المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. الْأَمْرُ بِكِتَابَةِ الْحَدِيثِ
حدیث لکھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 363
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن سلمان، عن عُقَيل بن خالد، عن عَمْرو بن شعيب، أنَّ شعيبًا حدَّثه ومجاهد، أنَّ عبد الله بن عمرو حدَّثهم أنه قال: يا رسول الله، أكتبُ ما أسمَعُ منك؟ قال:"نعم" قلت: عند الغضب وعند الرِّضا؟ قال:"نَعَم، إنه لا يَنبَغي لي أن أقولَ إلّا حقًّا" (1) . فليَعلَمْ طالبُ هذا العلم أنَّ أحدًا لم يتكلَّم قَطُّ في عمرو بن شعيب (2) ، وإنما تكلَّم مسلم في سماع شعيب من عبد الله بن عمرو، فإذا جاء الحديث عن عمرو بن شعيب عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو، فإنه صحيح، على أني إنما ذكرتُه شاهدًا لحديث عبد الواحد بن قيس. وقد رُوِيَ هذا الحديث بعَيْنه عن يوسف بن ماهَكَ:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں وہ سب کچھ لکھ لیا کروں جو آپ سے سنتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: غصے کی حالت میں بھی اور خوشی کی حالت میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کیونکہ میرے لیے حق کے سوا کچھ کہنا مناسب ہی نہیں ہے۔“
علمِ حدیث کے طالب علم کو یہ جان لینا چاہیے کہ کسی نے بھی عمرو بن شعیب پر کبھی کلام نہیں کیا، امام مسلم نے صرف شعیب کے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماع پر کلام کیا ہے، لیکن جب یہ روایت مجاہد کے واسطے سے آئے تو یہ صحیح ہے، اور میں نے اسے عبدالواحد بن قیس کی حدیث کے شاہد کے طور پر ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 363]
علمِ حدیث کے طالب علم کو یہ جان لینا چاہیے کہ کسی نے بھی عمرو بن شعیب پر کبھی کلام نہیں کیا، امام مسلم نے صرف شعیب کے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماع پر کلام کیا ہے، لیکن جب یہ روایت مجاہد کے واسطے سے آئے تو یہ صحیح ہے، اور میں نے اسے عبدالواحد بن قیس کی حدیث کے شاہد کے طور پر ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 363]
حدیث نمبر: 364
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارِثي، حدثنا يحيى بن سعيد. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الأخنَس، عن الوليد بن عبد الله، عن يوسف بن ماهَك، عن عبد الله بن عمرو قال: كنت أكتبُ كلَّ شيءٍ أسمعُه من رسول الله ﷺ وأريدُ حِفظَه، فنَهَتْني قريش وقالوا: تكتبُ كلَّ شيءٍ تسمعُه من رسول الله ﷺ، ورسولُ الله ﷺ بشرٌ يتكلَّم في الرِّضا والغضب؟! قال: فأمسكتُ، فذَكَرتُ ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"اكتُبْ، فوالَّذي نفسي بيده ما خَرَج منه إلّا حقٌّ"، وأشار بيده إلى فيهِ (3) . رواةُ هذا الحديث قد احتجَّا بهم عن آخرهم غير الوليد هذا، وأظنُّه الوليدَ بن أبي الوليد الشامي فإنه الوليد بن عبد الله (1) ، وقد غَلَبَ على أبيه الكُنْية، فإن كان كذلك فقد احتجَّ به مسلم. وقد صحَّت الروايةُ عن أمير المؤمنين عمر بن الخطّاب أنه قال: قيِّدوا العلمَ بالكِتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 359 - إن كان الوليد هو ابن أبي الوليد الشامي فهو على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 359 - إن كان الوليد هو ابن أبي الوليد الشامي فهو على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتا تھا اسے یاد رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا، تو قریش نے مجھے روکا اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں جو خوشی اور غصہ (دونوں حالتوں) میں کلام فرماتے ہیں؟ پس میں رک گیا اور اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (منہ) سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔
اس حدیث کے تمام راویوں سے شیخین نے احتجاج کیا ہے سوائے ولید کے، اور میرا گمان ہے کہ یہ ولید بن ابی ولید شامی ہیں، اگر ایسا ہے تو امام مسلم نے ان سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 364]
اس حدیث کے تمام راویوں سے شیخین نے احتجاج کیا ہے سوائے ولید کے، اور میرا گمان ہے کہ یہ ولید بن ابی ولید شامی ہیں، اگر ایسا ہے تو امام مسلم نے ان سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 364]
حدیث نمبر: 365
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا أبو عاصم، عن ابن جُرَيج، عن عبد الملك بن عبد الله بن أبي سفيان، أنه سمع عمر بن الخطّاب يقول: قيِّدوا العلمَ بالكتاب (2) . وكذلك الرواية عن أنس بن مالك صحيحٌ من قوله، وقد أُسنِدَ من وجهٍ غير مُعتمَد، فأما الرواية من قوله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 360 - وصح مثله من قول أنس
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 360 - وصح مثله من قول أنس
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”علم کو تحریر کے ذریعے قید (محفوظ) کر لیا کرو۔“
اسی طرح یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی ان کے اپنے قول کے طور پر صحیح مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 365]
اسی طرح یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی ان کے اپنے قول کے طور پر صحیح مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 365]