سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
226. بَابُ مَنْ قَالَ: لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَالدُّعَاءِ عِنْدَ لُقِيِّهِمْ
باب: دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرنے اور مقابلے کے وقت دعا کرنے کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2518 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3695
نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَمَّنْ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلالِ السُّيُوفِ" . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ يُمْهِلُ، ثُمَّ يَنْهَدُ إِلَى عَدُوِّهِ، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ" .
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلتا تو تھوڑی دیر ٹھہر کر دشمن کی طرف بڑھتے اور یہ دعا کرتے: ”اے کتاب نازل کرنے والے، اے بادل چلانے والے، اے احزاب کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر غالب فرما۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف للإبهام والانقطاع، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2818، 2833، 2965، 3024، 7237، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1742، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2426، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2631، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2518، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18154، 18530، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19420، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19856، 33752، 34106»
وضاحت: چونکہ ابو حيان التيمي نے روایت کسی ایسے راوی سے کی ہے جس کا نام ذکر نہیں کیا ("من حدثه")، اس لیے سند میں انقطاع اور جہالت (مبہم راوی) کی وجہ سے ضعف ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف للإبهام والانقطاع
ترقیم دار السلفیہ: 2519 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3696
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ عَدُوِّكُمْ، فَإِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ عَسَى أَنْ تُبْتَلَوْا بِهِمْ، وَلَكِنْ قُولُوا: اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُمْ وَكُفَّ عَنَّا بَأْسَهُمْ، فَإِذَا جَاءُوكُمْ يَعْزِفُونَ وَيُرَجِّعُونَ وَيَصِيحُونَ، فَعَلَيْكُمْ بِالأَرْضِ، وَقُولُوا: اللَّهُمَّ نَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكِ، وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ، فَإِذَا غَشَوْكُمْ فَثُورُوا فِي وُجُوهِهِمْ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ الأَبَارِقَةِ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن کی ملاقات کی تمنا نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے شاید تم ان سے آزمائے جاؤ، بلکہ یوں کہو: اے اللہ! ہمیں ان سے بچا اور ان کی سختی ہم سے دور فرما۔ پھر جب وہ تمہارے قریب آئیں اور چیخیں ماریں تو زمین پر جم جاؤ اور یہ دعا کرو: اے اللہ! ہماری اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تو ہی انہیں قتل کرے گا۔ جب وہ تم پر غالب آئیں تو ان کے سامنے اٹھ کھڑے ہو اور جان لو کہ جنت چمکتی تلواروں کے نیچے ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2519، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9513»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2520 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3697
نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: " السُّيُوفُ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ" .
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: کہا جاتا تھا کہ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 2521 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3698
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِنْ بُلِيتُمْ بِهِمْ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ نَوَاصِيهِمْ وَنَوَاصِينَا بِيَدِكَ فَقَاتِلْهُمْ لَنَا، وَاهْزِمْهُمْ لَنَا، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَاحْمِلُوا عَلَيْهِمْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ، وَالْتَمِسُوا الْجَنَّةَ تَحْتَ الأَبَارِقَةِ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن کی ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، اگر تم آزمائے جاؤ تو کہو: اے اللہ! تو ہمارا اور ان کا رب ہے، ہماری اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تو ان سے ہمارے لیے قتال فرما، ان کو ہمارے لیے شکست دے۔ نظریں نیچی رکھو، اللہ کی برکت کے ساتھ ان پر حملہ کرو، اور چمکتی تلواروں کے نیچے جنت تلاش کرو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» » قال ابن حجر: إسناد رجاله ثقات من مرسل، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (6 / 40)
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2522 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3699
نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: أنا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي حُدَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَز ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ الْقِتَالُ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ، بِكَ أُصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ" .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قتال کے وقت کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے: ”اے اللہ! تو میرا بازو ہے، میرا مددگار ہے، تیری مدد سے میں لڑتا ہوں، تیری مدد سے میں حملہ کرتا ہوں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3699]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2522، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2015، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9517، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 30201، 34108»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2523 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3700
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَسْتَحِبُّ أَنْ يَلْقَى الْعَدُوَّ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ حِينَ تَهُبَّ الأَرْوَاحُ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا کہ دشمن سے زوال آفتاب کے بعد مقابلہ ہو جب ہوائیں چلتی ہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3700]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2523، 2524»
یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ (ابو بکر بن ابی مریم کی تضعیف اور علی بن ابی طلحہ کی ارسال کی وجہ سے۔)
یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ (ابو بکر بن ابی مریم کی تضعیف اور علی بن ابی طلحہ کی ارسال کی وجہ سے۔)
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2524 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3701
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَاتَلَ،" قَاتَلَ حِينَ يَنْشَقُّ الْفَجْرُ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ، ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْقِتَالِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، ثُمَّ يُقَاتِلُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قتال کرتے تو فجر کے پھوٹنے سے طلوع آفتاب تک قتال کرتے، پھر سورج ڈھلنے تک رکتے، پھر زوال کے بعد دوبارہ قتال کرتے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3701]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2523، 2524»
یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ (ابو بکر بن ابی مریم کی تضعیف اور علی بن ابی طلحہ کی ارسال کی وجہ سے۔)
یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ (ابو بکر بن ابی مریم کی تضعیف اور علی بن ابی طلحہ کی ارسال کی وجہ سے۔)
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2525 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3702
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَشْرَفَ عَلَى قَرْيَةٍ لِيَدْخُلَهَا قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاءِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الأَرْضِ وَمَا أَقَلَّتْ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا" .
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بستی پر چڑھائی کرنے لگتے تو فرماتے: ”اے آسمان اور اس کے سائے والے کے رب، اے زمین اور اس پر بچھائے ہوئے کے رب! میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی اور اس میں موجود بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور اس بستی کے شر اور اس میں موجود شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3702]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف و منقطع، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
سند میں دو مسائل ہیں: بکیر بن عیاض مجہول ہیں۔ روایت مقطوع (منقطع) ہے۔
سند میں دو مسائل ہیں: بکیر بن عیاض مجہول ہیں۔ روایت مقطوع (منقطع) ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف و منقطع
ترقیم دار السلفیہ: 2526 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3703
نا خَالِدٌ، قَالَ: نا حُصَيْنٌ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَنْ أَشْرَفَ عَلَى بَلْدَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي مَوَدَّةَ خِيَارِهِمْ، وَجَنِّبْنِي شِرَارَهُمْ، رَجَوْتُ أَنْ يُعْطَى ذَلِكَ" .
حضرت عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جو کسی بستی پر پہنچے اور یہ دعا کرے کہ ”اے اللہ! ان کے اچھے لوگوں کی محبت عطا فرما اور ان کے برے لوگوں سے بچا“، تو امید ہے کہ اس کی یہ دعا قبول ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3703]
تخریج الحدیث: « «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
ترقیم دار السلفیہ: 2527 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3704
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الأَحْزَابِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ" .
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے خلاف دعا کی: ”اے کتاب نازل کرنے والے، اے جلد حساب لینے والے! اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3704]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1600، 1791 م1، 2933، 3819، 4115، 4188، 4255، 4314، 6392، 7489، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1742، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2775، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3843، 3844، 7004، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6494، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4205، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1902، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1678، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1963، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2796، 2990، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2527، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19413، والحميدي فى «مسنده» برقم: 736، 737، 738، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 30202، 32954، 34109، 37988، 38147، 38260، والطبراني فى «الكبير» برقم: 11، 12، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2221، والطبراني فى «الصغير» برقم: 19، 194»
الحكم على الحديث: صحيح