المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. الْإِفْطَارُ مِنَ الْقَيْءِ
قے آنے سے روزہ ٹوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1567
أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى الأَدَمي المُقرئ ببغداد وبَكْرُ بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، قالا: حدثنا أبو قِلابةَ الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصَّمد بن عبد الوارث. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل - واللفظ له - حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المُثنَّى العَنَزي، حدثنا عبد الصَّمد بن عبد الوارث، قال: سمعتُ أَبي يقول: حدثنا الحسين - وهو المُعلِّم - حدثنا يحيى بن أبي كَثِير، أنَّ أبا عمرٍو الأوزاعيَّ حدَّثه، أن يَعِيشَ بن الوليد حدَّثه، أن مَعْدانَ بن أبي طلحةَ حدَّثه، أنَّ أبا الدَّرداء حدَّثه: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فَأَفطَرَ، فلقيتُ ثَوبانَ في مسجد دمشق، فذكرتُ ذلك له، فقال: صَدَقَ، أنا صَبَبتُ له وَضوءَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين أصحاب عبد الصمد فيه، قال بعضُهم: عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان، وهذا وهمٌ من قائله، فقد رواه حرب بن شَدّاد وهشام الدَّستُوائي عن يحيى بن أبي كثير على الاستقامة. أما حديث حرب بن شدَّاد:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين أصحاب عبد الصمد فيه، قال بعضُهم: عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان، وهذا وهمٌ من قائله، فقد رواه حرب بن شَدّاد وهشام الدَّستُوائي عن يحيى بن أبي كثير على الاستقامة. أما حديث حرب بن شدَّاد:
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار فرما لیا۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میں دمشق کی مسجد میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، میں نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لیے پانی ڈالا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس میں عبد الصمد کے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا۔ بعض نے «يعيش بن وليد عن ابيه عن معدان» روایت کیا ہے جو کہ وہم ہے، جبکہ حرب بن شداد اور ہشام دستوائی نے اسے «يعيش بن وليد عن معدان» کی درست سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1567]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس میں عبد الصمد کے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا۔ بعض نے «يعيش بن وليد عن ابيه عن معدان» روایت کیا ہے جو کہ وہم ہے، جبکہ حرب بن شداد اور ہشام دستوائی نے اسے «يعيش بن وليد عن معدان» کی درست سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1567]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو وإن حصل فيه اضطراب كثير كما قال البيهقي، إلّا أنَّ البخاري قال: إنَّ حسينًا المعلم قد جوَّده، نقل ذلك عنه الترمذي في "العلل الكبير" (57)، وقال ابن التركماني في "الجوهر النقي" 1/ 144: وإذا أقام ثقةٌ إسنادًا اعتُمد، ولم يبال بالاختلاف، وكثير من أحاديث "الصحيحين" لم تسلم ...» [ترقيم الرساله 1567] [ترقيم الشركة 1558]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1568
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا هشام بن عليّ السَّدُوسي، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا حرب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن يَعِيش بن الوليد، عن مَعدانَ بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فأفطَرَ (1) . وأما حديث هشام:
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار فرما لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1568]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن رجاء» [ترقيم الرساله 1568] [ترقيم الشركة 1559]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1569
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بُنْدار، حدثنا أبو بَحْرٍ البَكْراوي، حدثنا هشام الدَّستُوائي، عن يحيى بن أبي كثير، قال: حدَّثني رجل من إخواننا - قال أبو بكر محمد بن إسحاق: يريد به الأوزاعيَّ - عن يَعِيش بن الوليد بن هشام، حدثني مَعْدان بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ رسول الله ﷺ قاءَ فأفطَرَ (2) .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار فرما لیا۔ (ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے جس ”اپنے بھائی“ کا تذکرہ کیا ہے اس سے مراد امام اوزاعی ہیں)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1569]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بحر البكراوي - واسمه: عبد الرحمن بن عثمان بن أمية - وباقي رجاله ثقات. بندار: هو محمد بن بشار، وأخرجه النسائي (3110) و (3111) من طريق النضر بن شميل، و (3114) من طريق معاذ بن هشام، و (3115) من طريق ابن أبي عدي، ...» [ترقيم الرساله 1569] [ترقيم الشركة 1560]
الحكم على الحديث: حديث صحيح