Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ
وارث کے حق میں وصیت کے عدم جواز کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 425 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1602
نا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: " لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَلا يَجُوزُ لامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا: وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، عورت کی عطیہ شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں، اور بچہ بستر کے حق دار کا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1602]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 425، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12662، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1530»
قال الدارقطني: الصواب مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (7 / 263)

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 426 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1603
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لا يَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ إِلا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ" .
عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، الا یہ کہ ورثہ اجازت دے دیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 427 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1604
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ , فَلا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ، وَلا تُنْفِقِ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلا الطَّعَامُ؟ قَالَ:" ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا". ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةَ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمَ غَارِمٌ" .
ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا: سن لو! اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ بچہ بستر والے کا ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف نسب کی نسبت کرے یا اپنے غیر موالی کی طرف انتساب کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس سے نہ کوئی نفل قبول ہو گا نہ فرض۔ عورت اپنے گھر سے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کھانے میں بھی؟ فرمایا: یہ تو ہمارے مال کا سب سے افضل حصہ ہے۔ پھر فرمایا: ادھار لوٹانا فرض ہے، عاریت واپس کرنی ہے، قرض ادا کرنا ہے، اور ضمانت دینے والا ضامن ہوتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1021، 1099، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5094، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5749، 5750، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2870، 3565، والترمذي فى «جامعه» برقم: 670، 1265، 2120، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2007، 2295، 2398، 2405، 2713، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 427، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2959، 2960، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22725، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17984، 20940»
قال ابن حجر: حسنه، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 189)

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 428 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1605
نا هُشَيْمٌ , قَالَ: أنا طَلْحَةُ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَاهِلَةَ , قَالَ: نا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الأَشْعَرِيِّ , قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ. فَقَالَ: إِنِّي لَبَيْنَ جِرَانِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ. قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ , وَلا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ، أَلا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، أَلا مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ" .
عمرو بن خارجہ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ بچہ بستر والے کا ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہے۔ جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے یا اپنے غیر موالی کی طرف انتساب کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اور اس سے نہ کوئی نفل قبول ہو گا نہ فرض۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3643،، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6435، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2121، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2712، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 428، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4296، 4299، 4300، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17938، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5909، 17987»
قال ابن حجر: لا يخلو إسناد كل منها عن مقال لكن مجموعها يقتضي أن للحديث أصلا، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (5 / 437)
وضاحت: شهر بن حوشب: کثیر الأوهام، غیر متابع ہو تو ضعیف، طلحة أبو محمد: مجہول الحال (یہ روایت کے پہلے حصے میں علت ہے)
وله شواهد من حديث علي بن أبي طالب، فأما حديث علي بن أبي طالب، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1870، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1370»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 429 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1606
نا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ" .
طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 253، 358، 429، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12667»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں