🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ
باب: نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1372 ترقیم الرسالہ : -- 1388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْجَمَّالِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كُلَيْبَةٌ وَحِمَارٌ لَنَا، فَمَا نَهْنَهَهُمَا وَمَا رَدَّهُمَا" .
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم اپنی رہائش گاہ میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، آپ کے سامنے سے چھوٹا کتا اور گدھا گزرے، جو ہمارے (پالتو) تھے، لیکن ہم نے انہیں روکا نہیں اور انہیں واپس نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1388]
ترقیم العلمیہ: 1372
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 752، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 831، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 718، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1386، 1387، 1388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1822»
«قال ابن حزم: هذا باطل والعباس بن عبيد الله لم يدرك عمه الفضل، تحفة التحصيل في المراسيل: (1 / 229) _x000D_»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1373 ترقیم الرسالہ : -- 1389
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الأَبْرَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الصَّلاةِ فَأَتَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ: أَلا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز کے کسی مسئلے پر گفتگو کر رہا تھا، اسی دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ہمارے پاس تشریف لائے، انہوں نے فرمایا: کیا میں آپ لوگوں کو وہ حدیث سناؤں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب کسی شخص کو نماز میں کسی کمی کے بارے میں شک ہو، تو وہ اتنی نماز ادا کرے کہ وہ شک اضافے کے بارے میں ہو جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1389]
ترقیم العلمیہ: 1373
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال ابن حجر: في إسناده إسماعيل بن مسلم المكي وهو ضعيف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 306)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1374 ترقیم الرسالہ : -- 1390
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلا يَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ، فَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً، وَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الثَّلاثِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ، وَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلاثًا، حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ" . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: قَالَ لِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَسْنَدَ لَكَ مَكْحُولٌ هَذَا الْحَدِيثَ، قُلْتُ: مَا سَأَلْتُهُ، قَالَ: فَإِنَّهُ ذَكَرَهُ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.
مکحول بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو اور اسے یہ اندازہ نہ ہو سکے کہ اس نے زیادہ (رکعات) پڑھ لی ہیں یا کم پڑھی ہیں، تو اگر شک ایک رکعت یا دو رکعت کے بارے میں ہو، تو اسے ایک سمجھے، اگر دو اور تین ہونے کے بارے میں ہو، تو اسے دو سمجھے، اگر تین اور چار ہونے کے بارے میں ہو، تو اسے تین سمجھے، یہاں تک کہ اسے وہم زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1390]
ترقیم العلمیہ: 1374
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«: (1 / 306)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1375 ترقیم الرسالہ : -- 1391
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کی نماز کی رکعت تین یا چار ہونے کے بارے میں شک ہو، وہ نماز کو مکمل کر لے (یعنی ایک مزید رکعت ادا کر لے) کیونکہ اس میں اضافہ ہو جانا اس میں کمی رہ جانے سے بہتر ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1391]
ترقیم العلمیہ: 1375
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«: (1 / 306)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1375M ترقیم الرسالہ : -- 1392
وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ أَبُو بَكْرٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، ثنا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ الْعَنْبَرِيُّ يَنْزِلُ الرَّهَا، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَهَى فِي ثَلاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ فَلْيُتِمَّ، فَإِنَّ الزِّيَادَةَ خَيْرٌ مِنَ النُّقْصَانِ" .
یعقوب بن ابراہیم البزاز، ابوبکر نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے جعفر بن محمد بن فضیل سے روایت کی، انہوں نے عمار بن مطر العنبری (جو رحا میں آتے تھے) سے روایت کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے کریب (ابن عباس کے غلام) سے، انہوں نے ابن عباس سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص نماز میں تین یا چار (رکعتوں) پر غفلت کر جائے، تو وہ نماز کو پورا کر لے، کیونکہ زیادہ کرنا کم کرنے سے بہتر ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1392]
ترقیم العلمیہ: 1375M
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال الذھبي: فيه عمار بن مطر الرهاوي وقد تركوه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (7 / 312) _x000D_»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1376 ترقیم الرسالہ : -- 1393
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّهَاوِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ثنا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَهَى أَحَدُكُمْ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوِ الْوَاحِدَةِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوِ الثَّلاثِ فَلْيَجْعَلْهَا اثْنَتَيْنِ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلاثِ أَوِ الأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلاثًا، ثُمَّ لِيُتِمَّ مَا بَقِيَ حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ، وَلا يَكُونَ فِي النُّقْصَانِ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کسی شخص کو دو یا ایک رکعت کے بارے میں غلطی لگ جائے، تو وہ اسے ایک سمجھے اور جب اسے دو یا تین کے بارے میں شک ہو، تو وہ انہیں دو سمجھے اور جب اسے تین یا چار کے بارے میں شک ہو، تو وہ انہیں تین سمجھے اور پھر باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کر لے، یہاں تک کہ اسے وہم زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو، کمی کے بارے میں نہ ہو، اس کے بعد جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھ رہا ہو) اس وقت دو سجدے کرے (یعنی سجدہ سہو کرے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1393]
ترقیم العلمیہ: 1376
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال الذھبی: فيه عمار بن مطر الرهاوي وقد تركوه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (7 / 312)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1377 ترقیم الرسالہ : -- 1394
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ" أَنَّهُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ يَوْمَ جَاءَهُ ذُو الْيَدَيْنِ بَعْدَ السَّلامِ" . لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں: جس دن سیدنا ذوالیدین آپ کے پاس آئے تھے (یعنی جس دن انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سہو ہو جانے کے بارے میں بتایا) اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے تھے۔ ان دونوں روایات کا لفظ ایک ہی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1394]
ترقیم العلمیہ: 1377
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309، 310، 311، 312، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1378 ترقیم الرسالہ : -- 1395
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالا: نا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ثنا قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ بَعْدَ السَّلامِ" . وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ذوالیدین (کے توجہ دلانے والے دن) سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کیا تھا۔ روایت کے یہ الفاظ احمد بن عبدالرحمن کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1395]
ترقیم العلمیہ: 1378
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309، 310، 311، 312، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1379 ترقیم الرسالہ : -- 1396
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ثُمَّ يَسْجُدُ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلاتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَرْبَعًا أَرْغَمَتَا أَنْفَ الشَّيْطَانِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کسی شخص کو اندازہ نہ ہو سکے کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں، تین یا چار، تو وہ مزید ایک رکعت پڑھ لے اور پھر اس کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدے کرے، جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھ رہا ہو)، اگر وہ پانچ رکعت ادا کر لیتا ہے، تو اس میں سے جفت تعداد (یعنی چار رکعت) اس کی نماز ہو جائے گی اور اگر وہ چار رکعت ادا کر لیتا ہے، تو یہ دونوں شیطان کو رسوا کر دیں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1396]
ترقیم العلمیہ: 1379
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1380 ترقیم الرسالہ : -- 1397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فِي الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلاتَهُ، وَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا فَهُمَا تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ" . زَادَ هَذَا فِي حَدِيثِهِ:" قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ"، وَتَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ مِنْ رِوَايَةِ مُوسَى بْنِ دَاوُدَ عَنْهُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کسی شخص کو نماز پڑھنے کے دوران شک ہو جائے کہ اس نے تین رکعت ادا کی ہیں یا چار رکعت ادا کی ہیں، تو ایک مزید رکعت ادا کرے، یہاں تک کہ اسے وہ شک زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو، پھر اس کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعت ادا کی ہوں گی، تو اس میں سے چار جفت تعداد اس کی نماز ہو جائے گی اور اگر اس نے مکمل نماز ادا کی ہو گی، تو یہ دونوں شیطان کی رسوائی کا باعث ہوں گی۔ اس روایت میں راوی نے ’سلام سے پہلے‘ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1397]
ترقیم العلمیہ: 1380
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں