سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
59. بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ
باب: نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
ترقیم العلمیہ : 1381 ترقیم الرسالہ : -- 1398
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا كَانَتَا شَفْعًا لِصَلاتِهِ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى تَمَامَ الأَرْبَعِ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو نماز کے دوران شک ہو جائے اور اسے اندازہ نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں، تین یا چار، تو وہ شک کو ایک طرف رکھ دے اور جس پر یقین ہو، اس پر بنیاد رکھے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعت ادا کی ہوں گی، تو اس میں سے جفت تعداد اس کی نماز ہو جائے گی، اور اگر اس نے چار رکعت ادا کی ہوں گی، تو یہ دونوں (سجدے) شیطان کے لیے رسوائی کا باعث ہوں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1398]
ترقیم العلمیہ: 1381
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»
ترقیم العلمیہ : 1382 ترقیم الرسالہ : -- 1399
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلاتِهِ وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنیاد رکھے اور جب وہ یقینی طور پر مکمل نماز ادا کرے (تو آخر میں) دو مرتبہ سجدہ سہو کرے، اگر اس کی نماز مکمل ہو گی، تو ایک رکعت اور دو سجدے اس کے لیے نفل کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور اگر اس کی نماز پہلے نامکمل تھی، تو اس ایک رکعت کے ذریعے اس کی نماز مکمل ہو جائے گی اور سہو کے دونوں سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1399]
ترقیم العلمیہ: 1382
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»
ترقیم العلمیہ : 1383 ترقیم الرسالہ : -- 1400
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ابْنِ أَخِي أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى أَرْبَعًا أَوْ ثَلاثًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، ثُمَّ لِيَقُمْ فَيُصَلِّي رَكْعَةً ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ أَرْبَعًا وَقَدْ زَادَ رَكْعَةً كَانَتْ هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ تُشْفِعَانِ الْخَامِسَةَ، وَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ ثَلاثًا كَانَتِ الرَّابِعَةُ تَمَامَهَا وَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے اور اسے یہ اندازہ نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں: چار یا تین؟ تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنیاد رکھے، پھر اٹھ کر قرات کرے اور ایک رکعت ادا کرے، پھر جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھ رہا ہو)، تو سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پہلے چار رکعت ادا کی تھی، تو اب اس کی ایک رکعت زائد ہو جائے گی اور یہ دونوں سجدے اسے جفت کر دیں گے، جو پانچویں رکعت تھی اور اگر اس نے پہلے تین رکعت ادا کی تھیں، تو چوتھی رکعت اسے مکمل کر دے گی اور سہو کے دونوں سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1400]
ترقیم العلمیہ: 1383
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»
ترقیم العلمیہ : 1384 ترقیم الرسالہ : -- 1401
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَإِنِ اسْتَيْقَنَ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى ثَلاثًا فَلْيُصَلِّ وَاحِدَةً بِرَكْعَتِهَا وَسَجْدَتَيْهَا، ثُمَّ لِيَتَشَهَّدْ فَإِذَا فَرَغَ فَلَمْ يَبْقَ إِلا أَنْ يُسَلِّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى ثَلاثًا وَكَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى رَابِعَةً كَانَتِ السَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا وَكَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِسَجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، اگر اسے یہ یقین ہو کہ وہ تین رکعت ادا کر چکا ہے، تو وہ مزید ایک رکعت ادا کرے اور دو سجدے کرے، پھر اس کے بعد تشہد میں بیٹھے اور پھر جب اس سے فارغ ہو جائے اور کچھ پڑھنے کے لیے باقی نہ رہ جائے، صرف سلام پھیرنا ہو، اس وقت وہ دو سجدے سہو کر لے، پھر وہ سلام پھیر دے، اگر اس نے تین رکعت ادا کی تھی، تو اب جو رکعت ادا کی ہے، وہ چوتھی رکعت ہو جائے گی اور سجدہ سہو کے دونوں سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے اور اگر اس نے پہلے چار رکعت ادا کی تھی، تو اب جو اس نے ادا کی ہے، اس کے ساتھ یہ پانچویں ہو جائے گی اور یہ دونوں سجدے اس پانچویں رکعت کو جفت کر دیں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1401]
ترقیم العلمیہ: 1384
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2668، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 587، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1401، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 5285»
ترقیم العلمیہ : 1385 ترقیم الرسالہ : -- 1402
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو ، وَكَانَ مِنَ النُّقَبَاءِ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ" .
عبدالمہیمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یہ صحابی بنو ساعدہ کے نقباء میں سے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا تھا، ایک قول کے مطابق سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف یہی ایک روایت منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1402]
ترقیم العلمیہ: 1385
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1402، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 1386 ترقیم الرسالہ : -- 1403
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ بَكْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يُسَلِّمُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اسے اندازہ نہ ہو سکے، اس نے زیادہ رکعت ادا کر لی ہے یا کم ادا کی ہیں؟ تو وہ دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد کے دوران ایسا کرے)، پھر اس کے بعد وہ سلام پھیر دے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1403]
ترقیم العلمیہ: 1386
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 608، 1222، 1231، 1232، 3285، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 389، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 223، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 392، 1020، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 16، 1662، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 669، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 516، 1030، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 397، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1240، 1535، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1216، 1217، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1403، 1404، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7406، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 977، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 5958»
«قال ابن حجر: إسناده قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 124)»
«قال ابن حجر: إسناده قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 124)»
الحكم على الحديث: صحيح