سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
233. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ
باب: شہادت کی فضیلت کے بارے میں بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2549 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3726
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُقْتَلُ، فَيُسْتَشْهَدُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى هَذَا فَيُسْلِمُ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُقْتَلُ، فَيُسْتَشْهَدُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ دو آدمیوں پر ہنستا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا اور دونوں جنت میں داخل ہو گئے۔ ایک اللہ کے راستے میں لڑا اور شہید ہوا، پھر اللہ نے قاتل پر مہربانی فرمائی، وہ مسلمان ہوا، پھر اللہ کے راستے میں لڑا اور شہید ہو گیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3726]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2826، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1890، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1673، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 215، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3165، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 191، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2549، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7444، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1155، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19682»
أجاز مالك التحديث بها لأنها أحاديث صحاح لم يطعن في شيء منها، شرح الزرقاني على الموطأ: (2 / 46)
أجاز مالك التحديث بها لأنها أحاديث صحاح لم يطعن في شيء منها، شرح الزرقاني على الموطأ: (2 / 46)
وضاحت: یہ حدیث صحیح ہے۔ (چونکہ متن صحیح بخاری و مسلم سے ثابت ہے، لہٰذا سند میں خفیف ضعف کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔)
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2550 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3727
نا نا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ، فَقَالَ:" تَمَنَّ"، فَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ:" إِنِّي قَدْ قَضَيْتُ أَنْ لا تَرْجِعُوا" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اللہ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر اس سے فرمایا: آرزو کرو۔ تو اس نے یہ تمنا کی کہ دنیا میں لوٹ کر دوبارہ قتل ہو۔ اللہ نے فرمایا: میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب تم دنیا میں واپس نہیں جاؤ گے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3727]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2572، 4912، 4921، 4928، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 540، 2550، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15110، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1302، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2002، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1039، والطبراني فى «الكبير» برقم: 2932، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 918»
وضاحت: سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل کا ضعف اور محمد بن علی السلمی کی کم شہرت کی وجہ سے سند ضعیف ہے، لیکن یہ حدیث صحیح بخاری (حدیث 2818) اور صحیح مسلم (حدیث 1877) میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2551 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3728
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَى، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَى فَأُقْتَلُ" . كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثَلاثًا أَشْهَدُ لِلَّهِ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں لڑوں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بات تین بار دہراتے اور کہتے: ”میں اللہ کے لیے گواہی دیتا ہوں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3728]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 36، 237، 2785، 2787، 2797، 2803، 2972، 3123، 5533، 7226، 7227، 7457، 7463، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1876، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1616، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4610، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3098، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1619، 1656، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2753، 2795، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2300، 2311، 2312، 2320، 2551، 2571، 2572، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7278، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1069، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19659، 19660»
وضاحت: سند میں عبدالرحمن بن ابی الزناد کی وجہ سے کچھ خفیف ضعف کا احتمال ہے، لیکن چونکہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی آئی ہے، اس لیے متن کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2552 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3729
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ:" فِي الْجَنَّةِ" فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے جنگ احد کے دن کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں قتل ہو گیا تو کہاں جاؤں گا؟“ فرمایا: ”جنت میں۔“ تو اس نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں پھینک دیں اور لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3729]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4046، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1899، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4653، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم:، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4347، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2552، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17990، 18266، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14535، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1286، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1972»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2553 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3730
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَنَادَاهُ، فَقَالَ:" تَعَالَ هَذَا جِبْرِيلُ يَقُولُ: إِلا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ" .
سیدنا عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا: ”اگر میں اللہ کے راستے میں صبر اور ثواب کی نیت سے، ڈٹ کر لڑوں اور پیٹھ نہ پھیروں، تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ پھر آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”یہ جبرائیل علیہ السلام کہہ رہے ہیں: جب تک کہ تم پر قرض نہ ہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3730]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1885، 1885، 1885، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1676، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4654، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3156، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1712،وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2553، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22978،، وأخرجه الحميدي فى «مسنده» برقم: 429، 430، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12145، 19736»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2554 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3731
نا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ بِمِثْلِ مُلْكِ الدُّنْيَا إِلا الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ ایسا نہیں جس کے لیے اللہ کے ہاں خیر ہو اور وہ دنیا میں لوٹنے کی تمنا کرے، اگرچہ اسے پوری دنیا کی بادشاہی مل جائے، مگر اللہ کے راستے میں قتل ہونے والا ایسا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ پھر دنیا میں لوٹے اور دوبارہ شہید ہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3731]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2554، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19814»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2555 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3732
نا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: نا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ وَهُوَ يُقَاتِلُ: أَهُوَ خَيْرٌ لِي أَنْ أُسْلِمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: أَهُوَ خَيْرٌ لِي أَنْ أُقَاتِلَ حَتَّى أُقْتَلَ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: وَإِنْ لَمْ أُصَلِّ صَلاةً؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: فَحَمَلَ، فَقَاتَلَ، وَقَتَلَ، ثُمَّ اعْتَوَنُوا عَلَيْهِ فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَمِلَ قَلِيلا، وَأُجِرَ كَثِيرًا" .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”کیا میرے لیے اسلام لانا بہتر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ پھر اس نے کہا: ”کیا میرے لیے لڑنا بہتر ہے یہاں تک کہ میں قتل ہو جاؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”اگرچہ میں نے کوئی نماز نہ پڑھی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر وہ لڑنے نکلا، جنگ کی اور مارا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے تھوڑا عمل کیا اور زیادہ اجر پایا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3732]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2808، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1899، 1900، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4601، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8598، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2555، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18612، 18613، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18862، 18891، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 760، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم:
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2556 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3733
نا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَحَدِ الْمَوْطِنَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ أَوْ يَوْمَ أُحُدٍ: " سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ سورة الحديد آية 21"، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ قُسْحُمٍ قَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِنْ دَخَلْتُهَا إِنَّ لِي فِيهَا سَعَةً، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ؟ قَالَ:" تَلْقَى هَذَا الْعَدُوَّ فَتَصْدُقَ اللَّهَ"، فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، فَقَالَ:.... مِنْ طَعَامِ الدُّنْيَا ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ .
سیدنا ابو بکر بن حفص بن عمر بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر یا احد کے دن «سابقوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها كعرض السماء والأرض» [الحدید: 21] تلاوت فرمائی۔ ایک انصاری، ابن قسم، نے کہا: ”بخ بخ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے بخ بخ کہہ کر کیا چاہا؟“ اس نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں جنت میں داخل ہوا تو مجھے اس میں کشادگی ملے گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن کا مقابلہ کرو اور اللہ کے ساتھ سچائی دکھاؤ۔“ اس نے ہاتھ میں موجود کھجوریں پھینک دیں اور کہا: ”دنیا کا کھانا چھوڑ کر۔“ پھر لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3733]
تخریج الحدیث: «مرسل، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2556، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19691»
مضموناً یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس کی تائید صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود دوسرے واقعات سے ہو رہی ہے (مثلاً عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ کا واقعہ)
مضموناً یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس کی تائید صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود دوسرے واقعات سے ہو رہی ہے (مثلاً عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ کا واقعہ)
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2557 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3734
نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قِيلَ: أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ" .
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سوال کیا گیا: ”سب سے افضل شہید کون ہے؟“ فرمایا: ”وہ جس کا خون بہایا جائے اور اس کا گھوڑا زخمی ہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3734]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2557، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4844»
ترقیم دار السلفیہ: 2558 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3735
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبَانَ بْنِ أَبِي حُدَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ أَرَادَ سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ، وَأَبُوهُ أَنْ يَخْرُجَا جَمِيعًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمَا أَنْ يَخْرُجَ أَحَدُهُمَا، فَاسْتَهَمَا، فَخَرَجَ سَهْمُ سَعْدٍ، فَقَالَ: أَتُؤْثِرُنِي بِهَا يَا بُنَيَّ؟ فَقَالَ سَعْدٌ: إِنَّهَا الْجَنَّةُ، وَلَوْ كَانَ غَيْرَهَا لآثَرْتُكَ بِهِ، فَخَرَجَ سَعْدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، ثُمَّ قُتِلَ خَيْثَمَةُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ يَوْمَ أُحُدٍ .
سیدنا سلیمان بن ابان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کے لیے نکلے تو سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد دونوں جانا چاہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں میں سے ایک جائے۔ قرعہ اندازی کی گئی، سعد کا نام نکلا۔ والد نے کہا: ”بیٹا! مجھے چھوڑ دے۔“ سعد نے کہا: ”یہ جنت ہے، اگر کوئی اور معاملہ ہوتا تو میں آپ کو ترجیح دیتا۔“ پھر سعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور بدر میں شہید ہو گئے۔ پھر خیثمہ اگلے سال احد کے دن شہید ہوئے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3735]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 4894، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2558»
سلیمان بن أبان مجہول الحال
سلیمان بن أبان مجہول الحال
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف