🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. باب تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لاَ ضَرُورَةَ إِلَيْهِ أَوْ لاَ يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لاَ يَقَعُ وَنَحْوِ ذَلِكَ:
باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2359 ترقیم شاملہ: -- 6123
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: سَلُونِي، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْقَوْمُ أَرَمُّوا، وَرَهِبُوا، أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ، كَانَ يُلَاحَى، فَيُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، إِنِّي صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَرَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ ".
سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (بہت زیادہ اور بے فائدہ) سوالات کیے حتیٰ کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سوالات سے تنگ کر دیا، تو ایک دن آپ باہر تشریف لائے، منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا: "اب مجھ سے (جتنے چاہو) سوال کرو، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے، میں تم کو اس کا جواب دوں گا۔" جب لوگوں نے یہ سنا تو اپنے منہ بند کر لیے اور سوال کرنے سے ڈر گئے کہ کہیں یہ کسی بڑے معاملے (وعید، سزا سخت حکم وغیرہ) کا آغاز نہ ہو رہا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دائیں بائیں دیکھا تو ہر شخص کپڑے میں منہ لپیٹ کر رو رہا تھا تو مسجد میں سے وہ شخص اٹھا کہ جب (لوگوں کا) اس سے جھگڑا ہو تا تھا تو اسے اس کے باپ کے بجائے کسی اور کی طرف منسوب کر دیا جاتا تھا (ابن فلاں! کہہ کر پکارا جاتا تھا) اس نے کہا: اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ ہے۔" پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: ہم اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مان کر راضی ہیں اور ہم برے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے والے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خیر اور شر میں جو کچھ میں نے آج دیکھا ہے کبھی نہیں دیکھا۔ میرے لیے جنت اور جہنم کی صورت گری کی گئی تو میں نے اس (سامنے کی) دیوار سے آگے ان دونوں کو دیکھ لیا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6123]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پر اصرار کیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنگ پڑ گئے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا: مجھ سے سوال کرلو، تم مجھ سے جو بھی سوال کرو گے، جس چیز کے بارے میں پوچھو گے، میں اس کی حقیقت کھول دوں گا۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ چپ ہو گئے اور ڈر گئے کہ کہیں یہ کسی عذاب کا پیش خیمہ نہ ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر آدمی اپنے کپڑے میں سر لپیٹ کر رو رہا تھا، تو ایک آدمی نے مسجد سے آغاز کیا، جس سے لوگ جھگڑتے تو اس کی نسبت باپ کے سوا کسی اور کی طرف کرتے تو اس نے کہا، اے اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حذافہ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولًا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دستور زندگی ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر خوش ہیں اور اللہ سے برے فتنوں سے پناہ چاہتے ہیں، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خیر و شر کا آج کی طرح نظارہ کبھی نہیں کیا، میرے لیے جنت اور دوزخ کی تصویر کشی کی گئی ہے اور میں نے انہیں اس دیوار کے ورے دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2359 ترقیم شاملہ: -- 6124
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.
ہشام اور معمر کے والد سلیمان دونوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6124]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2360 ترقیم شاملہ: -- 6125
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، فَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ ".
عبداللہ بن براد اشعری اور (ابوکریب) محمد بن علاء ہمدانی نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند (ایسی) چیزوں کے بارے میں سوال کیے گئے جو آپ کو پسند نہ آئیں جب زیادہ سوال کیے گئے تو آپ غصے میں آگئے، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: "جس چیز کے بارے میں بھی چاہو مجھ سے پوچھو۔" ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ ہے۔" دوسرے شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔" جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو کہا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں۔ ابوکریب کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ شیبہ کا مولیٰ سالم ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6125]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزریں، جب سوالات زیادہ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: مجھ سے جو مرضی ہے پوچھ لو۔ تو ایک آدمی نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔ ایک اور آدمی کھڑا ہوا، اس نے بھی پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ ابو کریب کی روایت میں ہے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔ یعنی پہلی روایت میں «فَقَالَ» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2360
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں