🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. فَضِيلَةُ تَحِيَّةِ الْوُضُوءِ
وضو کے بعد نفل (تحیۃ الوضو) کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا محمد بن عبيد الله المَدِيني، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن الضحاك بن عثمان، عن أيوب بن موسى، عن أبي عُبيد مولى سليمان بن عبد الملك، عن عمرو بن عَبَسَة: أنَّ أبا عُبيدٍ قال له: حدِّثنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ غيرَ مرَّةٍ ولا مرتين ولا ثلاثٍ يقول:"إذا توضَّأ العبدُ المؤمنُ فمَضمَضَ واستَنثَرَ، خرجت الخطايا من أطرافِ فمِه، فإذا غَسَلَ يديه تَناثَرت الخطايا من أظفارِه، فإذا مَسَحَ برأسه تَناثَرَت الخطايا من أطرافِ رأسه، فإن قام فصلَّى ركعتين، يُقبِلُ فيهما بقلبِه وطَرْفِه إلى الله ﷿، خرج من ذُنوبه كما ولدته أمُّه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرطهما، ولم يُخرجاه، وأبو عُبيد تابعيٌّ قديم لا يُنكَر سماعُه من عمرو بن عَبَسة، وفي الحديث صِحَّةُ سماعه به. وله شاهد على شرط مسلم عن عمرو بن عَبَسة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 454 - على شرطهما
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بار نہیں، دو بار نہیں بلکہ تین بار سے بھی زیادہ یہ فرماتے سنا: جب کوئی مومن بندہ وضو کرتا ہے، کلی کرتا ہے اور ناک صاف کرتا ہے تو اس کے منہ کے کناروں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ناخنوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جب سر کا مسح کرتا ہے تو سر کے کناروں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر اگر وہ کھڑا ہو کر دو رکعتیں اس طرح پڑھے کہ اپنا دل اور نگاہ پوری طرح اللہ کی طرف متوجہ رکھے، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو کر نکلتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابو عبید ایک قدیم تابعی ہیں جن کا عمرو بن عبسہ سے سماع ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 459]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 460
أخبرَناه أبو محمد جعفر بن محمد بن نُصَير الخوَّاص، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله - واللفظ له - أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة قال: قال شُرَحبيل بن حَسَنةَ: مَن رجلٌ يحدِّثنا عن رسول الله ﷺ؟ فقال عمرو بن عَبَسة: أنا، سمعتُ رسول الله ﷺ لا مرَّةً ولا مرَّتين - حتى عدَّ خمس مرَّات - يقول:"إذا قرَّبَ المسلمُ وَضُوءَه فغَسَلَ كفَّيهِ، خرجت ذنوبُه من بين أصابِعه وأطرافِ أناملِه، فإذا غسل وجهَه، خرجت ذنوبُه من أطرافِ لحيتهِ، فإذا مَسَحَ برأسِه، خرجت ذنوبُه من أطرافِ شعرِه، فإذا غسل رجلَيه، خرجت ذنوبُه من بُطُونِ قَدَميهِ" (1) .
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ بار (مختلف مواقع پر) یہ فرماتے سنا: جب کوئی مسلمان وضو کے لیے پانی قریب کرتا ہے اور اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے تو اس کی انگلیوں کے درمیان اور پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے کناروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب سر کا مسح کرتا ہے تو بالوں کے سروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے تلووں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔
اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر عمرو بن عبسہ ہی سے مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 460]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 461
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن عبد الله المَدِيني، حدثنا صفوان بن عيسى حدثنا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُبَاب، عن سعيد بن المسيّب، عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله ﷺ:"إسباغُ الوُضوءِ على المَكارِه، وإعمالُ الأقدامِ إلى المساجد، وانتظارُ الصلاةِ بعد الصلاة، يَغسِلُ الخطايا غَسْلًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 456 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناگوار حالات (سردی یا بیماری وغیرہ) میں کامل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف قدموں کا چلنا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، گناہوں کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے پانی میل کچیل کو دھو ڈالتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 461]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں