🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. باب صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: اسْكُبِي لِي وَضُوءًا، فَذَكَرَتْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ فِيهِ:" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (اکثر) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ (پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرے کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث کے یہی معنی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 126]
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے، ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) فرمایا: میرے لیے پانی انڈیل کر لاؤ۔ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنا بیان کیا، اس میں وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ تین بار دھوئے، چہرہ تین بار دھویا، کلی کی اور ناک میں ایک بار پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے اور سر کا دو بار مسح کیا، سر کے آخر سے شروع کیا، پھر اگلے حصے کی جانب سے مسح کیا اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے باہر سے بھی اور اندر سے بھی، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت مسدد کی روایت کے ہم معنی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 33 (43) (بقولہ في الباب)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 39 (390)، 52 (440)، (تحفة الأشراف: 15837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/360) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (33)،ابن ماجه (438)
ابن عقيل: ضعيف (يأتي: 128)
وللحديث شاھد ضعيف لشذوذه عند النسائي (99)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، يُغَيِّرُ بَعْضَ مَعَانِي بِشْرٍ، قَالَ فِيهِ وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا.
ابن عقیل سے بھی یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے، اس میں (سفیان نے) بشر کی حدیث کے بعض مفاہیم کو بدل دیا ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 127]
جناب اسحاق بن اسماعیل رحمہ اللہ کے واسطے سے یہ بھی روایت ہے، لیکن اس میں مذکورہ بالا روایتِ بشر (بشر بن مفضل رحمہ اللہ) سے بعض معانی میں فرق ہے، اس میں کہا گیا ہے: کلی کی اور ناک جھاڑی تین بار۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 15837) (شاذ)» ‏‏‏‏ (سفیان کی اس روایت میں تین بار ناک جھاڑنے کا ٹکڑا شاذ ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (126)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ قَرْنِ الشَّعْرِ كُلِّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ".
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 128]
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں وضو کیا تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے، ہر جانب سے بالوں کی لٹوں کے رخ پر ہاتھ پھیرتے تھے، اور آپ بالوں کو ان کی ہیئت سے حرکت نہ دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 15840)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/359، 360) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (390)
محمد بن عجلان مدلس (طبقات المدلسين: 3/98) ولم أجد تصريح سماعه
وعبد اللّٰه بن محمد بن عقيل: ضعيف،ضعفه الجمهور و أخطأ من زعم خلافه وضعفه ھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، قَالَتْ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً".
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 129]
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، اگلے حصے کا، پچھلے حصے کا، کنپٹیوں کا اور دونوں کانوں کا ایک بار۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 26 (34) (تحفة الأشراف: 15838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/359) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (34)،ابن ماجه (441)
ابن عقيل ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ".
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 130]
سیدہ ربیع (ربیع بنت معوذ) رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا، اور اسی پانی سے کیا جو ان کے ہاتھوں میں (پہلے سے) بچا ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (126)، (تحفة الأشراف: 15841) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان بن سعيد الثوري مدلس (طبقات المدلسين بتحقيقي: 2/51،والراجح أنه من المرتبة الثالثة) وعنعن
وابن عقيل ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي حُجْرَيْ أُذُنَيْهِ".
ربیع بنت معوذ (ربیع بنت معوذ بن عفراء) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیاں (مسح کے لیے) اپنے دونوں کانوں کے سوراخ میں داخل کیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 131]
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں کے سوراخوں میں داخل کیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (126) وراجع: سنن الترمذی/ الطہارة 52 (33)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 52 (441)، (تحفة الأشراف: 15839) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شواهد انظر الحديث الآتي (135)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ وَهُوَ أَوَّلُ الْقَفَا"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: مَسَحَ رَأْسَهُ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ حَتَّى أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ أُذُنَيْهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ يَحْيَى فَأَنْكَرَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ: إِنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ زَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُهُ وَيَقُولُ: إِيشْ هَذَا طَلْحَةُ؟ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ.
طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کا ایک بار مسح کرتے دیکھا یہاں تک کہ یہ «قذال» (گردن کے سرے) تک پہنچا۔ مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اپنے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا۔ مسدد کہتے ہیں: تو میں نے اسے یحییٰ (یحییٰ بن سعید القطان) سے بیان کیا تو آپ نے اسے منکر کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد (احمد بن حنبل) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ (سفیان) ابن عیینہ (بھی) اس حدیث کو منکر گردانتے تھے اور کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» کیا چیز ہے؟ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 132]
جناب طلحہ بن مصرف اپنے والد سے، وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کا مسح ایک بار کرتے تھے حتیٰ کہ (ہاتھ) «قذال» تک لے جاتے تھے۔ «قذال» گدی کے شروع کو کہتے ہیں۔ جناب مسدد (اپنی روایت میں) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا (سر کے) شروع سے لے کر آخر تک حتیٰ کہ اپنے ہاتھ کانوں کے نیچے سے نکالے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو سنا، وہ کہتے تھے کہ ابن عیینہ رحمہ اللہ اس حدیث کا انکار کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» یہ کیا اور کیسی سند ہے؟ (یعنی ضعیف ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 11127)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/481) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کا راوی ”مصرف“ مجہول ہے اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف مدلس،انظر لضعفه: كتاب الضعفاء للنسائي (511) والتلخيص الحبير (1/ 78 ح79) وغيرھما ولتدليسه: مشاهير علماء الأمصار لابن حبان (ص 146 ت 1153) وقال البوصيري: ضعفه الجمھور (زوائد ابن ماجه: 208) وقال ابن الملقن: وقد ضعفه الجمھور (البدرالمنير: 227/7)
وقال النووي: ’’فھو حديث ضعيف بالإتفاق‘‘ (المجموع شرح المھذب: 1/ 464)!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كُلَّهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور (اعضاء وضو کو) تین تین بار دھونے کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 133]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، اور ساری حدیث میں (اعضائے وضو کو دھونے کا) تین تین بار ذکر کیا۔ (مگر سر کے بارے میں کہا) اور اپنے سر اور کانوں کا مسح ایک بار کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 5579)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 28 (36)، 32 (42)، سنن النسائی/الطھارة 84 (101)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 43 (404)، 52 (439) (ضعیف جداً)» ‏‏‏‏ (اس کا ایک راوی ”عباد“ اخیر عمر میں مختلط ہو گیا تھا)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عباد بن منصور ضعيف مدلس،انظر طبقات المدلسين (121/ 4) وضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَذَكَرَ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ: الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ"، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: يَقُولُهَا أَبُو أُمَامَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ يَعْنِي قِصَّةَ الْأُذُنَيْنِ. قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ابْنُ رَبِيعَةَ كُنْيَتُهُ أَبُو رَبِيعَةَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو (کی کیفیت) کا ذکر کیا اور فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناک کے قریب دونوں آنکھوں کے کناروں کا مسح فرماتے تھے، ابوامامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کان سر میں داخل ہیں۔ سلیمان بن حرب کہتے ہیں: ابوامامہ بھی یہ کہا کرتے تھے (کہ دونوں کان سر میں داخل ہیں)۔ قتیبہ کہتے ہیں کہ حماد نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ قول یعنی دونوں کانوں کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، یا ابوامامہ کا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 134]
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا، فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آنکھوں کے کویوں (وہ گوشہ جو ناک کی طرف ہو) کا مسح بھی کیا کرتے تھے۔ اور فرمایا: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ سلیمان بن حرب نے کہا کہ یہ بات ابوامامہ رضی اللہ عنہ ذکر کرتے تھے۔ قتیبہ کہتے ہیں کہ حماد نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ آیا یہ قول: کان سر کا حصہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا قول۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں «عن سنان أبي ربيعة» کہا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سنان ہی ابن ربیعہ ہے اور اس کی کنیت بھی ابوربیعہ ہی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 29 (37)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 53 (444)، (تحفة الأشراف: 4887)، وقد أخرجہ: حم (5/258، 264) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی ”سنان“ اور ”شہر“ ضعیف ہیں، البتہ اس کا ایک ٹکڑا «‏‏‏‏الأذنان من الرأس» ‏‏‏‏ دیگر احادیث سے ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (416)
شھر بن حوشب حسن الحديث، وثقه الجمھور ولم يثبت الجرح القادح فيه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں