🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

122. ذِكْرُ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَأَنْهَارِ الْجَنَّةِ
سدرۃ المنتہیٰ اور جنت کی نہروں کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 274
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة، عن أنس في قوله ﷿: ﴿عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى﴾ [النجم: 14] ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"رُفِعَت لي سِدْرةٌ مُنتهاها في السماء السابعة، نَبِقُها مثلُ قِلَال هَجَرَ، وورقُها مثلُ آذان الفِيَلة، يخرج من ساقها نهرانِ ظاهرانِ ونهرانِ باطنان، قال: قلت: يا جبريل، ما هذانِ؟ قال: أمّا الباطنان، ففي الجنة، وأما الظاهران، فالنِّيلُ والفُرات" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. وله شاهد غريب من حديث شُعْبة عن قَتَادة عن أنس صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 271 - على شرطهما ولم يخرجاه بهذه السياقة
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى﴾ [سورة النجم: 14] کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے سدرۃ المنتہیٰ کو بلند کیا گیا جس کی انتہا ساتویں آسمان پر ہے، اس کے پھل مقامِ ہجر کے مٹکوں کی طرح (بڑے) ہیں اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں جیسے ہیں، اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی ہیں، دو ظاہر ہیں اور دو پوشیدہ۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: جہاں تک ان دو پوشیدہ نہروں کا تعلق ہے تو وہ جنت میں ہیں، اور دو ظاہر نہریں نیل اور فرات ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 274]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 275
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن أحمد بن أنس القُرَشي، حدثنا حفص بن عبد الله السَّلَمي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن شُعْبة بن الحجَّاج، عن قتادة، عن أنس بن مالك أنه قال: قال رسول الله ﷺ:"دُفِعتُ إلى السِّدْرة، فإذا أربعةُ أنهار: نهران ظاهران، ونهران باطنان، فأمَّا الظاهران فالنِّيلُ والفُرات، وأما الباطنانِ: فنهرانِ في الجنة، وأُتِيتُ بثلاثة أقداح: قَدَحٌ فيه لبن، وقَدحٌ فيه عسل، وقدحٌ فيه خمر، فأخذتُ الذي فيه اللبنُ فشربتُ، فقيل لي: أصبتَ الفِطْرةَ أنت وأمَّتُك" (2) . قال الحاكم أبو عبد الله: قلتُ لشيخنا أبي عبد الله: لمَ لمْ يُخرجا هذا الحديث؟ فقال: لأنَّ أنس بن مالك لم يَسمَعْه من النبي ﷺ، إنما سمعه من مالك بن صَعْصَعةَ. قال الحاكم: ثم نظرتُ فإذا الأحرفُ التي سمعها من مالك بن صعصعة غيرُ هذه، وليَعلَمْ طالبُ هذا العلم: أنَّ حديث المِعْراج قد سمع أنسٌ بعضَه من النبي ﷺ، وبعضَه من أبي ذرٍّ الغِفاري، وبعضَه من مالك بن صَعْصعةَ، وبعضَه من أبي هريرة (1) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا، تو وہاں چار نہریں تھیں: دو ظاہر اور دو پوشیدہ، ظاہر نہریں نیل اور فرات ہیں اور پوشیدہ نہریں جنت کی دو نہریں ہیں۔ وہاں میرے پاس تین پیالے لائے گئے: ایک دودھ کا، ایک شہد کا اور ایک شراب کا، میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور اسے پی لیا، تو مجھ سے کہا گیا: آپ نے اور آپ کی امت نے فطرت کو پا لیا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ سے پوچھا کہ شیخین نے اسے روایت کیوں نہیں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اسے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ مالک بن صعصعہ سے سنا تھا۔ میں (حاکم) کہتا ہوں کہ میں نے غور کیا تو وہ الفاظ جو انہوں نے مالک بن صعصعہ سے سنے وہ اس سے مختلف ہیں، اور طالب علم کو یہ جان لینا چاہیے کہ معراج کی حدیث کا کچھ حصہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، کچھ ابوذر غفاری سے، کچھ مالک بن صعصعہ سے اور کچھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 275]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں