🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. مَا جَاءَ فِي شُرْبِ مَاءِ زَمْزَمَ
باب: زمزم سے پانی پینے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2699 ترقیم الرسالہ : -- 2736
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا أَبُو زِيَادٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ شَرِبْتُ: مِنْ زَمْزَمَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَشَرِبْتَ مِنْهَا كَمَا يَنْبَغِي؟ قَالَ: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَتَنَفَّسَ ثَلاثًا وَتَضَلَّعْ مِنْهَا، فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " آيَةٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ لا يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ" .
عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں آب زم زم پی کر آ رہا ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے اسے اسی طرح پیا ہے، جیسے پینا چاہیے تھا؟ اس نے دریافت کیا: اے سیدنا ابن عباس! وہ کیسے (پیا جاتا ہے)؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس نے فرمایا: جب تم اسے پینا ہو، تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور اللہ کا نام لو، اور پھر تین سانسوں میں پیو اور زیادہ مقدار میں پیو، جب تم اسے پی لے لو، تو اللہ کی حمد بیان کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان بنیادی فرق ہے، وہ (منافقین) زم زم زیادہ مقدار میں نہیں پیتے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2736]
ترقیم العلمیہ: 2699
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 94، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1744، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3061، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9758، 9759، 9760، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2736، 2737، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 9110، 9111، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24653، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10763، 11246»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2700 ترقیم الرسالہ : -- 2737
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2737]
ترقیم العلمیہ: 2700
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 94، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1744، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3061، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9758، 9759، 9760، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2736، 2737، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 9110، 9111، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24653، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10763، 11246»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2701 ترقیم الرسالہ : -- 2738
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عَبَّاسٌ التَّرْقُفِيُّ ، نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ" .
عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب آب زم زم پیتے تھے، تو یہ دعا مانگتے تھے: اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں، جو نفع دے، ایسے رزق کا سوال کرتا ہوں، جو وسعت والا ہو اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2738]
ترقیم العلمیہ: 2701
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1745، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2738، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 9112»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2702 ترقیم الرسالہ : -- 2739
ثنا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَارُودِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شَرِبَ لَهُ، إِنْ شَرِبْتَهُ تَسْتَشْفِي بِهِ شَفَاكَ اللَّهُ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِشِبَعِكَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ بِهِ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِيَقْطَعَ ظَمَأَكَ قَطَعَهُ اللَّهُ، وَهِيَ هَزَمَةُ جِبْرِيلَ وَسُقْيَا اللَّهِ إِسْمَاعِيلَ" .
مجاہد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب آب زم زم کو پی لیا جائے، تو اگر تم نے اسے اس لیے پی لیا ہوتا کہ تم اس کے ذریعے شفا حاصل کرو، تو اللہ تمہیں شفا نصیب کرے گا، اگر اسے اس لیے پیا ہوتا کہ تمہارا پیٹ بھر جائے، تو اللہ تمہیں سیر کر دے گا اور اگر اس لیے پیا ہوتا کہ پیاس ختم ہو جائے، تو اللہ اسے بھی ختم کرے گا، یہ جبرائیل علیہ السلام کی ٹھوکر کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے اللہ نے سیدنا اسماعیل کو سیراب کیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2739]
ترقیم العلمیہ: 2702
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1745، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2739، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 9123، 9124، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24189»
«قال الذھبي: هذا الإسناد باطل، لسان الميزان: (6 / 78)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں