🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. باب فِي الاِسْتِعَاذَةِ
باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1539
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں بزدلی، بخل، بری عمر (پیرانہ سالی)، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1539]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ باتوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے: بزدلی، بخیلی، انتہائی بڑھاپے اور لاچاری کی عمر سے، سینے کے فتنے سے (حسد، کینہ اور برے اخلاق و عقائد سے) اور عذاب قبر سے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الاستعاذة 2 (5445)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3844)، (تحفة الأشراف:10617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/54)، (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بری عمر سے مراد وہ عمر ہے جس میں آدمی نہ عبادت کرنے کے لائق رہتا ہے اور نہ دنیا کے کام کاج کی طاقت رکھتا ہے، وہ لوگوں پر بار ہوتا ہے، اور سینے کے فتنے سے مراد بری موت ہے جو بغیر توبہ کے ہوئی ہو یا حسد کینہ اور کبیرہ وغیرہ امراض قلب ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3844)
أبو إسحاق عنعن وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1540
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من العجز، والكسل، والجبن، والبخل، والهرم، وأعوذ بك من عذاب القبر، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1540]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں عاجز آ جانے سے، کسل مندی و سستی سے، بزدلی، بخیلی اور انتہائی بڑھاپے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجہاد 25 (2823)، وتفسیر سورة النحل 1 (4707)، والدعوات 38 (6367)، 42 (6371)، صحیح مسلم/الذکر 15 (2706)، سنن النسائی/الاستعاذہ 6 (5454)، مسند احمد (3/113، 117، 208، 214، 231)، (تحفة الأشراف:873)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 71 (3480) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: زندگی کا فتنہ: بیماری، مال و اولاد کا نقصان، یا کثرت مال ہے جو اللہ سے غافل کر دے، یا کفر والحاد، شرک و بدعت اور گمراہی ہے، اور موت کا فتنہ مرنے کے وقت کی شدت اور خوف و دہشت ہے، یا خاتمہ کا برا ہونا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2823) صحيح مسلم (2706)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1541
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ" وَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1541]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکثرت سنتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اَللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں پریشانی اور غم سے، قرضے کے بوجھ سے اور لوگوں (ظالموں) کے غلبے اور زور آوری سے۔ نیز کچھ وہ بھی ذکر کیا جسے تیمی (معتمر بن سلیمان) نے (اوپر والی حدیث میں) بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الدعوات 40 (6369)، سنن الترمذی/الدعوات 71 (3484)، سنن النسائی/الاستعاذة 7 (5455) (تحفة الأشراف: 1115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 220، 226، 240) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6369)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1542
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے، فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1542]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے کہ قرآن: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، مسیح دجال کے فتنے سے اور زندگی و موت کے فتنے سے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 25 (590)، سنن النسائی/الجنائز 115 (2065)، سنن الترمذی/الدعوات 70 (3494)، (تحفة الأشراف: 5752)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 8 (33)، مسند احمد (1/242، 258، 298، 311) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (590)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1543
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى، وَالْفَقْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار، وعذاب النار، ومن شر الغنى، والفقر» اے اللہ! میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1543]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات سے دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى وَالْفَقْرِ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ کے فتنے سے اور آگ کے عذاب سے، مالداری کے شر سے اور فقیری کے شر سے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:17138)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الدعاء 25 (589)، سنن الترمذی/الدعوات 72 (3489)، سنن النسائی/الاستعاذة 16 (5468) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6368) صحيح مسلم (589 بعد ح 2705)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1544
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بك من أن أظلم أو أظلم» اے اللہ! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1544]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں محتاجی سے، قلت سے اور ذلت سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں ظلم کا ارتکاب کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الاستعاذہ 13 (5462)، (تحفة الأشراف:13385)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3838)، مسند احمد (2/305، 325، 354) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بعض حدیثوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اور مسکنت کو طلب کیا ہے اور بعض میں اس سے پناہ مانگی ہے، مرغوب و مطلوب اور پسندیدہ فقر وہ ہے جس میں مال کی کمی ہو لیکن دل غنی ہو، اور دنیا کی حرص و لالچ نہ ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فقر سے پناہ مانگی ہے جس میں آدمی واجبی ضروریات زندگی کے حاصل کرنے سے عاجز ہو، اور جس سے عبادت میں خلل پڑتا ہو، اور قلت سے مراد نیکیوں کی کمی ہے نہ کہ مال کی، یا مال کی اتنی کمی ہے جو قوت لایموت اور ناگزیر ضرورتوں کو بھی کافی نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2467)
أخرجه النسائي (5462 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1545
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سُخْطِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی: «اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتك، وجميع سخطك» اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1545]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ دعا تھی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سُخْطِكَ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تیری کوئی نعمت چھن جائے یا تیری دی ہوئی تندرستی و راحت پلٹ جائے یا کوئی ناگہانی عذاب آ جائے۔ اور تیرے تمام غصے اور ناراضیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 26 (2739)، (تحفة الأشراف:7255) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2739)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1546
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السُّلَيْكِ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ:قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ، وَالنِّفَاقِ، وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تو فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من الشقاق، والنفاق، وسوء الأخلاق» اے اللہ! میں پھوٹ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1546]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ (حق کی) مخالفت کروں یا منافق اور بداخلاق بنوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الاستعاذة 2 (5473)، (تحفة الأشراف:12314) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ضبارة مجہول اور دوید لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5473)
ضبارة مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع، وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے، میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1547]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بھوک سے، بے شک یہ بہت بری ہم خواب ہے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں خیانت سے، بے شک پوشیدہ خصلتوں میں سے یہ بہت بری خصلت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الاستعاذة 19 (5471)، (تحفة الأشراف:13040)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة 53 (3354) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5470)
محمد بن عجلان مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1548
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الأربع: من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعا لا يسمع» اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1548]
عباد بن ابی سعید سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ» اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں، ایسا علم جو فائدہ نہ دے، ایسا دل جس میں خشوع نہ ہو (تیرے سامنے جھکتا نہ ہو)، ایسی طبیعت جو سیر نہ ہوتی ہو اور ایسی دعا جو قبول نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الاستعاذة 17 (5469)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 23 (250)، والدعاء 2 (3837)، (تحفة الأشراف: 13549) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2464)
أخرجه النسائي (5469 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3837 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں