حَدِيثَ الْمَوَاقِيتِ، وَقَالَ فِيهِ:" ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔ پھر آپ نے نماز ادا کی۔ اس کے بعد راوی نے نمازوں کے اوقات سے متعلق روایت ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا دوسرے دن کے بارے میں راوی نے یہ بات نقل کی ہے: پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اگلے دن حاضر ہوئے اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1026]
ترقیم العلمیہ: 1013
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
«‏‏‏‏قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1014 ترقیم الرسالہ : -- 1027
ثنا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي، نا أحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا أحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، نا محَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ:" ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدَ فَصَلَّى لَهُ الْمَغْرِبَ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: پھر وہ اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو مغرب کی نماز ایک ہی وقت میں پڑھائی جب سورج غروب ہو چکا تھا اور جس وقت روزہ دار کے لیے افطاری کرنا جائز ہو جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1027]
ترقیم العلمیہ: 1014
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
«‏‏‏‏قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1015 ترقیم الرسالہ : -- 1028
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، نا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَاهُ فَصَلَّى الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ وَقْتَيْنِ إِلا الْمَغْرِبَ، قَالَ:" فَجَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ، فَصَلَّى بِي سَاعَةً حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَنِي، يَعْنِي مِنَ الْغَدِ فِي الْمَغْرِبِ، فَصَلَّى فِي سَاعَةِ غَابَتِ الشَّمْسُ لَمْ يُغَيِّرْهُ" .
محمد بن عمار نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے، انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ بات بتائی: جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تمام نمازیں مختلف اوقات میں پڑھائیں البتہ مغرب کی نماز (ایک ہی وقت میں پڑھائی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مغرب کے وقت میرے پاس آئے اور مجھے اس وقت نماز پڑھائی جب سورج غروب ہو چکا تھا پھر وہ میرے پاس آئے (یعنی راوی کہتے ہیں: اگلے دن) مغرب کی نماز کے وقت انہوں نے اسی ایک وقت میں نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوا تھا اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1028]
ترقیم العلمیہ: 1015
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
«‏‏‏‏قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں