Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب في الاستعاذة
باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1551
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، الْمَعْنَى عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً، قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي".
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «االلهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي» ۱؎ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 75 (3492)، سنن النسائی/الاستعاذة 3 (5446)، 9 (5457)، 10(5458)، 27 (5486)، (تحفة الأشراف:4847)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کان کی برائی بری باتیں سننا ہے، آنکھ کی برائی بری نگاہ سے غیر عورت کو دیکھنا ہے، زبان کی برائی زبان سے کفر کے کلمے نکالنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بہتان باندھنا وغیرہ وغیرہ، دل کی برائی حسد، کفر، نفاق، وغیرہ ہے، اور منی کی برائی بے محل نطفہ بہانا، مثلاً محرم یا اجنبی عورت پر یا لواطت کرنا یا کرانا وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2472)
أخرجه الترمذي (3492 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥شكل بن حميد العبسيصحابي
👤←👥شتير بن شكل العبسي، أبو عيسى
Newشتير بن شكل العبسي ← شكل بن حميد العبسي
ثقة
👤←👥بلال بن يحيى العبسي
Newبلال بن يحيى العبسي ← شتير بن شكل العبسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعد بن أوس العبسي، أبو محمد
Newسعد بن أوس العبسي ← بلال بن يحيى العبسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سعد بن أوس العبسي
ثقة حافظ إمام
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ فقيه حجة
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد
Newمحمد بن عبد الله الزبيرى ← أحمد بن حنبل الشيباني
ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← محمد بن عبد الله الزبيرى
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
5447
أعوذ بك من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي
سنن النسائى الصغرى
5446
أعوذ بك من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي
سنن النسائى الصغرى
5458
عافني من شر سمعي وبصري ولساني وقلبي ومن شر منيي
سنن النسائى الصغرى
5486
عافني من شر سمعي وبصري ولساني وقلبي وشر منيي
جامع الترمذي
3492
أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي
سنن أبي داود
1551
أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1551 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1551
1551. اردو حاشیہ: اس دعا میں تمام قسم کے گناہوں اور ان کے اسباب سے تحفظ کی دعا ہے۔ کان سے انسان بری باتیں‘ مزامیر (سازو آواز یعنی گانے بجانے)غیبت اور جھوٹ وغیرہ سنتا ہے۔ آنکھ سے غیر محرم اور حرام چیزوں کو دیکھنا اور پڑھنا مراد ہے۔ زبان سے کفر‘ شرک‘ بدعت‘ جھوٹ‘ بہتان‘ غیبت اور گالی گلوچ وغیرہ ہوتی ہے۔ دل کی برائی نفاق‘ حسد‘ بخل‘ طمع اور کبر وغیرہ ہیں۔ مادہ منویہ کی برائی یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات جنسی پر قابو نہ رکھ سکے اور اس وجہ سے خباثت پر آمادہ ہو یا بے محل نطفہ بہائے..... یا اس سے ایسی اولاد پیدا ہو جو فتنہ و فساد کا باعث بنے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1551]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5446
کان اور آنکھ کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا تعوذ (شر و فساد سے بھاگ کر اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا) بتائیے، جس کے ذریعہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگوں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: «أعوذ بك من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، اپنی آنکھ کی برائی سے، اپنی زبان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5446]
اردو حاشہ:
(1) یہ حدیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حدیث میں مذکورہ اشیاء سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنا مشروع اور پسندیدہ عمل ہے‘ لہٰذا ہر مسلمان مرد عورت کو اس مسنون دعا کا التزام کرنا چاہیے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے سوال پوچھنے کا اہتمام بھی واضح ہوتا ہے جن سے انھیں اپنے دینی اور دنیاوی معاملات میں فائدہ ہوتا اور ان سے ان کی دنیا و آخرت سنورتی۔
(3) قرآن حدیث میں مذکورہ دعاؤں سے اصل مطلوب و مقصود یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے رب کریم کی طرف متوجہ رہے‘ اس سے جڑا رہے‘ اس کا در نہ چھوڑے اور اسی کی بارگاہ میں اپنی ساری عاجزیاں پیش کرے‘ نیز تمام ظاہری وباطنی (اندرونی وبیرونی) تکالیف و پریشانیوں سے بچنے کے لیے حفاظت میں رہنے کی کوشش کرتا رہے۔ ان سے بچنے کے لیے اللہ کی مدد ہی سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ ہے۔
(4) مذکورہ چیزوں کی شر سے مراد ان کا نا جائز اور بے محل استعمال ہے اور اللہ سے پناہ طلب کرنے کا مقصد ان کی حفاظت ہے کہ یہ غلط استعمال نہ ہوں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیۓ‘ (سنن ابو داؤد (مترجم)‘فائدہ حدیث:1551۔ مطبوعہ دارالسلام)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5446]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5447
بزدلی و کم ہمتی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ ہمیں پانچ باتیں سکھاتے تھے، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگتے تھے، آپ فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وأعوذ بك من عذاب القبر» اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، مجبوری و لاچاری والی عمر تک پہنچنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، دنیا کے فت [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5447]
اردو حاشہ:
(1) پناہ میں آنے کا مقصود بچاؤ ہے‘ یعنی اے اللہ! مجھے ان چیزوں سے بچا کر رکھنا۔
(2) ذلیل ترین عمرجس میں انسان کی قوتیں جواب دے جائیں۔ انسان کلی طور پر محتاج بن جائے۔ نہ اپنے کام کا رہے نہ کسی کے کام کا‘ یعنی شدید تر ین بڑھاپا۔
(3) دنیا کے فتنے سے مراد گمراہی ہے جس پر عذاب قبر مرتب ہوتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5447]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5486
عضو تناسل کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم عافني من شر سمعي وبصري ولساني وقلبي وشر منيي» اے اللہ مجھے میرے کان، میری نگاہ، میری زبان، میرے دل اور منی کی برائی سے بچائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5486]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے ‘فوائد و مسائل روایت:5446
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5486]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3492
بعض چیزوں سے پناہ طلب کرنے کا باب۔
شکل بن حمید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا تعویذ (پناہ لینے کی دعا) سکھا دیجئیے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کر لیا کروں، تو آپ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: کہو (پڑھو): «اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي يعني فرجه» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر سے (منی سے مراد شرمگاہ ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3492]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے،
اپنی آنکھ کے شر سے،
اپنی زبان کے شر سے،
اپنے دل کے شر سے،
اور اپنی شرمگاہ کے شرسے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3492]