🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3872 ترقیم الرسالہ : -- 3938
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قَطَنٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا نَذْرَ إِلا فِيمَا أُطِيعُ اللَّهُ فِيهِ، وَلا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلا عَتَاقَ، وَلا طَلاقَ فِيمَا لا يَمْلِكُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نذر صرف اسی چیز کے بارے میں ہوتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کی جائے، قطع رحمی کے بارے میں قسم اٹھانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، آدمی جو چیز کا مالک نہ ہو، اس کے بارے میں آزاد کرنے یا طلاق دینے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3938]
ترقیم العلمیہ: 3872
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3589، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3937، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3676، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 501»
«هذا حديث لا يصح وسليمان بن أبي سليمان هو سليمان بن داود اليمامي متفق على ضعفه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 278)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3873 ترقیم الرسالہ : -- 3939
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرَّانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ أَبُو أُمَيَّةَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاقَ الضَّرِيرُ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا طَلاقَ إِلا بَعْدَ نِكَاحٍ، وَإِنْ سَمَّيْتَ الْمَرْأَةَ بِعَيْنِهَا" ، يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، ضَعِيفٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”طلاق صرف نکاح کے بعد ہی دی جا سکتی ہے، اگرچہ عورت کا متعین طور پر نام لیا گیا ہو۔“ یزید بن عیاض نامی راوی ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3939]
ترقیم العلمیہ: 3873
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3592، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14994، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3930، 3939»
«قال الدارقطني: يزيد بن عياض ضعيف .»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3874 ترقیم الرسالہ : -- 3940
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا ابْنُ أَرْدَكَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلاقُ، وَالرَّجْعَةُ" ،.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں، جن میں سنجیدگی بھی سنجیدگی شمار ہو گی اور مذاق بھی سنجیدگی شمار ہو گا: طلاق، نکاح، اور رجعت (یعنی رجوع کرنا)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3940]
ترقیم العلمیہ: 3874
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 772، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2816، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2194، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1184، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2039، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1603، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15100، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3635، 3636، 3637، 3638، 3940، 3941»
«قال ابن حجر: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 423)»

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3875 ترقیم الرسالہ : -- 3941
نَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءً ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3941]
ترقیم العلمیہ: 3875
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 772، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2816، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2194، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1184، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2039، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1603، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15100، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3635، 3636، 3637، 3638، 3940، 3941»
«قال ابن حجر: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 423)»

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3876 ترقیم الرسالہ : -- 3942
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الْمَارَسْتَانِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ الْقَيْسِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ آبَائِهِ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ أُمِّي عَرَضَتْ عَلَيَّ قَرَابَةً لِي أَتَزَوَّجُهَا، فَقُلْتُ: هِيَ طَالِقٌ ثَلاثًا إِنْ تَزَوَّجْتُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ مِلْكٍ؟، قَالَ: لا، قَالَ: لا بَأْسَ فَتَزَوَّجْهَا" .
امام زید بن علی رضی اللہ عنہ اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری والدہ نے میرے سامنے اپنی ایک رشتہ دار لڑکی کا ذکر کیا کہ میں اس کے ساتھ شادی کر لوں، تو میں نے کہا: اگر میں نے اس عورت سے شادی کر لی، تو اسے تین طلاقیں ہیں، (اب کیا حکم ہو گا؟)“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اس سے پہلے آپ کی ملکیت میں تھی؟“ اس نے عرض کیا: ”جی نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس شخص نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3942]
ترقیم العلمیہ: 3876
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3942، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3877 ترقیم الرسالہ : -- 3943
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الأَذَنِيُّ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الأَذَنِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَلاحٍ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيِّ ، وَصَدَقَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا، فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا، فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا، بَانَتْ مِنْهُ بِثَلاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ، وَتِسْعُمِائَةٌ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ" ، رُوَاتُهُ مَجْهُولُونَ وَضُعَفَاءُ، إِلا شَيْخُنَا، وَابْنُ عَبْدِ الْبَاقِي.
ابراہیم بن عبیداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ان کے بزرگوں میں سے کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، اس کے بچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہمارے والد نے ہماری والدہ کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں، کیا ان کے لیے کوئی گنجائش ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا باپ اللہ سے ڈرا نہیں ہے، ورنہ وہ اس کے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا، وہ عورت اس شخص سے تین طلاقوں کی وجہ سے جدا ہو جائے گی، جو طلاقیں سنت کے خلاف ہیں اور (بقیہ) نو سو ستانوے طلاقیں اس کی گردن میں گناہ کے طور پر ہوں گی۔“ (امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) ہمارے استاد ابن عبدالباقی (ان دو حضرات کے علاوہ) اس روایت کے تمام راوی مجہول اور ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3943]
ترقیم العلمیہ: 3877
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3943، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11339»
«قال الدارقطني: رواته مجهولون وضعفاء كلهم إلا شيخنا وابن عبد الباقي، سنن الدارقطني: (5 / 36) برقم: (3943)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3878 ترقیم الرسالہ : -- 3944
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَدَّادُ ، نَا أَبُو الصَّلْتِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الدَّارِعُ . ح وَنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ، مَنْ طَلَّقَ فِي بِدْعَةٍ وَاحِدَةٍ، أَوِ اثْنَتَيْنِ، أَوْ ثَلاثًا أَلْزَمْنَاهُ بِدْعَتَهُ" ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الْقُرَشِيُّ، ضَعِيفٌ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! جو شخص بدعت کے طور پر (یعنی سنت کے خلاف) ایک، دو، یا تین طلاقیں دے دے، ہم اس کی بدعت کو اس پر لازم کر دیں گے۔“ اسماعیل بن ابوامیہ بصری نامی راوی، متروک الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3944]
ترقیم العلمیہ: 3878
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15042، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3944، 4020، 4021»
«‏‏‏‏قال ابن حزم: هذا حديث موضوع وإسماعيل ساقط، لسان الميزان: (2 / 106)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3879 ترقیم الرسالہ : -- 3945
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الْقُرَشِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْغَفُورِ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَجُلا طَلَّقَ الْبَتَّةَ فَغَضِبَ، وَقَالَ: تَتَّخِذُونَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا، أَوْ دِينَ اللَّهِ هُزُوًا وَلَعِبًا، مَنْ طَلَّقَ الْبَتَّةَ أَلْزَمْنَاهُ ثَلاثًا، لا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، هَذَا كُوفِيُّ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو (یا ایک شخص کے بارے میں) سنا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق بتا دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آگئے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ کے دین (کے احکام) سے کھیل کود کرتے ہو، جو شخص طلاق بتا دے گا، ہم اس کی تین طلاقوں کو لازم قرار دیں گے اور وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک دوسری شادی (کرنے کے بعد بیوہ یا مطلقہ) نہ ہو جائے۔“ اسماعیل بن ابوامیہ نامی راوی کوفی ہیں اور ضعیف الحدیث ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3945]
ترقیم العلمیہ: 3879
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3945، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: إسماعيل بن أبي أمية الكوفي عن عثمان بن مطر عن عبد الغفور بن عبد العزيز الواسطي وكلهم ضعفاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 336)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3880 ترقیم الرسالہ : -- 3946
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ:" إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا، قَالَ عَلِيٌّ : يُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ ثَلاثٌ، وَسَائِرُهُنَّ اقْسِمْهُنَّ بَيْنَ نِسَائِكَ" .
حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں۔“ سیدنا علی نے فرمایا: ”تین طلاقوں نے اسے تم پر حرام کر دیا ہے اور باقی طلاقیں تم اپنی دوسری بیویوں میں تقسیم کر دو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3946]
ترقیم العلمیہ: 3880
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3946، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18101، 18109»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3881 ترقیم الرسالہ : -- 3947
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، بِمِصْرَ، نَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، نَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ الْمُلائِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ" سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ عَدَدَ النُّجُومِ، فَقَالَ: أَخْطَأَ السُّنَّةَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ" .
سعید بن جبیر اور مجاہد، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو ستاروں کی تعداد میں اپنی بیوی کو طلاقیں دیتا ہے، تو سیدنا ابن عباس نے فرمایا: ”اس شخص نے سنت کی خلاف ورزی کی اور اس کی بیوی اس کے لیے حرام ہو گئی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3947]
ترقیم العلمیہ: 3881
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15089، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3947، 3948، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11347، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18112»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں