🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. باب صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو تَوْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ، فَذَكَرَ وُضُوءَهُ كُلَّهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ابوحیہ نے آپ کے پورے (اعضاء) وضو کے تین تین بار دھونے کا ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے، پھر کہا: میری خواہش ہوئی کہ میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلاؤں (کہ آپ کس طرح وضو کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 116]
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا، اور ابوحیہ نے بتایا کہ انہوں نے سارا وضو تین تین بار کیا۔ اور کہا: پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ اس کے بعد اپنے دونوں پاؤں دھوئے ٹخنوں تک۔ پھر فرمایا: میں نے چاہا کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلا دوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 37 (48)، سنن النسائی/الطہارة 79 (96)، 93 (115)، (تحفة الأشراف: 10321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/120،125، 127، 142، 148) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (410)
ورواه شعبة عن أبي إسحاق السبيعي به عند النسائي (136) وسنده حسن، وغسل الرجلين عن علي: رواه أحمد (1/110) وسنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ حَتَّى وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أُرِيكَ كَيْفَ كَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَأَصْغَى الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفِّهِ الْيُمْنَى قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ فَتَرَكَهَا تَسْتَنُّ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظُهُورَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ جَمِيعًا فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَفَتَلَهَا بِهَا، ثُمَّ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ شَيْبَةَ، يُشْبِهُ حَدِيثَ عَلِيٍّ لِأَنَّهُ قَالَ فِيهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ فِيهِ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے، اور وضو کے لیے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا (اور پانی لے کر) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ (ملا کر) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار (بھی) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے (دائیں) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 117]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، آپ استنجاء کر چکے تھے، آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، ہم ایک چھوٹے برتن میں پانی لائے اور آپ کے سامنے رکھ دیا تو آپ نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! چنانچہ انہوں نے برتن کو اپنے ہاتھ پر ٹیڑھا کیا اور ہاتھ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ اس میں ڈالا اور دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے ہی برتن میں ڈالے اور دونوں ہاتھوں سے ایک لپ پانی لیا اور اپنے چہرے پر ڈالا، پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں میں ڈالا یعنی جو حصہ چہرے کی جانب تھا، (اسے بھی دھویا) پھر دوسری بار، پھر تیسری بار ایسے ہی کیا۔ پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈالا اور اسے اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنی دونوں کلائیاں کہنیوں تک دھوئیں تین تین بار، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور کانوں کے باہر کا (بھی) پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں ڈالے اور پانی کی ایک لپ لے کر اپنے پاؤں پر ڈالی اور اس میں (چپل کا سا) جوتا تھا، اپنے پاؤں کو اس پانی کے ساتھ ملا، پھر دوسرے پاؤں کو بھی ایسے ہی۔ عبداللہ خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا: جوتوں سمیت؟! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جوتوں سمیت! میں نے پھر کہا: جوتے پہنے پہنے ہی؟ میں نے پھر کہا: جوتوں سمیت؟ انہوں نے کہا: (ہاں) جوتوں سمیت۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج کی شیبہ (شیبہ بن نصاح) سے روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے۔ اس روایت میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے نقل کیا ہے: اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا۔ اور ابن وہب نے یہی روایت ابن جریج سے نقل کی تو کہا: سر کا مسح تین بار کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (10198)، وحدیث ابن جریج عن شیبة أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 78 (95)، تحفة الأشراف (10075)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (بتصریح امام ترمذی: امام بخاری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے)
وضاحت: ۱؎: متن حدیث میں «ففتلها» کا لفظ وارد ہوا ہے جس کے معنی بہت تھوڑی چیز کے ہیں یعنی بہت ہلکا دھویا شیعہ اس حدیث سے ننگے اور کھلے پاؤں پر مسح کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ ایک نسخہ میں «ففتلها» کی جگہ «فغسلها» وارد ہوا ہے، نیز یہ حدیث بتصریح امام بخاری ضعيف ہے اس میں کوئی علت خفیہ ہے، بفرض صحت امام خطابی اور ابن القیم نے چند تاویلات کی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد: 1/ 82

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
یحییٰ مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم (جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے نانا ہیں) سے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرماتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس آپ نے وضو کے لیے پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان دونوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے اس طرح کہ اس کی ابتداء اپنے سر کے اگلے حصے سے کی، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے پھر انہیں اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 118]
عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد (یحییٰ مازنی) نے سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا، اور یہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیسے کیا کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! چنانچہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا تین بار، پھر چہرہ دھویا تین بار، پھر دونوں ہاتھ دھوئے کہنیوں تک دو دو بار، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا اور انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، سر کے اگلے حصے سے شروع کیا اور گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لائے اور وہاں تک لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 38 (185)، 39 (186)، 41 (191)، 42 (192)، 45 (197)، صحیح مسلم/الطھارة 7 (235)، سنن الترمذی/الطھارة 22 (28)، 24 (32)، 36 (47)، سنن النسائی/الطھارة 80 (97)، 81 (98)، 82 (99)، (تحفة الأشراف: 5308)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 1 (1)، مسند احمد (4/38، 39، سنن الدارمی/الطھارة 28 (721) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (185) صحيح مسلم (235)
مشكوة المصابيح (393)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ انہوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار ایسا ہی کیا، پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 119]
جناب مسدد رحمہ اللہ کی سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے کہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، ایک ہی چلو سے، ایسا تین بار کیا، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کے مطابق روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 5308) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (191) صحيح مسلم (235)
مشكوة المصابيح (412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ:" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ وُضُوءَهُ، وَقَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا".
عبداللہ بن زید بن عاصم ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (وضو کرتے ہوئے) دیکھا، پھر آپ کے وضو کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 120]
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو بیان کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ (نئے پانی) سے کیا اور اپنے پاؤں دھوئے حتیٰ کہ انہیں خوب صاف کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 7(236)، سنن الترمذی/الطہارة 27 (35) مختصراً (تحفة الأشراف: 5307) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (236)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا".
عبدالرحمٰن بن میسرہ حضرمی کہتے ہیں کہ میں نے مقدام بن معد یکرب کندی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا، اپنے دونوں پہونچے تین بار دھلے، پھر کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) تین تین بار دھلے، پھر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 121]
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں تین بار، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا تین بار، چہرہ دھویا تین بار، کلائیاں دھوئیں تین تین بار، پھر سر کا مسح کیا اور ساتھ ہی کانوں کے باہر اور اندر کا (بھی)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود: (تحفة الأشراف: 11573)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 52 (442) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وھو في المسند للامام احمد: 4/ 132 ح 7320

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، لَفْظَهُ قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ"، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ.
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 122]
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب سر کے مسح تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھیں اور انہیں سر پر پھیرا حتیٰ کہ گدی تک لے گئے۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اسی جگہ واپس لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا۔ محمود کی روایت میں «أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ» کی تصریح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطہارة 52 (442)، (تحفة الأشراف: 11572) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الوليد بن مسلم صرح بالسماع عند الطحاوي في معاني الآثار (1/32) وسنده صحيح وحريز بن عثمان وعبد الرحمن بن ميسرة صرح بالسماع كما تقدم (121) وانظر الحديث الآتي (122، 135) ولبعض الحديث شواهد عند أحمد (1/123 ح 1005) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَهِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَمَسَحَ بِأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، زَادَ هِشَامٌ: وَأَدْخَلَ أَصَابِعَهُ فِي صِمَاخِ أُذُنَيْهِ.
اس طریق سے بھی ولید (ولید بن مسلم) سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کی پشت اور ان کے اندرونی حصے کا مسح کیا، اور ہشام نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اپنے دونوں کان کے سوراخ میں داخل کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 123]
ولید بن مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا سند سے روایت کیا ہے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کانوں کے باہر اور اندر کی طرف مسح کیا، ہشام رحمہ اللہ نے مزید کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں کانوں کے سوراخوں میں داخل کیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11572) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وانظر سنن أبي داود (122، 135)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةُ بْنُ فَرْوَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ،" أَنَّ مُعَاوِيَةَ تَوَضَّأَ لِلنَّاسِ كَمَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَهُ، غَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَلَقَّاهَا بِشِمَالِهِ حَتَّى وَضَعَهَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ حَتَّى قَطَرَ الْمَاءُ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ، ثُمَّ مَسَحَ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ".
عبداللہ بن علاء کہتے ہیں کہ ابوالازہر مغیرہ بن فروہ اور یزید بن ابی مالک نے ہم سے بیان کیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے اسی طرح وضو کیا جس طرح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، جب وہ اپنے سر (کے مسح) تک پہنچے تو بائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے بیچ سر پر ڈالا یہاں تک کہ پانی ٹپکنے لگایا ٹپکنے کے قریب ہوا، پھر اپنے (سر کے) اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اور پچھلے حصہ سے اگلے حصہ تک مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 124]
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وضو کر کے دکھلایا جیسے کہ خود انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ جب آپ سر کے مسح کو پہنچے تو آپ نے ایک چلو لیا اور بائیں ہاتھ پر ڈالا اور اس چلو کو سر کے درمیان کیا، حتیٰ کہ پانی کے قطرات گرے یا گرنے کے قریب تھے، پھر سر کے اگلے حصے سے آخر تک اور آخر سے اگلے حصے تک کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11442) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِغَيْرِ عَدَدٍ.
محمود بن خالد کہتے ہیں کہ ہم سے ولید نے اسی سند سے بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ انہوں معاویہ رضی اللہ عنہ نے تین تین بار وضو کیا اور اپنے پاؤں دھوئے اس میں عدد کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 125]
جناب محمود بن خالد نے ولید سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ یہ کہا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا (تو وضو کے اعضاء) تین تین بار (دھوئے) اور اپنے پاؤں دھوئے بغیر شمار کیے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11443) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (124)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں