المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. إن الله إذا ذكر شيئا تعاظم ذكره
اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا ذکر فرماتا ہے تو اس کے ذکر کو عظیم بنا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 326
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدِي، عن شُعْبة، عن علي بن الحَكَم، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: كان أصحابُ النبي ﷺ إذا جلسوا كان حديثُهم - يعني - الفقهَ، إلّا أن يَقرأَ رجلٌ سورةً أو يأمرَ رجلًا يقرأُ سورة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ موقوف عن أبي سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 322 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ موقوف عن أبي سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 322 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جب بیٹھتے تھے تو ان کی گفتگو کا محور دین کی گہری سمجھ بوجھ (فقہ) ہوتا تھا، الا یہ کہ کوئی شخص قرآن کی کوئی سورت تلاوت کرتا یا کسی کو تلاوت کا حکم دیتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 326]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 326]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 326 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود ابو نضرہ کا پورا نام المنذر بن مالک بن قطعہ ہے۔
وأخرجه البيهقي في "المدخل" (419) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "المدخل" (419) میں امام حاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الخطيب البغدادي في "الفقيه والمتفقه" (948)، و"الجامع لأخلاق الراوي والسامع" (1207) من طريق عفان، عن شعبة، به - إلّا أنه جعله من قول أبي نضرة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطیب بغدادی نے بھی اسے روایت کیا ہے، مگر انہوں نے اسے مرفوع کے بجائے ابو نضرہ کا اپنا قول (موقوف) قرار دیا ہے۔