المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. إِنَّ اللَّهَ إِذَا ذَكَرَ شَيْئًا تَعَاظَمَ ذِكْرُهُ
اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا ذکر فرماتا ہے تو اس کے ذکر کو عظیم بنا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 325
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم الدارَبردي بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، عن ابن بُرَيدة: أنَّ معاوية خرج من حمَّام حِمْص، فقال لغلامه: ائتِني بسِبْتِيَّتَيَّ (2) ، فلَبِسَهما، ثم دخل مسجدَ حِمصَ فركع ركعتين، فلما فَرَغَ إذا هو بناسٍ جلوسٍ، فقال لهم: ما يُجلِسُكم؟ قالوا: صلَّينا صلاة المكتوبة، ثمَّ قصَّ القاصُّ، فلما فرغ قعدنا نتذاكرُ سُنَّةَ رسول الله ﷺ، فقال معاوية: ما من رجل أدرَكَ النبيَّ ﷺ أقلَّ حديثًا عنه مني، إني سأحدِّثكم بخَصْلتين حَفِظتُهما من رسول الله ﷺ:"ما من رجلٍ يكون على الناسِ فيقومُ على رأسِه الرجالُ، يحبُّ أن تَكثُرَ الخصومُ عنده، فَيَدخُلَ الجنة". قال: وكنت مع النبي ﷺ يومًا فدخل المسجد، فإذا هو بقومٍ في المسجد قعودٌ، فقال النبي ﷺ:"ما يُقعِدُكم؟" قالوا: صلَّينا الصلاةَ المكتوبة، ثم قَعَدْنا نتذاكرُ كتابَ الله وسنَّةَ نبيِّه ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله إذا ذَكَرَ شيئًا تَعاظَمَ ذِكرُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد سمع عبدُ الله بن بُرَيدة الأسلمي من معاوية غيرَ حديث. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاءً في شهر رمضان سنة ثلاث وتسعين (1) وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 321 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد سمع عبدُ الله بن بُرَيدة الأسلمي من معاوية غيرَ حديث. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاءً في شهر رمضان سنة ثلاث وتسعين (1) وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 321 - على شرطهما
ابن بریدہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حمص کے حمام سے نکلے اور اپنے غلام سے کہا کہ میری سبتی (چمڑے کی) جوتیاں لے آؤ، انہوں نے وہ پہنیں، پھر حمص کی مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ان سے پوچھا: تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم نے فرض نماز ادا کی، پھر ایک وعظ کرنے والے نے نصیحت کی، اور جب وہ فارغ ہوا تو ہم بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تذکرہ کرنے لگے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پانے والوں میں مجھ سے کم حدیث بیان کرنے والا کوئی نہیں، میں تمہیں دو ایسی باتیں بتاتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی ہیں: ”جو شخص لوگوں کا حکمران ہو اور لوگ اس کے سامنے دست بستہ (عاجزی سے) کھڑے ہوں اور وہ یہ پسند کرتا ہو کہ اس کے گرد بہت سے جھگڑے اور فریادی جمع ہوں (یعنی وہ تکبر کرے)، تو وہ (کیسے) جنت میں داخل ہو گا؟“ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نے فرض نماز پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تذکرہ کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جب کسی چیز کا ذکر کرتا ہے تو اس کا تذکرہ بہت عظیم ہو جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور عبداللہ بن بریدہ اسلمی نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کئی احادیث سنی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 325]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور عبداللہ بن بریدہ اسلمی نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کئی احادیث سنی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 325]
حدیث نمبر: 326
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدِي، عن شُعْبة، عن علي بن الحَكَم، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: كان أصحابُ النبي ﷺ إذا جلسوا كان حديثُهم - يعني - الفقهَ، إلّا أن يَقرأَ رجلٌ سورةً أو يأمرَ رجلًا يقرأُ سورة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ موقوف عن أبي سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 322 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ موقوف عن أبي سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 322 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جب بیٹھتے تھے تو ان کی گفتگو کا محور دین کی گہری سمجھ بوجھ (فقہ) ہوتا تھا، الا یہ کہ کوئی شخص قرآن کی کوئی سورت تلاوت کرتا یا کسی کو تلاوت کا حکم دیتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 326]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 326]
حدیث نمبر: 327
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: تَذاكَروا الحديثَ، فإنَّ مُذاكَرةَ الحديث تَهِيجُ الحديثَ (3) . وقد رُوِيَ في الحثِّ على مُطالَبة (1) الحديث عن علي بن أبي طالب وعبد الله بن مسعود، بأحاديثَ صحيحةٍ على شرط الشيخين. أما حديث علي:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: تم احادیث کا آپس میں تذکرہ (مذاکرہ) کیا کرو، کیونکہ حدیث کا باہمی تذکرہ ہی مزید احادیث کو ذہن میں بیدار اور تازہ کرتا ہے۔
اس کا ایک موقوف شاہد ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 327]
اس کا ایک موقوف شاہد ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 327]