🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابٌ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ وَالْأُذُنَيْنِ وَالصُّدْغَيْنِ
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 660
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ تَحَرَّيْتُ لَكُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَتَقَدَّمَ فِي بَابِ غَسْلِ الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً وَكَانَ يَقُولُ: ( (الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ) ) )
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ دکھا دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، پھر انہوں نے پانی منگوایا، تین دفعہ کلی کی، تین بار ناک جھاڑا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین تین بار بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے تین تین بار دونوں پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: جان لو کہ کان، سر میں سے ہیں۔ تحقیق میں نے تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو پیش کیا ہے۔ باب غسل الوجه میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور آپ فرماتے تھے کان، سر میں سے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 660]
تخریج الحدیث: «حديث عثمان حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/11، وتقدم حديث ابي امامة برقم: 652، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 429»
وضاحت: فوائد: … اَ لْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ (کان، سر میں سے ہیں) کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں، اس کی صحابۂ کرام سے کئی سندیں ہیں، مثلا سیدنا ابو امامہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو موسی، سیدنا انس، سیدنا سمرہ بن جندب اور سیدنا سیدنا عبد اللہ بن زید۔ ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۶، ارواء الغلیل: ۸۴ ان الفاظ کی فقہ یہ ہے کہ جو حکم سر کے مسح کا ہے، وہی کانوں کا ہے،اگر سر کا مسح ایک یا تین بار درست ہے تو کانوں کا بھی اسی طرح ہو گا، نیز کانوں کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 661
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَتَى عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، يَا هَؤُلَاءِ! أَكَذَاكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ
بسر بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مقاعد میں آئے اور وضو کا پانی منگوایا اس طرح وضو کیا کہ کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، دونوں ہاتھوں کو تین تین بار دھویا، پھر سر کا مسح کر کے دونوں پاؤں کو تین تین دفعہ دھویا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اے لوگو! کیا اسی طرح تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے موجود صحابہ کی ایک جماعت سے یہ تصدیق کروائی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 661]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 487»
وضاحت: فوائد: … سر کا تین دفعہ مسح کرنے کے بارے مسلم کی روایت صریح نہیں البتہ مسند احمد کی زیر مطالعہ حدیث صریح ہے اور اسے تین دفعہ مسح راس کا جواز ثابت ہوتا ہے اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں فتح الباری، ج: ۱، ص: ۲۶۰۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 662
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: مَسَحَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْسَهُ فِي الْوُضُوءِ حَتَّى أَرَادَ أَنْ يَقْطُرَ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے وقت اس طرح سر کا مسح کیا کہ قریب تھا کہ پانی کے قطرے گرنے لگیں، پھر انہوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 662]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 114، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 873»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُرَيْجُ بْنُ نُعْمَانَ قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ عَنْ عَمْرٍو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ حِبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْأُخْرَى ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، اس کے بعد دایاں بازو تین بار اور پھر بایاں بازو تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھوں سے بچا ہوا نہیں تھا، پھر دونوں پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر دیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 663]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16581»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 664
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا اس طرح مسح کیا کہ دونوں ہاتھوں کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) سر کے سامنے والے حصے سے شروع کیا، یہاں تک کہ ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو لوٹا کر وہاں لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں دھوئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 664]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 185، ومسلم: 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16552»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 665
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ (يَصِفُ وَضُوءَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ (عَلِيٌّ) : هَذَا وَضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوهُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ وَقَالَ: وَلَا أَدْرِي أَرَدَّ يَدَهُ أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)
عبد خیر رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور دونوں ہتھیلیوں سے سارے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو تین تین بار دھویا، پھر انہوں نے کہا: یہ تمہارے نبی کا وضو ہے، اس کو سیکھ لو۔ ایک روایت میں ہے: انہوں نے اپنے سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے اگلے حصے سے پچھلے حصے تک لے گئے۔ لیکن راوی کہتا ہے: میں یہ نہیں جانتا کہ ہاتھوں کو واپس لوٹایا تھا یا نہیں، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے اور کہا: جو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا پسند کرتا ہے تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 112، والنسائي: 1/ 67، وابن ماجه: 404،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1027»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 666
عَنْ طَلْحَةَ الْأَيَّامِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ وَمَا يَلِيهِ بِمُقَدَّمِ الْعُنُقِ بِمَرَّةٍ، قَالَ: الْقَذَالُ سَالِفَةُ الْعُنُقِ
ان کے دادے (سیدنا عمرو بن کعب یا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا، یہاں تک کہ سر کے پچھلے حصے اور اس کے ساتھ ملے ہوئے گردن کے اگلے حصے کا ایک دفعہ مسح کیا۔ راوی نے کہا: گردن کے پچھلے حصے کو «قَذَال» کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 666]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مصرف والد طلحة، ولضعف ليث بن ابي سليم۔ أخرجه ابوداود: 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16047»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 667
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، تین بار چہرہ دھویا، پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور سر اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے کا مسح کر کے پاؤں کو تین بار دھویا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 667]
تخریج الحدیث: «تقدم تخريجه فائنڈ۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17320»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 668
عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ سُفْيَانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِغُرْفَةٍ مِنْ مَاءٍ حَتَّى يَقْطُرَ الْمَاءُ مِنْ رَأْسِهِ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ وَأَنَّهُ أَرَاهُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْمَكَانَ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ
ابو ازہر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا، انہوں نے پانی کے ایک چلو سے سر کا مسح کیا، یہاں تک کہ سر سے پانی کے قطرے گرنے لگے یا قریب تھا کہ گرنے لگیں، بہرحال انہوں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھایا، جب وہ سر کے مسح تک پہنچے تو انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو سر کے اگلے حصے پر رکھا، پھر ان کو سر پر پھیرتے گئے، یہاں تک کہ گدی تک پہنچ گئے، پھر اسی جگہ پر لوٹا کر لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 668]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 124، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16979»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 669
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيُّ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، قَالَ سُفْيَانُ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرٍو بْنِ يَحْيَى مُنْذُ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ سَنَةً وَسَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَلِيلٍ وَكَانَ يَحْيَى أَكْبَرَ مِنْهُ، قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ مِنْهُ ثَلَاثَةَ أَحَادِيثَ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرْتَيْنِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرْتَيْنِ، قَالَ أَبِي: سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ: غَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرْتَيْنِ، وَقَالَ مَرَّةً: مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، وَقَالَ مَرْتَيْنِ: مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرْتَيْنِ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، امام سفیان نے کہا: چوہتر برس ہو گئے ہیں کہ یحیی بن سعید نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس کے کچھ عرصہ بعد بھی میں نے ان سے سوال کیا تھا اور یحیی ان سے بڑے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے ان سے تین احادیث سنی تھیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دو بار سر کا مسح کیا۔ امام احمد کہتے ہیں: میں نے سفیان سے یہ حدیث تین مرتبہ سنی، وہ کہتے تھے: پاؤں کو دو مرتبہ دھویا، لیکن ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور دو مرتبہ یوں بیان کیا کہ سر کا دو دفعہ مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 669]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ومسح برأسه مرتين فقد وهم فيه سفيان ابن عيينة۔ أخرجه الترمذي: 47، والنسائي: 1/ 72، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16566»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں