سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
47. بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِئْمَارِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ
کنواری اور بیوہ کی اجازت لینے کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 574 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1751
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَحْمِلُوا النِّسَاءَ عَلَى مَا كَرِهْنَ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کو ان کی رضا کے بغیر نکاح پر مجبور نہ کرو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 574، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10320»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، والصواب (عمر بن حوشب) .
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، والصواب (عمر بن حوشب) .
وضاحت: روایت مرسل ہے، عمر بن حوشب مجہول الحال ہے، اسماعیل بن عیاش کی غیر شامی سے روایت ضعیف ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
ترقیم دار السلفیہ: 575 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1752
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عُمَيْرٍ ابْنِ أَخِي عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَدَّ نِكَاحَ امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس عورت کا نکاح باطل کر دیا جو ولی کے بغیر نکاح کر بیٹھی تھی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 575، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13754، 13755، 13757، 13840، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3542، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10485، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16168، 16169، 16177، 16180، 16196»
قال أبوحاتم الرازی: عبد الرحمن بن معبد بن عمير روى عنه عمرو بن دينار المكي، منقطع . سمعت أبي يقول ذلك۔ الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: (5 / 285) _x000D_
قال أبوحاتم الرازی: عبد الرحمن بن معبد بن عمير روى عنه عمرو بن دينار المكي، منقطع . سمعت أبي يقول ذلك۔ الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: (5 / 285) _x000D_
الحكم على الحديث:
منقطع
ترقیم دار السلفیہ: 576 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1753
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ:" زَوَّجَ خِدَامٌ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي وَأَنَا كَارِهَةٌ فِي غُرْبَةٍ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهَا" .
سیدہ خنساء بنت خدام رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ان کے والد نے ان کی مرضی کے بغیر نکاح کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فسخ کر دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5138، 5139، 6945، 6969، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1959، وابن الجارود فى "المنتقى"، 770، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3268، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5361، 5362، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2101، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2237، 2238، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1873، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 576»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 577 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1754
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: نا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ امْرَأَةِ بَكْرٍ وَزَوْجِهَا , أَنْكَحَهَا أَبُوهَا بِغَيْرِ إِذْنِهَا ، وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُنْكِحَ امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ عِنْدَ خِدْرِهَا، فَقَالَ:" إِنَّ فُلانًا يَذْكُرُ فُلانَةَ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت اور اس کے شوہر کے درمیان جدائی کر دی کیونکہ باپ نے نکاح بغیر اجازت کے کر دیا تھا، اور جب اپنی بیٹیوں کا نکاح کرتے تو پردے کے پاس آ کر کہتے: ”فلاں فلاں کا تذکرہ کر رہا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1754]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 562، 577، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13821، 13822، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3565، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1583، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10277، 10278، 10279، 10301»
الحكم على الحديث:
مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 578 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1755
نا نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، قَالَ: زَوَّجَ امْرَأَةً أَخْوَالُهَا وَهُمْ مِنْ بَنِي عَائِذِ اللَّهِ، وَهِيَ مِنْ بَنِي أَوْدٍ، فَأَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لابْنَتِهِ أُمِّ كُلْثُومٍ:" انْظُرِي أَمِنَ النِّسَاءِ هِيَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. فَدَفَعَهَا إِلَى زَوْجِهَا، وَقَالَ: هُمْ أَكْفَاءٌ" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا نکاح پیش ہوا جسے اس کے ماموؤں نے نکاح دیا تھا، انہوں نے بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے تصدیق کروائی اور نکاح کو جائز قرار دیا اور فرمایا: ”یہ لوگ کفو ہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1755]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
قال ابن حجر: ليث بن أبي سليم صدوق اختلط جدا، ولم يتميز حديثه فترك . قال الذھبي: فيه ضعف يسير من سوء حفظه . كان ذا صلاة وصيام وعلم كثير وبعضهم احتج به
قال ابن حجر: ليث بن أبي سليم صدوق اختلط جدا، ولم يتميز حديثه فترك . قال الذھبي: فيه ضعف يسير من سوء حفظه . كان ذا صلاة وصيام وعلم كثير وبعضهم احتج به
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 579 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1756
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ عَائِذِ اللَّهِ يُقَالُ لَهَا سَلَمَةُ بِنْتُ عُبَيْدٍ زَوَّجَتْهَا أُمُّهَا وَأَهْلُهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ دَخَلَ بِهَا؟ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ آیا جسے اس کی ماں اور رشتہ داروں نے نکاح میں دے دیا تھا، انہوں نے دریافت کیا کہ شوہر نے صحبت کی ہے؟ جب بتایا گیا کہ ہاں، تو فرمایا: ”نکاح درست ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 579، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13765»
"أبو قيس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا"، یہ قول جرح و تعدیل (ابن أبي حاتم، 9/367) میں موجود ہے
"أبو قيس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا"، یہ قول جرح و تعدیل (ابن أبي حاتم، 9/367) میں موجود ہے
الحكم على الحديث:
منقطع
ترقیم دار السلفیہ: 580 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1757
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّهُ أَجَازَ نِكَاحَ امْرَأَةٍ زَوَّجَتْهَا أُمُّهَا بِرِضًا مِنْهَا" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی عورت کا نکاح جائز قرار دیا جسے اس کی ماں نے اس کی رضامندی سے نکاح میں دے دیا تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 580، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10479، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16201، 16205»
الحكم على الحديث:
منقطع
ترقیم دار السلفیہ: 581 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1758
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الأَشْجَعِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً أَرَادَتِ التَّزْوِيجَ، فَمَنَعَهَا وَلِيُّهَا، فَاسْتَعْدَتْ شُرَيْحًا، فَقَالَ:" ايْذَنْ فِي نِكَاحِهَا. فَكَأَنَّهُ تَلَكَّأَ عَلَيْهِ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: ايْذَنْ قَبْلَ أَنْ لا يَكُونَ لَكَ إِذْنٌ. فَزَوَّجَهَا شُرَيْحٌ" .
حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک عورت نکاح کے لیے آئی اور ولی نے انکار کیا، شریح نے کہا: ”ولی کو نکاح کی اجازت دینی چاہیے۔“ اور جب ولی نے ہچکچاہٹ کی تو خود نکاح کرا دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 582 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1759
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، أَنَّ زِيَادًا بَعَثَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ لَهُ: " إِنِّي أُنْزِلُكَ نَفْسِي مِنْ هَذَا الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6، وَلا تَأْتِيَنَّ عَلَى شِغَارٍ إِلا رَدَدْتَهُ، وَلا امْرَأَةٍ عَضَلَهَا وَلِيُّهَا فَتَبْرَحُ زَائِلَةَ الْعَطَنِ حَتَّى تُزَوِّجَهَا فِي الكفاة مِنْ قَوْمِهَا" .
زیاد نے سیدنا ابو بردہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ کو کچھ صدقات پر بھیجا اور کہا: ”میں تمہیں اور اپنے آپ کو اس مال میں یتیم کے ولی کی جگہ پر رکھتا ہوں، جو غنی ہو وہ بچ کر رہے اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھائے، اور کسی شغار پر پہنچو تو اسے رد کر دو، اور کسی ایسی عورت پر نہ پہنچو جسے اس کا ولی روکے ہوئے ہو یہاں تک کہ اسے اپنی قوم کے ہمسر میں نکاح کر دو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 583 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1760
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا أَمْرِي وَأَمْرُ يَتِيمَتِي؟ قَالَ: عَنْ أَيِّ بَالِكُمَا تَسْأَلُ؟ ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَمُتَزَوِّجُهَا أَنْتَ غَنِيَّةً جَمِيلَةً؟ قَالَ: نَعَمْ وَالإِلَهِ. قَالَ: فَتَزَوَّجْهَا ذَمِيمَةً لا مَالَ لَهَا، خِرْ لَهَا، فَإِنْ كَانَ غَيْرُكَ فَأَلْحِقْهَا بِالْخِيَارِ" .
زیاد نے سیدنا ابو بردہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ کو صدقات پر بھیجا اور کہا: ”میں تمہیں اور اپنے آپ کو یتیم کے ولی کی طرح رکھتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» [النساء: 6] ، کسی شغار پر پہنچو تو رد کر دو، اور ایسی عورت کو نہ چھوڑو جسے اس کا ولی روکے یہاں تک کہ اسے اپنی قوم کے ہمسر میں نکاح کر دو۔“ ایک آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! میرا اور میری یتیمہ کا کیا معاملہ ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”کس بات کے بارے میں پوچھتے ہو؟ کیا تم خود نکاح کرنا چاہتے ہو کسی مالدار اور خوبصورت عورت سے؟“ اس نے کہا: ”ہاں اللہ کی قسم!“ آپ نے فرمایا: ”پھر کسی بدصورت اور بے مال سے نکاح کرو، یہ اس کے لیے بہتر ہوگا، اور اگر (نکاح کرنے والا) کوئی دوسرا ہو تو اسے اختیار دو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1760]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 583، وأبو داود فى "المراسيل"، 210»
الحكم على الحديث:
مرسل