🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. الأمر بكتابة الحديث
حدیث لکھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 364
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارِثي، حدثنا يحيى بن سعيد. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الأخنَس، عن الوليد بن عبد الله، عن يوسف بن ماهَك، عن عبد الله بن عمرو قال: كنت أكتبُ كلَّ شيءٍ أسمعُه من رسول الله ﷺ وأريدُ حِفظَه، فنَهَتْني قريش وقالوا: تكتبُ كلَّ شيءٍ تسمعُه من رسول الله ﷺ، ورسولُ الله ﷺ بشرٌ يتكلَّم في الرِّضا والغضب؟! قال: فأمسكتُ، فذَكَرتُ ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"اكتُبْ، فوالَّذي نفسي بيده ما خَرَج منه إلّا حقٌّ"، وأشار بيده إلى فيهِ (3) . رواةُ هذا الحديث قد احتجَّا بهم عن آخرهم غير الوليد هذا، وأظنُّه الوليدَ بن أبي الوليد الشامي فإنه الوليد بن عبد الله (1) ، وقد غَلَبَ على أبيه الكُنْية، فإن كان كذلك فقد احتجَّ به مسلم. وقد صحَّت الروايةُ عن أمير المؤمنين عمر بن الخطّاب أنه قال: قيِّدوا العلمَ بالكِتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 359 - إن كان الوليد هو ابن أبي الوليد الشامي فهو على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتا تھا اسے یاد رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا، تو قریش نے مجھے روکا اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں جو خوشی اور غصہ (دونوں حالتوں) میں کلام فرماتے ہیں؟ پس میں رک گیا اور اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (منہ) سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔
اس حدیث کے تمام راویوں سے شیخین نے احتجاج کیا ہے سوائے ولید کے، اور میرا گمان ہے کہ یہ ولید بن ابی ولید شامی ہیں، اگر ایسا ہے تو امام مسلم نے ان سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 364]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 364 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. يحيى: هو ابن سعيد القطّان، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ. ¤ ¤ وأخرجه أبو داود (3646) عن مسدَّد، بهذا الإسناد. وقرن بمسدَّد أبا بكر بن أبي شيبة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں "یحییٰ" سے مراد یحییٰ بن سعید القطان اور "ابو المثنیٰ" سے مراد معاذ بن المثنیٰ بن معاذ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود نے (3646) میں مسدد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور مسدد کے ساتھ ابو بکر بن ابی شیبہ کا بھی ذکر کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6510) عن يحيى بن سعيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (11/ 6510) میں یحییٰ بن سعید (القطان) کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
(1) الوليد بن عبد الله هذا راوٍ آخر غير الوليد بن أبي الوليد، وهو ابن أبي المغيث مكيٌّ، وهو راوي هذا الحديث، ولم يخرج له الشيخان أو أحدهما شيئًا، أما الوليد بن أبي الوليد الذي احتجَّ به مسلم فهو أكبر من هذا يروي عن عبد الله بن عمرو بلا واسطة، واسم أبي الوليد عثمان، وهو مدني لا شامي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ ولید بن عبد اللہ، "ولید بن ابی ولید" کے علاوہ کوئی اور راوی ہیں۔ یہ ابن ابی المغیث مکی ہیں اور یہی اس حدیث کے اصل راوی ہیں، ان سے شیخین میں سے کسی نے کچھ روایت نہیں کیا۔ جبکہ ولید بن ابی ولید جن سے امام مسلم نے احتجاج کیا ہے، وہ ان سے عمر میں بڑے ہیں اور حضرت عبد اللہ بن عمرو سے بلا واسطہ روایت کرتے ہیں، ان کے والد کا نام عثمان ہے اور وہ مدنی ہیں شامی نہیں (جیسا کہ یہاں غلطی لگی ہے)۔