سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب فِي الاِسْتِعَاذَةِ
باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1549
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: أُرَى أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُ" وَذَكَرَ دُعَاءً آخَرَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من صلاة لا تنفع» ”اے اللہ! میں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے تیری پناہ چاہتا ہوں“ اور پھر راوی نے دوسری دعا کا ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1549]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے۔“ اور ایک دوسری دعا بھی ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:887) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الراوي شك في سنده فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
إسناده ضعيف
الراوي شك في سنده فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
حدیث نمبر: 1550
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ، قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ".
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل» ”اے اللہ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1550]
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دعا مانگا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان اعمال کے شر سے جو میں نے کیے ہیں اور ان اعمال کے شر سے بھی جو میں نے نہیں کیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکروالدعاء 18 (2716)، سنن النسائی/السہو 63 (1308)، والاستعاذة 57 (5527)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3839)، (تحفة الأشراف:17430)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 100، 139، 213، 257، 278) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2716)
حدیث نمبر: 1551
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، الْمَعْنَى عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً، قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي".
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «االلهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي» ۱؎ ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1551]
شتیر بن شکل (ابو احمد یعنی محمد بن عبداللہ بن زبیر کی سند میں اس راوی کا نام شکل بن حمید رضی اللہ عنہ ہے) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، آنکھ کی برائی سے، زبان کی برائی سے، دل کی برائی سے اور مادہ منویہ کی برائی سے۔““ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 75 (3492)، سنن النسائی/الاستعاذة 3 (5446)، 9 (5457)، 10(5458)، 27 (5486)، (تحفة الأشراف:4847)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کان کی برائی بری باتیں سننا ہے، آنکھ کی برائی بری نگاہ سے غیر عورت کو دیکھنا ہے، زبان کی برائی زبان سے کفر کے کلمے نکالنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بہتان باندھنا وغیرہ وغیرہ، دل کی برائی حسد، کفر، نفاق، وغیرہ ہے، اور منی کی برائی بے محل نطفہ بہانا، مثلاً محرم یا اجنبی عورت پر یا لواطت کرنا یا کرانا وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2472)
أخرجه الترمذي (3492 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2472)
أخرجه الترمذي (3492 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا".
ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهدم، وأعوذ بك من التردي، وأعوذ بك من الغرق، والحرق والهرم، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت، وأعوذ بك أن أموت في سبيلك مدبرا، وأعوذ بك أن أموت لديغا» ”اے اللہ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں ڈوبنے، جل جانے اور بہت بوڑھا ہو جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1552]
سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ کوئی مکان یا دیوار مجھ پر آ گرے یا کسی بلند مقام سے گر پڑوں۔ میں تیری پناہ چاہتا ہوں غرق ہونے سے، جلنے یا از حد بوڑھا ہو جانے سے، تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ شیطان مجھے موت کے وقت بدحواس کر دے، یا اس بات سے کہ جہاد میں پیٹھ دیتے ہوئے مروں یا اس کیفیت سے کہ زہریلے جانور کے کاٹے سے مجھے موت آئے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الاستعاذة 60 (5533)، (تحفة الأشراف:11124)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/427) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2473)
أخرجه النسائي (5533 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2473)
أخرجه النسائي (5533 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1553
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ،أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، زَادَ فِيهِ" وَالْغَمِّ".
اس سند سے بھی ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے اس میں «والغم» کا اضافہ ہے یعنی ”تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1553]
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے مولیٰ، سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اس روایت میں «وَالْغَمِّ» ”اور غم“ کا اضافہ بھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:11124) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (1552)
انظر الحديث السابق (1552)
حدیث نمبر: 1554
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من البرص، والجنون، والجذام، ومن سيئ الأسقام» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1554]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برص (پھلبہری) سے، پاگل پن سے، کوڑھ سے اور بری بیماریوں سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:1159، 1424)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الاستعاذة 36 (5508)، مسند احمد (3/1092) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5495)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
إسناده ضعيف
نسائي (5495)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
حدیث نمبر: 1555
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا غَسَّانُ بْنُ عَوْفٍ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو أُمَامَةَ، فَقَالَ:" يَا أَبَا أُمَامَةَ، مَا لِي أَرَاكَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟" قَالَ: هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّكَ، وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ". قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمِّي، وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری پر پڑی جنہیں ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”ابوامامہ! کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز کے وقت کے علاوہ بھی مسجد میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں کہو تو اللہ تم سے تمہارے غم غلط اور قرض ادا کر دے“، میں نے کہا: ضرور، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح و شام یہ کہا کرو: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، وأعوذ بك من العجز والكسل، وأعوذ بك من الجبن والبخل، وأعوذ بك من غلبة الدين وقهر الرجال» ”اے اللہ! میں غم اور حزن سے تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی و سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے غلبہ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ پڑھنا شروع کیا تو اللہ نے میرا غم دور کر دیا اور میرا قرض ادا کروا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1555]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز مسجد میں تشریف لائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی ہے جس کا نام ابو امامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو امامہ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں مسجد میں دیکھ رہا ہوں اور نماز کا وقت بھی نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے غموں اور قرضوں نے گھیر رکھا ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں، اگر تم انہیں پڑھنے لگو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے غم دور کر دے گا اور تمہارے قرضے ادا کر دے گا۔“ (ادا کرنے کا سبب پیدا فرما دے گا۔) میں نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“ فرمایا: ”صبح و شام یہ کلمات پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں پریشانی اور غم سے، عاجز رہ جانے اور کسل مندی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی اور بخیلی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں قرضے اور ظالموں کے غلبے سے۔““ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے یہ دعا کرنی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے میری پریشانیاں دور کر دیں اور قرضوں (کی ادائیگی) کا سبب بھی پیدا فرما دیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4340) (ضعیف)» (اس کے راوی غسَّان لین الحدیث ہیں، مگر دعاء کے اکثر الفاظ (اس قصہ اور اوقات کے سوا) صحیح احادیث میں آ چکے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد الجريري ثقة اختلط قبل موته بثلاث سنين (تق : 2273)
غسان بن عوف: لين الحديث (تق : 5358)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
إسناده ضعيف
سعيد الجريري ثقة اختلط قبل موته بثلاث سنين (تق : 2273)
غسان بن عوف: لين الحديث (تق : 5358)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61