🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
121. الجنة مائة درجة والفردوس من أعلاها درجة فاسألوه الفردوس
جنت سو درجے کی ہے، فردوس ان میں سب سے اعلیٰ درجہ ہے، پس تم فردوس کا سوال کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 273
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا أَبي، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا ابن وَهْب، حدثني حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله ﷺ، قال:"إنَّ في الجنة غُرفًا [يُرَى] ظاهرُها من باطنِها، وباطنُها من ظاهرِها" فقال أبو مالك الأشعري: لمن يا رسول الله؟ قال:"لمَنْ أطابَ الكلام، وأطعمَ الطعام، وباتَ قانِتًا والناسُ نِيَام" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا جميعًا بحُيَي: وهو أبو عبد الرحمن المَذحِجِي صاحب سليمان بن عبد الملك، ويقال: مولاه (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 270 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے لیے ہیں جو نرم اور شیریں گفتگو کریں، کھانا کھلائیں اور رات کو اس وقت (نفل) نماز پڑھیں جب لوگ سو رہے ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ ان دونوں نے حُیی (ابو عبدالرحمن مذحجی) سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 273]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 273 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن، وهذا إسناد فيه لِين من أجل حُيي - وهو ابن عبد الله المَعافِري - لكن روي هذا الحديث من وجهٍ حسنٍ عن أبي مالك الأشعري نفسه كما سيأتي، وباقي رجال هذا الإسناد ثقات. أبو عبد الرحمن: هو عبد الله بن يزيد المعافري الحُبُلي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں حُیی بن عبداللہ المعافری کی وجہ سے معمولی کمزوری (لین) ہے، لیکن یہ حدیث خود ابومالک اشعری سے ایک دوسرے حسن طریق سے بھی مروی ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ سند کے باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 ناموں کی تحقیق: ابوعبدالرحمن سے مراد عبداللہ بن یزید المعافری الحبُلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6615) من طريق ابن لهيعة عن حيي بن عبد الله، بهذا الإسناد - ووقع فيه أبو موسى الأشعري مكان أبي مالك الأشعري، وهو خطأ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (ج 11، حدیث 6615) میں ابن لہیعہ عن حیی بن عبداللہ کی سند سے روایت کیا ہے، تاہم وہاں ابومالک اشعری کے بجائے ابوموسیٰ اشعری کا نام درج ہو گیا ہے جو کہ ایک غلطی ہے۔
وسيأتي الحديث عند المصنف برقم (1215) من طريق أبي الطاهر عن ابن وهب.
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث مصنف (امام حاکم) کے ہاں آگے نمبر (1215) پر ابوالطاہر عن ابن وہب کے طریق سے آئے گی۔
وأخرجه أحمد 37/ (22905)، وابن حبان (509) من طريق عبد الله بن معانق، عن أبي مالك الأشعري. وإسناده حسن إن شاء الله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (ج 37، حدیث 22905) اور ابن حبان نے (509) میں عبداللہ بن معانق عن ابی مالک اشعری کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے ان شاء اللہ۔
وفي الباب عن علي بن أبي طالب عند عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 2/ (1338)، والترمذي (1984) و (2527)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت علی بن ابی طالب سے بھی روایت مروی ہے جو عبداللہ بن احمد کی "زوائد المسند" (ج 2، حدیث 1338) اور ترمذی (1984، 2527) میں موجود ہے، مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
(2) هذا وهمٌ من المصنف رحمه الله تعالى، فإنَّ حُييًّا هذا: هو ابن عبد الله المعافري وليس المذحجي، فإنَّ الثاني لم يرو عنه ابن وهب ولا ابن لهيعة، كما أنه لم يرو عن أبي عبد الرحمن الحبلي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ مصنف (امام حاکم) کا وہم ہے، کیونکہ یہ راوی حُیی بن عبداللہ المعافری ہیں نہ کہ المذحجی؛ کیونکہ حُیی المذحجی سے نہ تو ابن وہب اور ابن لہیعہ نے روایت کی ہے اور نہ ہی انہوں نے ابوعبدالرحمن الحبلی سے کچھ سنا ہے۔