سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3892 ترقیم الرسالہ : -- 3958
ثنا بِهِ الْمَحَامِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَعُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّرَنِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ ، قَالُوا: نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا مُغِيرَةُ ، وَحُصَيْنٌ ، وَأَشْعَثُ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَدَاوُدُ ، وَسَيَّارٌ ، وَمُجَالِدٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ بِهَذَا. قَالَ هُشَيْمٌ: قَالَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ:" إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ، لِمَنْ كَانَ لَهَا عَلَى زَوْجِهَا رَجْعَةٌ".
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، اور مجالد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”رہائش اور خرچ اس عورت کو ملتے ہیں، جس کا شوہر اس سے رجوع کر سکے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3958]
ترقیم العلمیہ: 3892
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
«مجالد بن سعيد تفرد برفعه وهو ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 389) _x000D_»
«مجالد بن سعيد تفرد برفعه وهو ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 389) _x000D_»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3893 ترقیم الرسالہ : -- 3959
نَا نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، نَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَ:" لا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ، لَعَلَّهَا نَسِيَتْ" .
اسود بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بیان کا پتہ چلا، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم اللہ کی کتاب کے حکم کو ایک عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے، ہو سکتا ہے وہ بھول گئی ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3959]
ترقیم العلمیہ: 3893
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 2291، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2322، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15832، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3955، 3959، 3964، 3965، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18976، 18977»
«قال ابن عبدالبر: ليس بقوي الإسناد، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 135)»
«قال ابن عبدالبر: ليس بقوي الإسناد، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 135)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3894 ترقیم الرسالہ : -- 3960
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ مَسْعَدَةَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ، فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى، وَلا نَفَقَةً، فَأَخَذَ الأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصَى فَحَصَبَهُ، ثُمَّ قَالَ: وَيْلَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا، قَالَ عُمَرُ: لا نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لا نَدْرِي حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ، لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 الآيَةَ .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: میں اسود بن یزید کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہمارے ساتھ شعبی بھی موجود تھے۔ شعبی نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا تھا۔ تو اسود نے مٹھی میں کنکریاں پکڑ کر شعبی کو مارتے ہوئے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم اس طرح کی روایتیں سنا رہے ہو، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا ہے: ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے حکم کو کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے، کیونکہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس عورت کو (اصل بات) یاد ہے یا وہ بھول گئی ہے۔ ایسی (تین طلاق یافتہ) عورت کو رہائش اور خرچ ملے گا، کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں، ماسوائے اس صورت کے کہ وہ واضح برائی کا ارتکاب کریں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3960]
ترقیم العلمیہ: 3894
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
ترقیم العلمیہ : 3895 ترقیم الرسالہ : -- 3961
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ:" طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاثًا فَأَرَدْتُ النَّفَقَةَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِيُّ حَصَبَهُ الأَسْوَدُ، وَقَالَ: وَيْحَكَ تُحَدِّثُ، أَوْ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا، قَدْ أَتَتْ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 الآيَةَ. وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ: وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ، لأَنَّ هَذَا الْكَلامَ لا يُثْبَتُ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ وَأَثْبَتُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ تَابَعَهُ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے خرچ حاصل کرنا چاہا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو آپ نے فرمایا: ”تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جاؤ۔“ ابواسحاق بیان کرتے ہیں: جب شعبی نے یہ روایت بیان کی، تو اسود نے انہیں کنکریاں مارتے ہوئے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم یہ روایت بیان کر رہے ہو یا اس روایت کی بنیاد پر فتویٰ دیتے ہو۔ وہ خاتون سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئی تھی۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: اگر تو تم دو ایسے گواہ لے کر آتی ہو، جو اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم ایک عورت کے بیان کی وجہ سے اللہ کی کتاب کے حکم کو ترک نہیں کریں گے (وہ حکم یہ ہے): ”تم انہیں ان کے گھر سے نہ نکالو اور وہ بھی نہ نکلیں، ماسوائے اس صورت کے کہ وہ واضح برائی کا ارتکاب کریں۔“ اس روایت میں راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے: اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) ترک نہیں کریں گے۔ یہ روایت اس سے پہلے روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے، کیونکہ یہ الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ یحییٰ نامی راوی نے ابواحمد زبیری کے مقابلے میں بڑے حافظہ اور زیادہ مستند ہیں۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3961]
ترقیم العلمیہ: 3895
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
ترقیم العلمیہ : 3896 ترقیم الرسالہ : -- 3962
نَا بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، نَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، نَا قَبِيصَةُ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، مثل قَوْلِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ سَوَاءً.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3962]
ترقیم العلمیہ: 3896
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
ترقیم العلمیہ : 3897 ترقیم الرسالہ : -- 3963
نَا أَبُو أَحْمَدَ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِلَيْلٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْبِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: ذُكِرَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَوْلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَجْعَلْ لَهَا السُّكْنَى وَلا النَّفَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: لا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ" ، الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ.
عبداللہ بن خلیل حضرمی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان ذکر کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے۔“ حسن بن عمارہ نامی راوی متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3963]
ترقیم العلمیہ: 3897
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
«قال الدراقطنی: الحسن بن عمارة متروك، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 253) _x000D__x000D_»
«قال الدراقطنی: الحسن بن عمارة متروك، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 253) _x000D__x000D_»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3898 ترقیم الرسالہ : -- 3964
نَا نَا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، بِمِصْرَ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ:" لا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا لِقَوْلِ امْرَأَةٍ: الْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ" ، أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ. وَرَوَاهُ الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ وَلَمْ يَقُلْ:" وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا". وَقَدْ كَتَبْنَاهُ قَبْلَ هَذَا، وَالأَعْمَشُ أَثْبَتُ مِنْ أَشْعَثَ، وَأَحْفَظُ مِنْهُ.
اسود، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ہم اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے، جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں، اسے رہائش اور خرچ ملے گا۔“ اشعث بن سوار نامی راوی ضعیف ہے۔ اعمش نے ابراہیم کے حوالے سے اسود سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے: ”اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔“ لیکن ہم یہ روایت اس سے پہلے نوٹ کر چکے ہیں: اعمش، اشعث کے مقابلے میں زیادہ ثبت اور زیادہ بڑے حافظ الحدیث ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3964]
ترقیم العلمیہ: 3898
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
«قال ابن عبدالبر: ليس بقوي الإسناد، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 135) _x000D_ _x000D__x000D_»
«قال ابن عبدالبر: ليس بقوي الإسناد، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 135) _x000D_ _x000D__x000D_»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3899 ترقیم الرسالہ : -- 3965
نَا ابْنُ صَاعِدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ وَلِيدٍ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ. ح وَنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالا: نَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ، وَقَدْ كَتَبْتُ لَفْظَهُ قَبْلَ هَذَا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3965]
ترقیم العلمیہ: 3899
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 2291، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2322، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15832، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3955، 3959، 3964، 3965، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18976، 18977»
«قال ابن عبدالبر: ليس بقوي الإسناد، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 135)»
«قال ابن عبدالبر: ليس بقوي الإسناد، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 135)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3900 ترقیم الرسالہ : -- 3966
نَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَبُو الْجَهْمِ الْعَلاءُ بْنُ مُوسَى ، نَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ،" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَعَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلاقِ امْرَأَتِكَ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس خاتون سے رجوع کر لیں، پھر اسے یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر جب اسے اگلی مرتبہ حیض آئے، تو اسے یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دینا چاہتے ہیں، تو جب وہ عورت پاک ہو، اس وقت اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق خواتین کو طلاق دی جائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر سے جب اس بارے میں سوال کیا جاتا تھا، تو وہ فرماتے تھے: ”اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں (تو تمہیں رجوع کرنا چاہیے)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم دیا تھا، لیکن اگر تم اس عورت کو تین طلاقیں دے چکے ہو، تو وہ اب تمہارے لیے اس وقت تک حرام رہے گی، جب تک وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہیں ہو جاتی، اللہ تعالیٰ نے تمہیں بیوی کو طلاق دینے کا جو حکم دیا تھا، تم نے اس بارے میں اللہ کی نافرمانی کی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3966]
ترقیم العلمیہ: 3900
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3901 ترقیم الرسالہ : -- 3967
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، وَقَالَ ابْنُ عَرَفَةَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، يَقُولُ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا طَلْقَةً وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلاقِ امْرَأَتِكَ، وَبَانَتْ مِنْكَ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی۔ ابن عرفہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی۔ اس کے بعد دونوں راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن عمر) کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون سے رجوع کر لیں، پھر اسے یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ اسے اگلی مرتبہ حیض آ جائے، پھر بھی اسے یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیں، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق خواتین کو طلاق دی جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جاتا، جس نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دی ہوتی، تو سیدنا ابن عمر یہ فرماتے: ”اگر تم نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں یہ ہدایت کی ہے کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے، پھر اسے یوں ہی رہنے دے، یہاں تک کہ اسے اگلی مرتبہ حیض آ جائے، پھر اسے یوں ہی رہنے دے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، اگر تم نے اس عورت کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تو اللہ نے بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں تمہیں جو حکم دیا تھا، تم نے اس بارے میں اس کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے بائنہ طور پر جدا ہو گئی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3967]
ترقیم العلمیہ: 3901
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»