🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. التَّيَمُّمُ لِلْجَنَابَةِ فِي الشِّتَاءِ إِنْ كَانَ بِهِ الْجِرَاحَةُ أَوِ الْقُرُوحُ
اگر سردی میں زخم یا پھوڑے ہوں تو جنابت کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
حَدَّثَنَا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حَدَّثَنَا عمر بن حفص بن غِيَاث، حدَّثني أبي، أخبرني الوليد بن عُبيد الله بن أبي رباح، أنَّ عطاءً حدثه عن ابن عباس: أنَّ رجلًا أَجنَبَ في شتاء فسأل فأُمِرَ بالغُسْل، فاغتسل فمات، فذُكِرَ ذلك للنبي ﷺ، فقال:"ما لهم قَتَلُوه قتلهم الله - ثلاثًا - قد جَعَلَ اللهُ الصعيدَ - أو التيمُّمَ - طَهُورًا" (1) .
هذا حديث صحيح، فإنَّ الوليد بن عبيد الله هذا ابن أخي عطاء بن أبي رباح، وهو قليل الحديث جدًّا، وقد رواه الأوزاعيُّ عن عطاءٍ، وهو مخرَّج بعد هذا (1) . وله شاهد آخر عن ابن عباس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 585 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردی کے موسم میں حالتِ جنابت میں تھا، اس نے (حکم) پوچھا تو اسے غسل کرنے کا کہا گیا، اس نے غسل کیا اور وہ مر گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، اللہ نے پاک مٹی کو (یا تیمم کو) پاکیزگی کا ذریعہ بنایا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ اس کے راوی ولید بن عبید اللہ قلیل الحدیث ہیں مگر یہ روایت دیگر شواہد سے تقویت یافتہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 594]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن محمد، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس رفعه في قوله ﷿: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ﴾ [النساء: 43] قال:"إذا كان بالرجلِ الجراحةُ في سبيل الله أو القُروحُ أو الجُدَريُّ، فيُجنِبُ فيخافُ إِن اغتسلَ أن يموت، فليتيمَّمْ" (2) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ﴾ [النساء: 43] کے بارے میں مروی ہے کہ اگر کسی شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگا ہو یا چیچک وغیرہ نکل آئے اور اسے غسل کی ضرورت ہو جائے، اور اسے اندیشہ ہو کہ غسل کرنے سے وہ مر جائے گا، تو وہ تیمم کر لے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 595]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں