سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
50. بَابُ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ عَلَى حُكْمِهَا
عورت سے اس کی شرط پر نکاح کرنا
ترقیم دار السلفیہ: 621 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1798
نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ عَلَى حُكْمِهَا أَوْ حُكْمِ أَهْلِهَا فَجَارَتْ أَوْ جَارَ الْحَكَمُ , رُدَّ ذَلِكَ إِلَى مَهْرِ مِثْلِهَا، وَلا وَكْسَ وَلا شَطَطَ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر عورت کسی کے فیصلہ پر یا اپنے اہل کے فیصلہ پر نکاح کرے، پھر وہ یا فیصلہ کرنے والا ظلم کرے تو عورت کو اس جیسا مہر دیا جائے، نہ زیادتی نہ کمی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1798]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 621، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17492»
ترقیم دار السلفیہ: 622 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1799
نا نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ خَطَبَ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ابْنَتَهُ فَأَبَى أَنْ يُزَوِّجَهُ إِلا عَلَى حُكْمِهِ، وَكَرِهَ عَمْرٌو، وَخَافَ أَنْ يَحْكُمَ عَلَيْهِ دَارَهُ أَوْ أَمْرًا يَقْتَطِعُهُ، ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لَهُ أَنْ يُزَوِّجَهُ عَلَى حُكْمِهِ فَقَالَ لَهُ عَدِيٌّ:" لا أَحْكُمُ حُكْمًا يُسَائِلُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَحَكَمَ عَشَرَةَ أُوقِيَّةٍ أَرْبَعَ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ عدی نے کہا: ”اپنے فیصلہ پر نکاح دوں گا۔“ عمرو کو یہ ناپسند ہوا کہ وہ کہیں اس پر اس کا مکان یا کوئی چیز مقرر نہ کر دے۔ بعد میں عمرو نے نکاح پر آمادگی ظاہر کی۔ عدی نے کہا: ”میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کروں گا جس پر اللہ عزوجل مجھ سے سوال کرے۔“ چنانچہ اس نے دس اوقیہ یعنی چار سو اسی درہم کا فیصلہ کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1799]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 623 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1800
نا نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ : " مَا كُنْتُ لأَحْكُمَ عَلَيْهِ شَيْئًا أَكْثَرَ مِمَّا سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سِيقَ إِلَيْهِ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس سے زیادہ فیصلہ نہ کرتا جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح میں دیا یا آپ کو دیا گیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1800]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
(1) كذا في طبعة الدار السلفية بالهند، ولعل الصواب (بن)، وينظر مصادر الترجمة، والله أعلم .
(1) كذا في طبعة الدار السلفية بالهند، ولعل الصواب (بن)، وينظر مصادر الترجمة، والله أعلم .
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 624 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1801
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ," أَنَّ عَدِيًّا لَمَّا حَكَمَ أَرْبَعَ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا أَرْسَلَ إِلَيْهِ عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ ثَلاثِينَ أَلْفًا، فَقَسَمَهَا يَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ يَبْرَحَ فِيمَنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَعَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ بَتٌّ , فَلَمَّا بَلَغَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ أَنَّهُ قَسَمَهَا بَعَثَ إِلَيْهَا بِجَهَازِهَا وَمَا يُصْلِحُهَا وَكَانَ يُقَالُ لَهَا: أُسْدَةُ بِنْتُ عَدِيٍّ" .
جب سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے چار سو اسی درہم پر فیصلہ کیا تو سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے انہیں تیس ہزار بھیجے۔ عدی نے ان میں سے جو لوگ موجود تھے، ان پر وہ سب تقسیم کر دیے اور ان کے اوپر چادر بھی تھی۔ جب عمرو بن حریث کو معلوم ہوا کہ سب تقسیم ہو گیا ہے تو اس نے بیٹی کا جہیز اور جو اس کی ضرورت کی چیزیں تھیں بھیج دیں۔ اس لڑکی کا نام اسدہ بنت عدی تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 624، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16652، 17493، والطبراني فى «الكبير» برقم: 244»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 625 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1802
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , قَالَ: " مَكْتُوبٌ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ: مَهْرُ الْبِكْرِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، وَمَهْرُ الثَّيِّبِ عِشْرُونَ دِرْهَمًا، لِكَيْ لا يَقُولَ أَحَدٌ: لا أَجِدُ مَا أَنْكِحُ فَيَزْنِيَ" .
سیدنا زید بن اسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ کنواری کا مہر چالیس درہم اور بیوہ کا مہر بیس درہم ہے، تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے نکاح کے لیے کچھ نہیں ملتا اور پھر زنا کرے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
اسماعیل بن عیاش کی غیر شامی سے روایت ضعیف ہوتی ہے۔
اسماعیل بن عیاش کی غیر شامی سے روایت ضعیف ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 626 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1803
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " النِّكَاحُ عَلَى مَا تَرَاضَوْا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ صَدَاقٌ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نکاح جس چیز پر باہمی رضامندی ہو جائے، وہی مہر ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 608، 614، 626، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16624، 37323»