🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3912 ترقیم الرسالہ : -- 3978
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا الشَّافِعِيُّ ، أنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرُكَانَةَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً؟، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" .
نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں: سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو واپس بھجوا دیا تھا۔ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3978]
ترقیم العلمیہ: 3912
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3913 ترقیم الرسالہ : -- 3979
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَأَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَآَخَرُونَ، قَالُوا: نَا الشَّافِعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً؟، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ" ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں: سیدنا رکانہ بن یزید نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی۔“ تو نبی نے اس خاتون کو واپس بھجوا دیا تھا۔ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو دوسری طلاق سیدنا عمر اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دی تھی۔ امام داؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3979]
ترقیم العلمیہ: 3913
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3914 ترقیم الرسالہ : -- 3980
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3980]
ترقیم العلمیہ: 3914
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3915 ترقیم الرسالہ : -- 3981
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ أَبُو نَضْرٍ التَّمَّارُ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ . ح وَقُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ أَيْضًا، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَشَيْبَانُ، قَالا: نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَتَّةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَدْتَ بِهَا؟، قَالَ: وَاحِدَةً، فَقَالَ: آللَّهِ؟، قَالَ: آللَّهِ، فَقَالَ: هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ" ، غَيْرَ أَنَّ أَبَا نَضْرٍ، لَمْ يَقُلِ: ابْنُ يَزِيدَ بْنُ رُكَانَةَ. أَرْسَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ.
عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیوی کو طلاق بتا دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: ”ایک (طلاق)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ تعالیٰ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری مراد کے مطابق (واقع شمار) ہو گی۔“ اس روایت میں ابونصر نامی راوی نے لفظ، ابن یزید بن رکانہ، نقل نہیں کیا، ابن مبارک نے زبیر بن سعید کے حوالے سے یہ روایت، مرسل، طور پر نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3981]
ترقیم العلمیہ: 3915
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3916 ترقیم الرسالہ : -- 3982
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، قَالَ: كَانَ جَدِّي رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ، فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ؟، فَقَالَ: أَرَدْتُ وَاحِدَةً، قَالَ: آللَّهِ؟، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: فَهِيَ وَاحِدَةٌ" ، خَالَفَهُ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ.
عبداللہ بن علی بیان کرتے ہیں: میرے دادا سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتا دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتا دی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”(ان الفاظ کے ذریعے) تم نے کیا مراد لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ایک طلاق مراد لی تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ ایک (طلاق شمار) ہو گی۔“ اسحاق بن اسرائیل نے اس کے برخلاف روایت نقل کی ہے (جو درج ذیل ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3982]
ترقیم العلمیہ: 3916
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3917 ترقیم الرسالہ : -- 3983
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ جَدِّهِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ بِذَلِكَ؟، قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: آللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً؟، قَالَ: آللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً، قَالَ: فَهِيَ وَاحِدَةٌ" .
عبداللہ بن علی اپنے دادا سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتا دی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ کی قسم! تم نے صرف ایک طلاق مراد لی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک طلاق مراد لی تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ ایک طلاق شمار ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3983]
ترقیم العلمیہ: 3917
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3918 ترقیم الرسالہ : -- 3984
نَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ الدَّوْلابِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا: نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ، مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ، وَلا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاقِ، فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوكِهِ: أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ حُرٌّ، وَلا اسْتِثْنَاءَ لَهُ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ، وَلا طَلاقَ عَلَيْهِ" ،.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی، جو اس کے نزدیک غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی، جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تو جب کوئی شخص اپنے مملوک سے یہ کہے: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو تم آزاد ہو، تو وہ غلام آزاد شمار ہو گا، اور قائل کو استثناء کا حق حاصل نہیں ہو گا، اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے: اگر اللہ نے چاہا، تو تمہیں طلاق ہے، تو اس شخص کو استثناء کا حق حاصل ہو گا اور طلاق واقع نہیں ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3984]
ترقیم العلمیہ: 3918
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف و منقطع، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15223، 15224، 15225، 19981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3984، 3985، 3986، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11331، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18329»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف ومنقطع أيضا، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 417)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف و منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3919 ترقیم الرسالہ : -- 3985
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. قَالَ حُمَيْدٌ: قَالَ لِي يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: وَأَيُّ حَدِيثٍ لَوْ كَانَ حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ مَعْرُوفًا؟ قُلْتُ: هُوَ جَدِّي، قَالَ يَزِيدُ: سَرَرْتَنِي الآنَ صَارَ حَدِيثًا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ حمید بیان کرتے ہیں: یزید بن ہارون نے مجھ سے کہا: ”یہ کتنی عمدہ حدیث ہوتی، اگر اس کے راوی حمید بن مالک لخمی معروف ہوتے۔“ تو میں نے کہا: ”وہ میرے دادا ہیں۔“ تو یزید نے کہا: ”تم نے مجھے خوش کر دیا ہے، تم نے مجھے خوش کر دیا ہے، اب یہ حدیث (مستند) ہو گئی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3985]
ترقیم العلمیہ: 3919
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف و منقطع، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15223، 15224، 15225، 19981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3984، 3985، 3986، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11331، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18329»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف ومنقطع أيضا، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 417)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف و منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3920 ترقیم الرسالہ : -- 3986
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سِنِينَ ، نَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ ، نَا مَكْحُولٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحَلَّ اللَّهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاقِ، فَمَنْ طَلَّقَ وَاسْتَثْنَى فَلَهُ ثُنْيَاهُ" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایسی کسی چیز کو حلال قرار نہیں دیا، جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تو جو شخص طلاق دیتے ہوئے استثناء کر لے، اسے استثناء کا حق حاصل ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3986]
ترقیم العلمیہ: 3920
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف و منقطع، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15223، 15224، 15225، 19981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3984، 3985، 3986، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11331، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18329»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف ومنقطع أيضا، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 417)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف و منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3921 ترقیم الرسالہ : -- 3987
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ قَرِينٍ ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عَمٌّ لِي:" اعْمَلْ لِي عَمَلا حَتَّى أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي، فَقُلْتُ: إِنْ تُزَوِّجْنِيهَا فَهِيَ طَالِقٌ ثَلاثًا، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أَتَزَوَّجَهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي: تَزَوَّجْهَا، فَإِنَّهُ لا طَلاقَ إِلا بَعْدَ نِكَاحٍ"، فَتَزَوَّجْتُهَا فَوَلَدَتْ لِي سَعْدًا وَسَعِيدًا" .
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے چچا نے مجھ سے کہا: ”تم میرے لیے کام کاج کرو، تاکہ میں اپنی بیٹی کی شادی تمہارے ساتھ کر دوں۔“ میں نے کہا: ”اگر آپ میری شادی اس کے ساتھ کی، تو اسے تین طلاقیں ہیں۔“ پھر بعد میں مجھے مناسب محسوس ہوا کہ میں اس خاتون کے ساتھ شادی کر لوں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ سے (اس بارے میں) دریافت کیا، تو آپ نے مجھے فرمایا: ”تم اس عورت کے ساتھ شادی کر لو، کیونکہ طلاق، نکاح کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔“ تو میں نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی، تو میرے ہاں سعد اور سعید پیدا ہوئے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3987]
ترقیم العلمیہ: 3921
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3987، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: فيه علي بن قرين وهو متروك، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں