سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَلَّمَ
باب: آدمی سلام پھیرے تو کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1505
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَأَمْلَاهَا الْمُغِيرَةُ عَلَيْهِ، وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی“ پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1505]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام کے بعد کیا پڑھا کرتے تھے؟ تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھوا بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں۔ ملک اسی کا ہے۔ تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جو تو عنایت فرما دے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جو تو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور کسی بھی مالدار کو تیرے مقابلے میں اس کا مال فائدہ نہیں دے سکتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 155 (844)، والزکاة 53 (1477)، والدعوات 18 (6330)، والرقاق 22 (6473)، والقدر 12 (6615)، والاعتصام 3 (7292)، صحیح مسلم/المساجد 26 (593)، سنن النسائی/السہو 85 (1342)، (تحفة الأشراف:11535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/245، 247، 250، 251، 254، 255)، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1389) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (844) صحيح مسلم (593)
حدیث نمبر: 1506
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ أَهْلُ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ".
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں، وہ احسان، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں، اگرچہ کافر برا سمجھیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1506]
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے پھرتے (یعنی سلام کے بعد) تو یہ پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ”ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ ملک اسی کا ہے، تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ ہم خالص اسی کی اطاعت کرتے ہیں، خواہ کافروں کو یہ ناپسند ہو۔ (اے اللہ!) تو ہی نعمت و فضل والا اور بہترین تعریف کا مستحق ہے۔ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں! ہم خالص اسی کی اطاعت کرتے ہیں خواہ کافروں کو یہ ناپسند ہی ہو۔“” [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (594)، سنن النسائی/السہو 83 (1340)، (تحفة الأشراف:5285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/4)، (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (594)
حدیث نمبر: 1507
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الدُّعَاءِ، زَادَ فِيهِ: وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ، وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد «لا إله إلا الله ***» کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا: «ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة ***» اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1507]
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ ”سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پڑھا کرتے تھے اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند دعا ذکر کی اور یہ اضافہ کیا «وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ» ”اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، نعمت اسی کی ہے اور فضل بھی اسی کا ہے اور بہترین تعریف بھی اسی کے لیے ہے“ اور بقیہ حدیث بیان کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (594)، سنن النسائی/السہو 84 (1341)، (تحفة الأشراف:5285) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح وساق بقية الحديث
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (963)
انظر الحديث السابق (1506) وھذا طرفه
مشكوة المصابيح (963)
انظر الحديث السابق (1506) وھذا طرفه
حدیث نمبر: 1508
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَقَالَ سُلَيْمَانُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ، أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ، وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا- (سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے): «اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك، اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدك ورسولك، اللهم ربنا ورب كل شىء، أن العباد كلهم إخوة، اللهم ربنا ورب كل شىء، اجعلني مخلصا لك وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإكرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر، حسبي الله ونعم الوكيل الله أكبر الأكبر» ”اے اللہ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور اے ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں، اے جلال، بزرگی اور عزت والے! سن لے اور قبول فرما لے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے (سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1508]
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلُّهُمْ إِخْوَةٌ، اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، اِجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ نُورَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ”اے اللہ! ہمارے رب اور ہر ہر شے کے رب! میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا ہی رب ہے، تیرا کوئی ساجھی نہیں۔ اے اللہ! ہمارے رب اور ہر ہر شے کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! ہمارے رب اور ہر ہر شے کے رب! میں گواہ ہوں کہ سارے بندے (ایک دوسرے کے) بھائی ہیں۔ اے اللہ! ہمارے رب اور ہر ہر شے کے رب! مجھے اور میرے اہل کو دنیا اور آخرت کے اندر ہر گھڑی میں اپنا مخلص بنائے رکھ۔ اے جلال و اکرام والے! میری دعا سن اور قبول فرما، اللہ سب سے بڑا ہے، بہت ہی بڑا۔ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔“ سلیمان بن داود نے «نُورَ» کے بجائے «رَبَّ» کا لفظ کہا ہے (یعنی) ”اے آسمانوں اور زمین کے رب، اللہ سب سے بڑا ہے، بہت ہی بڑا، مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، بہت ہی بڑا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:3692)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (101) (ضعیف) (اس کے راوی”داود طفاوی“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
داود بن راشد الطفاوي ضعفه الجمهور وقال ابن حجر : لين الحديث (تق: 1783)
وشيخه أبو مسلم البجلي مجهول لم يوثقه غير ابن حبان،انظر التحرير (8365)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
إسناده ضعيف
داود بن راشد الطفاوي ضعفه الجمهور وقال ابن حجر : لين الحديث (تق: 1783)
وشيخه أبو مسلم البجلي مجهول لم يوثقه غير ابن حبان،انظر التحرير (8365)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
حدیث نمبر: 1509
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ تو جسے چاہے آگے کرے، جسے چاہے پیچھے کرے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1509]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے، تو یہ پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! مجھے بخش دے وہ تقصیرات، جو میں نے پہلے کیں، جو بعد میں کیں، جو پوشیدہ کیں اور جنہیں ظاہراً کیا اور جو میں حد سے گزرتا رہا، اور وہ جن کے متعلق تو مجھ سے زیادہ باخبر ہے تو ہی (جسے چاہے) آگے کرنے والا اور (جسے چاہے) پیچھے رکھنے والا ہے۔ (نیکی کی توفیق دیتا ہے یا محروم کر دیتا ہے) تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث رقم: 760، (تحفة الأشراف:10228) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (760)
انظر الحديث السابق (760)
حدیث نمبر: 1510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو:" رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ، ذَاكِرًا لَكَ، رَاهِبًا لَكَ، مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي، اللهم اجعلني لك شاكرا لك، ذاكرا لك، راهبا لك، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهد قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي» ”اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1510]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا، لَكَ ذَاكِرًا، لَكَ رَاهِبًا، لَكَ مِطْوَاعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» ”اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر (جو مجھے تیری اطاعت سے روک دے)؛ میری نصرت فرما، اور میرے خلاف کسی کی نصرت نہ کر؛ میرے حق میں تدبیر فرما، اور میرے خلاف تدبیر نہ کر؛ میری رہنمائی فرما، اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے؛ اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار، اپنا ذکر کرنے والا، تجھ سے ڈرنے والا، تیرا نہایت فرمانبردار، تیرے حضور عاجزی کرنے والا اور تیری طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول کر لے، میری خطائیں دھو ڈال، میری دعا قبول فرما، میری حجت قائم فرما دے، میرے دل کو ہدایت دے (اور ہدایت پر ثابت قدم رکھ)، میری زبان کو حق پر مستقیم رکھ اور میرے دل سے میل کچیل (بغض، حسد اور کینہ وغیرہ) نکال دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 103 (3551)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3830)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (607، 608)، (تحفة الأشراف:5765)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2488)
أخرجه الترمذي (3551 وسنده صحيح) سفيان الثوري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (9/224 ح 10368)
مشكوة المصابيح (2488)
أخرجه الترمذي (3551 وسنده صحيح) سفيان الثوري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (9/224 ح 10368)
حدیث نمبر: 1511
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّ" وَلَمْ يَقُلْ: هُدَايَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعَ سُفْيَانُ مِنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالُوا: ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا.
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے، اس میں «يسر هداي إلي» کے بجائے «يسر الهدى إلي» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1511]
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور ” «وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّ» کہا، «هُدَايَ» نہیں کہا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:5765) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1510)
انظر الحديث السابق (1510)
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأحْوَلِ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ۱؎ ”اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1512]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو پڑھتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو (سراپا) سلامتی ہے اور تجھی سے سلامتی (حاصل ہوتی) ہے۔ تو بڑی برکتوں والا ہے اے جلال و اکرام والے!“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”سفیان نے عمرو بن مرہ سے سنا ہے“ اور محدثین کا کہنا ہے کہ ”انہوں نے ان سے اٹھارہ احادیث سنی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (592)، سنن الترمذی/الصلاة 109 (298)، سنن النسائی/السہو 82 (1339)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 32 (924)، (تحفة الأشراف:16187)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/62، 184، 235)، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1387) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح روایات سے یہ دعا صرف اتنی ہی ثابت ہے جن روایتوں میں «وإليك يرجع السلام وأدخلنا دار السلام، تبارك ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والإكرام» کی زیادتی آئی ہے وہ کمزور اور ضعیف ہیں۔
۲؎: مولف کا یہ کلام حدیث نمبر (۱۵۱۱) سے متعلق ہے۔
۲؎: مولف کا یہ کلام حدیث نمبر (۱۵۱۱) سے متعلق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (592)
حدیث نمبر: 1513
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ" اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ"، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ". فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے، اس کے بعد «اللهم» کہتے، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1513]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ (مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے اٹھ کر جانا چاہتے تو تین بار استغفار «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» ”میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں“ کہتے تھے۔ پھر اس کے بعد پڑھتے: «اللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھ ہی سے سلامتی ہے، تو بابرکت ہے اے بزرگی اور عزت والے!“ اور حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے ہم معنی بیان کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (591)، سنن الترمذی/الصلاة 109 (300)، سنن النسائی/السہو 81 (1338)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 32 (928)، (تحفة الأشراف:2099)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/275، 279)، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1388) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (591)