🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

121. الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ وَالْفِرْدَوْسُ مِنْ أَعْلَاهَا دَرَجَةً فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ
جنت سو درجے کی ہے، فردوس ان میں سب سے اعلیٰ درجہ ہے، پس تم فردوس کا سوال کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 270
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن هلال بن علي، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"الجنةُ مئةُ درجة بين كل درجتين كما بينَ السماءِ والأرض، والفِردَوسُ من أعلاها درجةً، ومنها تَفجَّرُ أنهارُ الجنة، فإذا سألتم اللهَ فاسألوه الفِردوسَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح بمثل هذا الإسناد عن أبي هريرة وأبي سعيد:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اور ان میں سب سے اعلیٰ درجہ فردوس ہے، وہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں، پس جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس کا سوال کیا کرو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسی سند کے ساتھ ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما سے اس کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 270]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 271
أخبرَناه أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجيةَ، حدثني محمد بن مَعمَر، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا فُليح. قال: وحدثنا ابن ناجيةَ، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني فُلَيح بن سليمان، عن هلال بن علي، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي هريرة وأبي سعيد، عن النبي ﷺ نحوَه (1) . وكذلك روي بإسناد صحيح عن عُبادة بن الصامت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 267 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح (پچھلی حدیث کی طرح) ارشاد فرمایا۔
اسی طرح یہ حدیث سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بھی صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 271]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 272
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان بن مسلم وأبو الوليد الطَّيالسي قالا: حدثنا همَّام، عن زيد بن أسلمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن عبادة بن الصامت، أنَّ النبي ﷺ قال:"الجنةُ مئةُ درجةٍ، ما بين كلِّ درجتَينِ كما بينَ السماء والأرض، والفِردَوسُ مِن أعلاها درجةً، ومنها تَفجَّرُ أنهارُ الجنة، فإذا سألتُم الله فاسألوه الفِردوسَ" (2) .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اور ان میں سب سے اعلیٰ درجہ فردوس ہے، وہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں، لہٰذا جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس کا سوال کیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 272]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 273
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا أَبي، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا ابن وَهْب، حدثني حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله ﷺ، قال:"إنَّ في الجنة غُرفًا [يُرَى] ظاهرُها من باطنِها، وباطنُها من ظاهرِها" فقال أبو مالك الأشعري: لمن يا رسول الله؟ قال:"لمَنْ أطابَ الكلام، وأطعمَ الطعام، وباتَ قانِتًا والناسُ نِيَام" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا جميعًا بحُيَي: وهو أبو عبد الرحمن المَذحِجِي صاحب سليمان بن عبد الملك، ويقال: مولاه (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 270 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے لیے ہیں جو نرم اور شیریں گفتگو کریں، کھانا کھلائیں اور رات کو اس وقت (نفل) نماز پڑھیں جب لوگ سو رہے ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ ان دونوں نے حُیی (ابو عبدالرحمن مذحجی) سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 273]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں