صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
34. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
- اس باب میں دوسری حدیث بیان ہے جو پہلے مفہوم کی تصدیق کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 5453
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " يُصَلِّي مَحْلُولا إِزَارُهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي كَذَلِكَ" .
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ بٹن کھول کر نماز ادا کر رہے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِهِ/حدیث: 5453]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5429»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (1/ 42).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5454
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، يَقُولُ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ ، وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ:" أَمَّا بَعْدُ، فَاتَّزِرُوا، وَارْتَدُوا، وَانْتَعِلُوا، وَارْمُوا بِالْخِفَافِ، وَاقْطَعُوا السَّرَاوِيلاتِ، وَعَلَيْكُمْ بِلِبَاسِ أَبِيكُمْ إِسْمَاعِيلَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ الْعَجَمِ، وَعَلَيْكُمْ بِالشَّمْسِ، فَإِنَّهَا حَمَّامُ الْعَرَبِ، وَاخْشَوْشِنُوا، وَاخْلَوْلِقُوا، وَارْمُوا الأَغْرَاضَ، وَانْزُوا نَزْوًا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الْحَرِيرِ، إِلا هَكَذَا: أُصْبُعَيْهِ وَالْوسْطَى وَالسَّبَّابَةِ" ، قَالَ: فَمَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي إِلا الأَعْلامَ.
ابوعثمان بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب ہمارے پاس آیا ہم اس وقت عتبہ بن فرقد کے ہمراہ آذربائیجان میں موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا) امابعد! بٹن بند رکھو جوتے پہن کے رکھو کم وزنی تیر چلاؤ اور شلواروں کو (ٹخنوں سے کچھ اوپر) کاٹ دو تم پر لازم ہے تم اپنے جدامجد سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا سا لباس پہنو اور تم لوگ (مہنگی اور فضول) آرائش و زیبائش والی نعمتوں اور عجمیوں کے طور طریقوں سے بچو اور تم پر لازم ہے دھوپ میں بھی رہو کیونکہ یہ عربوں کا حمام ہے۔ کھردرے اور پرانے کپڑے پہنو اور گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سواری کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم پہننے سے منع کیا ہے البتہ اتنے کی اجازت ہے یعنی دو انگلیوں کی، درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی۔
راوی کہتے ہیں: ہمارے علم کے مطابق اس سے مراد نشانی (یعنی پٹی کے طور پر ریشم استعمال کرنا ہے)
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِهِ/حدیث: 5454]
راوی کہتے ہیں: ہمارے علم کے مطابق اس سے مراد نشانی (یعنی پٹی کے طور پر ریشم استعمال کرنا ہے)
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِهِ/حدیث: 5454]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5430»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (6/ 140).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم