🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3902 ترقیم الرسالہ : -- 3968
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلِيقَةً، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَفِيهِ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، يَقُولُ لِلرَّجُلِ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنِي بِهَذَا، فَإِنْ طَلَّقْتَ ثَلاثًا فَلا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّكَ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اس عورت سے رجوع کر لے (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔“ اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسے شخص سے یہ فرماتے ہیں: ”اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا، اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں، تو اب وہ عورت تمہارے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک وہ دوسری شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہ ہو جائے، تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3968]
ترقیم العلمیہ: 3902
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3903 ترقیم الرسالہ : -- 3969
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ رِجَالٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا سَأَلَهُ" عَنْ طَلاقِ الْحَائِضِ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ : أَمَّا أَنْتَ فَطَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أَمَرَنِي بِهَذَا، وَأَمَّا أَنْتَ فَطَلَّقَتْ ثَلاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّكَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنَ الطَّلاقِ" .
نافع بیان کرتے ہیں: جب کوئی شخص عبداللہ بن عمر سے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دینے کا مسئلہ دریافت کرتا، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے وہ بات بتاتے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی، پھر یہ کہتے: ”اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا، لیکن اگر تم نے تین طلاقیں دی ہیں، تو وہ عورت اس وقت تک کے لیے تم پر حرام ہو گئی، جب تک وہ دوسری شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہیں ہو جاتی، تم نے اپنے پروردگار کے اس حکم کی نافرمانی کی ہے، جو حکم اس نے طلاق دینے کے بارے میں تمہیں دیا تھا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3969]
ترقیم العلمیہ: 3903
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3904 ترقیم الرسالہ : -- 3970
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ" أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَأَبَى مَرْوَانُ إِلا أَنْ يَتَّهِمَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَزَعَمَ عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ، وَأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَنْهَى الْمُطَلَّقَةَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا، حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ خاتون ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انہوں نے اسے تیسری طلاق بھی دے دی، وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: کیا وہ اپنے گھر سے باہر نکل سکتی ہے (یعنی کسی دوسری جگہ منتقل ہو سکتی ہیں)؟ تو نبی نے اسے یہ ہدایت کی: ”وہ ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جائے۔“ مروان نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ مطلقہ عورت اپنے گھر سے نکل سکتی ہے، اس نے سیدہ فاطمہ بنت قیس کے بیان کو معتبر تسلیم نہیں کیا۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ نے بھی فاطمہ بنت قیس کے بیان کو تسلیم نہیں کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلقہ عورت کو اس بات سے منع کرتی تھیں کہ وہ اپنے گھر سے نکلے، جب تک اس کی عدت پوری نہیں ہو جاتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3970]
ترقیم العلمیہ: 3904
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3905 ترقیم الرسالہ : -- 3971
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، نَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ أَيَّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ؟، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ الْكِلابِيَّةَ، لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَنَا مِنْهَا، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ" .
اوزاعی بیان کرتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی زوجہ محترمہ نے آپ سے پناہ مانگی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: عروہ بن زبیر نے مجھے سیدہ عائشہ کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ اس خاتون کا نام بنت جون کلابیہ تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے قریب ہوئے، تو وہ بولی: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک عظیم (ذات کی) پناہ لے لی ہے، تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3971]
ترقیم العلمیہ: 3905
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5254، وابن الجارود فى "المنتقى"، 798، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4266، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6899، 6900، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5580، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2037، 2050، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3971»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3906 ترقیم الرسالہ : -- 3972
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ صَاحِبُ الطَّعَامِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أُصِيبَ عَلِيٌّ وَبُويِعَ الْحَسَنُ بِالْخِلافَةِ، قَالَتْ: لِتَهْنِكَ الْخِلافَةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: يُقْتَلُ عَلِيٌّ وَتُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ، اذْهَبِي فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلاثًا، قَالَ: فَتَلَفَّعَتْ نِسَاجَهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، وَبَعَثَ إِلَيْهَا بِعَشَرَةِ آلافٍ مُتْعَةً وَبَقِيَّةً بَقِيَ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا، فَقَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى وَقَالَ: لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي، أَوْ حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي، يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا مُبْهَمَةً أَوْ ثَلاثًا عِنْدَ الإِقْرَاءِ، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ لَرَاجَعْتُهَا" .
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: عائشہ خثعمیہ نامی ایک خاتون سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اہلیہ تھی، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی گئی، تو اس خاتون نے کہا: ”امیر المؤمنین! آپ کو خلافت مبارک ہو۔“ تو امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور تم مبارک باد دے رہی ہو، جاؤ، تمہیں تین طلاقیں ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی چادر لپیٹ لی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت پوری ہو گئی، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو اس کا بقیہ مہر اور اس کے ساتھ دس ہزار (درہم یا دینار) متاع کے طور پر بھجوائے، تو وہ عورت بولی: ”جدا ہو جانے والے محبوب کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔“ جب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا گیا، تو وہ رو پڑے اور فرمایا: ”اگر میں نے اپنے نانا کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)، میرے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے یہ مجھے حدیث سنائی ہے، انہوں نے میرے نانا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنی بیوی کو تین مبہم طلاقیں دے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)، جو شخص اپنی بیوی کو تین قروء (یعنی تین طہر) کے وقت تین طلاقیں دے دیں، تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک وہ دوسری شادی کر کے مطلقہ یا بیوہ نہ ہو جائے۔“ (امام حسن فرماتے ہیں:) تو میں اس سے رجوع کر لیتا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3972]
ترقیم العلمیہ: 3906
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1763، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14517، 14518، 14607، 15080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3972، 3973، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12256، 12257، 12260، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19034»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3907 ترقیم الرسالہ : -- 3973
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِيُّ ، نَا حُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، جَاءَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ خَلِيفَةَ الْخَثْعَمِيَّةُ امْرَأَةُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَتْ لَهُ: لِتَهْنِكَ الإِمَارَةَ، فَقَالَ لَهَا: تُهَنِّينِي بِمَوْتِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، انْطَلِقِي فَأَنْتِ طَالِقٌ، فَتَقَنَّعْتُ بِثَوْبِهَا، وَقَالَتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ أُرِدْ إِلا خَيْرًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِمُتْعَةٍ عَشَرَةِ آلافٍ وَبَقِيَّةَ صَدَاقِهَا فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهَا بَكَتْ، وَقَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ، فَأَخْبَرَهُ الرَّسُولُ، فَبَكَى، وَقَالَ:" لَوْلا أَنِّي أَبَنْتُ الطَّلاقَ لَهَا لَرَاجَعْتُهَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً، أَوْ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ شَهْرٍ تَطْلِيقَةً، أَوْ طَلَّقَهَا ثَلاثًا جَمِيعًا، لَمْ تَحِلَّ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" .
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ، جو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھی، انہوں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کو امیر المؤمنین بننا مبارک ہو۔“ تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تم امیر المؤمنین (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی شہادت پر مجھے مبارک باد دے رہی ہو، چلی جاؤ، تمہیں طلاق ہے۔“ اس عورت نے (روتے ہوئے) اپنا کپڑا منہ پر رکھا اور بولی: ”اے اللہ! میرا مقصد تو صرف بھلائی تھا (یعنی میرا یہ ارادہ نہیں تھا)۔“ بعد میں سیدنا امام حسن نے متاع کے طور پر اس خاتون کو دس ہزار درہم یا دینار اور مہر کا بقیہ حصہ بھجوایا، جب یہ چیزیں اس کے سامنے رکھی گئیں، تو وہ رو پڑی اور بولی: ”جدا ہو جانے والے محبوب کے مقابلے میں یہ سب کچھ بہت تھوڑا ہے۔“ جب قاصد نے سیدنا امام حسن کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے طلاق کو اس عورت کے لیے ثابت نہ کیا ہوتا، تو اس سے رجوع کر لیتا، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے، یوں کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے یا ہر مہینے میں ایک طلاق دے یا تین طلاقیں ایک ساتھ دے دے، تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے شخص سے شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہ ہو جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3973]
ترقیم العلمیہ: 3907
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1763، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14517، 14518، 14607، 15080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3972، 3973،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19034»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3908 ترقیم الرسالہ : -- 3974
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّهُ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ، مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللَّهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ، وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرُ فَيُطَلَّقَ لِكُلِّ قُرُوءٍ، قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ، أَوْ أَمْسِكْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلاثًا أَكَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا؟، قَالَ: لا كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ، وَتَكُونُ مَعْصِيَةً" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، پھر انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اس خاتون کو بقیہ دو طلاقیں آگے آگے آنے والے طہروں کے دوران دیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چلا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عمر! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس طرح (طلاق دینے کا) حکم تو نہیں دیا، تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے، سنت یہ ہے کہ تم پہلے اسے طہر آنے دو، پھر ہر طہر میں طلاق دے دینا۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی، تو میں نے اس خاتون سے رجوع کر لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے، اس وقت تم اسے طلاق دینا یا اپنے ساتھ رکھنا (یعنی طلاق نہ دینا)۔“ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ کا کیا فرمانا ہے، اگر میں اسے تین طلاقیں دے دوں، تو کیا میرے لیے یہ بات جائز ہو گی کہ میں اس سے رجوع کر لوں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، (ایسی صورت میں) وہ تم سے بائنہ ہو جائے گی اور (طلاق دینے کا یہ طریقہ) گناہ ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3974]
ترقیم العلمیہ: 3908
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، 4264، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، 4587»
«قال الدارقطني: لم يعله إلا بعطاء الخراساني وقال إنه أتى في هذا الحديث ب

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3909 ترقیم الرسالہ : -- 3975
نَا نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، نَا، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ:" مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ امْرَأَتُهُ، وَعَصَى رَبَّهُ تَعَالَى، وَخَالَفَ السُّنَّةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تو وہ عورت اس سے بائنہ ہو جاتی ہے اور وہ شخص اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے اور اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہوتی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3975]
ترقیم العلمیہ: 3909
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3910 ترقیم الرسالہ : -- 3976
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" الْخَلِيَّةُ، وَالْبَرِيَّةُ، وَالْبَتَّةُ، وَالْبَائِنُ، وَالْحَرَامُ ثَلاثًا، لا تَحِلُّ لَهُمْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بریہ، بتہ، بائن، اور حرام کے ذریعے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور وہ عورت مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک دوسری شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہیں ہو جاتی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3976]
ترقیم العلمیہ: 3910
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1678، 1682، 1694، 1697، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15122، 15123، 15173، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3976، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18438، 18457، 18462»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3911 ترقیم الرسالہ : -- 3977
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَذُوقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُسَيْلَةَ صَاحِبِهِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوتی، جب تک وہ دوسری شادی نہیں کر لیتی، اور ان دونوں (میاں بیوی) میں سے ہر ایک دوسرے فریق کا شہد نہیں چکھ لیتا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3977]
ترقیم العلمیہ: 3911
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2639، 5260، 5261، 5265، 5317، 5792، 5825، 6084، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1433،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1053، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4119، 4120، 4122، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3285، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1118، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1932، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3977، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24692، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 228،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17211، 17212، 17213»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں