المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
37. وَمَنْ وَجَدْتُمُوهُ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ
اور جسے تم تنگ دست پاؤ اس سے درگزر کرو۔
حدیث نمبر: 2257
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي - من أصل كتابه -، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، حدثني الأعمش، عن أبي وائل، عن أبي مسعود البَدْري، قال: حُوسِب رجلٌ فلم يُوجَد له خَيرٌ، وكان ذا مالٍ، وكان يُدايِنُ الناسَ، وكان يقولُ لغِلْمانِه: من وَجَدتموه غنيًا، فخُذُوا منه، ومن وجدتموه مُعسِرًا، فتجاوَزُوا عنه، لعلَّ اللهَ يتجاوزُ عَنِّي، فقال اللهُ: أنا أحقُّ أن أتجاوَزَ عنه (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (2) . وقد أُسند عن عبد الله بن نُمير عن الأعمش:
سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کا حساب لیا گیا تو اس کی کوئی نیکی نہ ملی، وہ مالدار تھا اور لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، وہ اپنے خادموں سے کہتا تھا: جو مالدار پاؤ اس سے وصول کر لو اور جو تنگ دست پاؤ اس سے درگزر کرو تاکہ اللہ بھی مجھ سے درگزر فرمائے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ اس سے درگزر کروں۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2257]
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2257]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد وقفه سفيان - وهو الثَّوري - لكن رفعه غيره، كما في الطريق التالية، وصحَّ مرفوعًا أيضًا من غير هذا الوجه عن أبي مسعود، كما سيأتي بيانه. الأعمش: هو سليمان بن مِهْران، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة، وأبو مسعود: هو عُقبة بن عمرو الأنصاري ﵁.» [ترقيم الرساله 2257] [ترقيم الشركة 2239]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2258
حدَّثَناه أبو حامد أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أبي، حدثنا عبد الله بن نُمير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن أبي مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"حُوسِب رجلٌ فلم يُوجَد له خَيرٌ"، فذكره بنحوه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2226 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2226 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کا حساب لیا گیا تو اس کی کوئی نیکی نہ ملی“، پھر انہوں نے سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، محمد بن عثمان بن أبي شيبة» [ترقيم الرساله 2258] [ترقيم الشركة 2240] [ترقيم العلميه 2226]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2259
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا القَعْنبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا لَزِمَ غَريمًا له بعشرة دنانير، فقال له: والله ما عندي قضاءٌ أَقْضِيكَهُ اليومَ، قال: فواللهِ لا أُفارِقُكَ حتَّى تَقضِيَ أو تأتيَ بحَمِيلٍ يَحمِلُ عنك، قال: واللهِ ما عندي قضاءٌ، وما أجدُ أحدًا يَحمِلُ عني، قال: فَجَرَّه إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، هذا لازِمي واستَنْظرتُه شهرًا واحدًا، فأَبى حتَّى أقضيَه أو آتيَه بحَمِيل، فقلتُ: والله ما أجدُ حَمِيلًا، ولا عندي قضاءٌ اليومَ. فقال له رسولُ الله ﷺ:"هل تَستَنظِرُه إِلّا شهرًا واحدًا؟" قال: لا، قال:"فأنا أتحمَّل بها عنكَ" قال: فتحمَّلها رسولُ الله ﷺ عنه، فذهب الرجلُ فأتى بقَدْر ما وَعَدَه، فقال له رسولُ الله ﷺ:"من أين أصبتَ هذا الذَّهَب؟" قال: من مَعْدِنٍ، قال:"فاذهبْ، فلا حاجةَ لنا فيها، ليس فيها خَيرٌ"، فقضاها عنه رسولُ الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري لعمرو بن أبي عمرو، والدَّرَاوَرْدِي على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2228 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط البخاري لعمرو بن أبي عمرو، والدَّرَاوَرْدِي على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2228 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے مقروض کو پکڑ لیا، مقروض نے کہا کہ میرے پاس آج ادائیگی کے لیے کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی ضامن ہے، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہ سے پوچھا: ”کیا تم اسے ایک ماہ کی مہلت دو گے؟“ اس نے حامی بھری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کا ضامن بنتا ہوں۔“ وہ شخص وعدے کے مطابق سونا لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کہاں سے ملا؟“ اس نے کہا: کان سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اس میں کوئی خیر نہیں“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قرض خود ادا کر دیا۔
یہ حدیث امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2259]
یہ حدیث امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2259]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد. القَعْنبي: هو عبد الله بن مَسلمة، وعمرو بن أبي عمرو: هو مولى المطَّلب بن عبد الله حنَطْب.» [ترقيم الرساله 2259] [ترقيم الشركة 2241] [ترقيم العلميه 2228]
الحكم على الحديث: إسناده جيد. القَعْنبي: هو عبد الله بن مَسلمة