سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
11. بَابُ إِمَامَةِ جَبْرَائِيلَ
باب: حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
ترقیم العلمیہ : 1016 ترقیم الرسالہ : -- 1029
نا ابْنُ الصَّوَّافِ ، نا الْحَسَنُ بْنُ فِهْرِ بْنِ حَمَّادِ الْبَزَّازُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" لَمَّا فُرِضَتِ الصَّلاةُ نزل جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ، وَذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ، وَقَالَ: فَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي: فَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نماز فرض ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو ظہر کی نماز پڑھائی اس کے بعد راوی نے نمازوں کے اوقات کا تذکرہ کیا جس میں یہ الفاظ ہیں: جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا تھا دوسرے دن کے بارے میں راوی نے یہی الفاظ نقل کیے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1029]
ترقیم العلمیہ: 1016
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1029، انفرد به المصنف من هذا الطريق، قال ابن حجر: إسناد حسن لكن فيه عنعنة ابن إسحاق التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 307/1»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 1017 ترقیم الرسالہ : -- 1030
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلصَّلاةِ أَوَّلا وَآخِرًا، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الأُفُقُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الأُفُقُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ" . هَذَا لا يَصِحُّ مُسْنَدًا، وَهِمَ فِي إِسْنَادِهِ ابْنُ فُضَيْلٍ، وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، مُرْسَلا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نماز کا ایک ابتدائی وقت ہوتا ہے اور ایک آخری وقت ہوتا ہے، ظہر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جاتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، عصر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب وہ شروع ہوتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج زرد ہو جاتا ہے، مغرب کا ابتدائی وقت وہ ہے جب سورج غروب ہو جاتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جاتا ہے عشاء کا ابتدائی وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جاتی ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب نصف رات گزر جاتی ہے فجر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب صبح صادق ہو جاتی ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل آتا ہے۔“ یہ روایت مسند ہونے کے طور پر مستند نہیں ہے دیگر راویوں نے اسے مجاہد کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1030]
ترقیم العلمیہ: 1017
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
«قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
«قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 1018 ترقیم الرسالہ : -- 1031
نا أبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، نا زائِدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: إِنَّ لِلصَّلاةِ أَوَّلا وَآخِرًا، ثُمَّ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ قَوْلِ ابْنِ فُضَيْلِ، وَقَدْ تَابَعَ زَائِدَةَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ.
مجاہد کہتے ہیں: یہ بات بیان کی گئی ہے: ”نماز کا ایک ابتدائی وقت ہوتا ہے اور ایک آخری وقت ہوتا ہے۔“ پھر انہوں نے یہ حدیث ذکر کی ہے یہ روایت پہلے نقل کردہ روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1031]
ترقیم العلمیہ: 1018
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
«قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
«قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 1019 ترقیم الرسالہ : -- 1032
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ:" أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ تَكُونُ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ إِلَى أَنْ تَحْضُرَ الْمَغْرِبُ" .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مجاہد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”عصر کا ابتدائی وقت وہ ہوتا ہے جب سورج چمکدار ہوتا ہے یہاں تک کہ مغرب کا وقت آ جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1032]
ترقیم العلمیہ: 1019
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1032، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 1020 ترقیم الرسالہ : -- 1033
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ، فَقَالَ:" صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلالا حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ؟ فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقْتُ صَلاتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ" .
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم دو دن ہمارے ساتھ نماز ادا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال کو اذان دینے کا اس وقت حکم دیا جب سورج ڈھل چکا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جب کہ سورج ابھی بلند روشن اور چمک دار تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہو چکی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب صبح صادق طلوع ہو چکی تھی۔ جب دوسرا دن آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کریں تو انہوں نے اسے ٹھنڈے وقت میں ادا کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جب کہ سورج ابھی بلند تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن پہلے دن کے مقابلے میں اس نماز کو ذرا تاخیر سے ادا کیا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تو انہوں نے مغرب کی نماز کے لیے اقامت کہی اس وقت جب ابھی شفق غروب نہیں ہوئی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کے لیے اقامت کہی اس وقت جب روشنی پھیل چکی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ تمہاری نماز کے اوقات ان دونوں کے درمیان میں ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1033]
ترقیم العلمیہ: 1020
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 613،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 323، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 518، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1527، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 667، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1033، 1034، 1035، 1036، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23421»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)_x000D_»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)_x000D_»
الحكم على الحديث: صحیح
ترقیم العلمیہ : 1021 ترقیم الرسالہ : -- 1034
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، نا سُفْيَانُ ، بِهَذَا مُخْتَصَرًا فِي وَقْتَيِ الْمَغْرِبِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1034]
ترقیم العلمیہ: 1021
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 613،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 323، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 518، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1527، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 667، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1033، 1034، 1035، 1036، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23421»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)_x000D_»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)_x000D_»
الحكم على الحديث: صحیح
ترقیم العلمیہ : 1021M ترقیم الرسالہ : -- 1035
وَنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْتَهَامُ ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1035]
ترقیم العلمیہ: 1021M
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 613،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 323، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 518، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1527، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 667، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1033، 1034، 1035، 1036، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23421»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)_x000D_»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)_x000D_»
الحكم على الحديث: صحیح
ترقیم العلمیہ : 1022 ترقیم الرسالہ : -- 1036
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا عَلِيُّ ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ" ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ" .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مغرب کی نماز کے لیے اقامت کا حکم دیا اس وقت جب سورج غروب ہو چکا تھا پھر اگلے دن مغرب کی نماز کے لیے اقامت کا حکم دیا اس وقت جب شفق ابھی غروب نہیں ہوئی تھی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1036]
ترقیم العلمیہ: 1022
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 613،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 323، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 518، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1527، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 667، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1033، 1034، 1035، 1036، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23421»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)_x000D_»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)_x000D_»
الحكم على الحديث: صحیح
ترقیم العلمیہ : 1023 ترقیم الرسالہ : -- 1037
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَاهُ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، فَأَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ بِالْفَجْرِ وَالنَّاسُ لا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: انْتَصَفَ النَّهَارُ أَوْ لَمْ وَكَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَبَعَثَ فَدَعَى السَّائِلَ، فَقَالَ:" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ" .
ابوبکر بن موسیٰ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ نقل کرتے ہیں: ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے سیدنا بلال کو ہدایت کی تو انہوں نے فجر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب صبح صادق ہو چکی تھی، اور اس وقت کوئی شخص اندھیرے کی وجہ سے ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے ظہر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج ڈھل چکا تھا، اور آدمی یہ اندازہ لگاتا تھا کہ نصف النہار ہو چکا ہے، یا نہیں ہوا ہے ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں زیادہ علم تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عصر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج بلند ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہو چکی تھی۔ پھر اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آدمی یہ کہہ سکتا تھا کہ سورج طلوع ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کا تاخیر سے ادا کیا یہاں تک کہ اسے پہلے دن کی عصر کی نماز کے قریب میں ادا کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا جب آپ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آدمی یہ کہہ سکتا تھا، سورج سرخ ہو چکا ہے (یعنی دھوپ ماند پڑ چکی ہے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا یہاں تک کہ وہ شفق غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے ادا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو اتنی تاخیر سے ادا کیا ایک تہائی رات گزر چکی تھی اگلے دن صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے شخص کو بلوایا اور فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان (ان نمازوں کا) وقت ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1037]
ترقیم العلمیہ: 1023
تخریج الحدیث: «حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 614، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 522، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1511، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 395، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1744،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1037، 1038، 1039، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20047»
«قال البخاري: حسن، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) _x000D_»
«قال البخاري: حسن، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) _x000D_»
الحكم على الحديث: حسن
ترقیم العلمیہ : 1024 ترقیم الرسالہ : -- 1038
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَائِلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الصَّلاةَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، قَالَ: وَصَلَّى الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ، وَصَلَّى الظُّهْرَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الأَوَّلَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟ الْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ" .
ابوبکر بن ابوموسیٰ اپنے والد سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تو انہوں نے صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جب صبح صادق ہو چکی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز ادا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے ظہر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب آدمی یہ سوچتا ہے کہ سورج ڈھل چکا ہے یا ابھی نہیں ڈھلا، ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں زیادہ علم ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی اس وقت جب سورج ابھی بلند تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہو چکی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اس وقت ادا کی جب آدمی یہ سوچتا تھا کہ سورج نکل آیا ہے یا ابھی نہیں نکلا، ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں زیادہ پتا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دن میں عصر کی نماز ادا کی تھی جب آپ نے عصر کی نماز ادا کی تو آدمی یہ سوچتا ہے کہ سورج تو سرخ ہو چکا ہے، یعنی دھوپ ماند پڑ گئی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز شفق غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے ادا کی پھر عشاء کی نماز آپ نے ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد ادا کی پھر آپ نے دریافت کیا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان (نمازوں کا مخصوص) وقت ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1038]
ترقیم العلمیہ: 1024
تخریج الحدیث: «حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 614، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 522، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1511، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 395، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1744،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1037، 1038، 1039، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20047»
«قال البخاري: حسن، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) _x000D_»
«قال البخاري: حسن، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) _x000D_»
الحكم على الحديث: حسن