🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. وَمَنْ وَجَدْتُمُوهُ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ
اور جسے تم تنگ دست پاؤ اس سے درگزر کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2257
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي - من أصل كتابه -، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، حدثني الأعمش، عن أبي وائل، عن أبي مسعود البَدْري، قال: حُوسِب رجلٌ فلم يُوجَد له خَيرٌ، وكان ذا مالٍ، وكان يُدايِنُ الناسَ، وكان يقولُ لغِلْمانِه: من وَجَدتموه غنيًا، فخُذُوا منه، ومن وجدتموه مُعسِرًا، فتجاوَزُوا عنه، لعلَّ اللهَ يتجاوزُ عَنِّي، فقال اللهُ: أنا أحقُّ أن أتجاوَزَ عنه (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (2) . وقد أُسند عن عبد الله بن نُمير عن الأعمش:
سیدنا ابومسعود بدری کا فرمان ہے: ایک شخص کا حساب لیا گیا تو اس کے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی نہ نکلی جبکہ وہ شخص مالدار تھا اور لوگوں کو قرضہ دیا کرتا تھا اور اپنے ملازمین کو یہ ہدایت دیا کرتا تھا کہ جس کو مالدار پاؤ اس سے وصولی کرو اور جس کو تنگدست پاؤ اس سے درگزر کرو، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے درگزر کرے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس سے درگزر کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس سند کو عبداللہ بن نمیر نے اعمش کے واسطے سے مسند کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2257]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2258
حدَّثَناه أبو حامد أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أبي، حدثنا عبد الله بن نُمير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن أبي مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"حُوسِب رجلٌ فلم يُوجَد له خَيرٌ"، فذكره بنحوه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2226 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن نمیر، اعمش کے ذریعے ابووائل کے واسطے سے، سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص کا حساب لیا گیا تو اس کے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی نہ نکلی پھر اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2258]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2259
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا القَعْنبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا لَزِمَ غَريمًا له بعشرة دنانير، فقال له: والله ما عندي قضاءٌ أَقْضِيكَهُ اليومَ، قال: فواللهِ لا أُفارِقُكَ حتَّى تَقضِيَ أو تأتيَ بحَمِيلٍ يَحمِلُ عنك، قال: واللهِ ما عندي قضاءٌ، وما أجدُ أحدًا يَحمِلُ عني، قال: فَجَرَّه إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، هذا لازِمي واستَنْظرتُه شهرًا واحدًا، فأَبى حتَّى أقضيَه أو آتيَه بحَمِيل، فقلتُ: والله ما أجدُ حَمِيلًا، ولا عندي قضاءٌ اليومَ. فقال له رسولُ الله ﷺ:"هل تَستَنظِرُه إِلّا شهرًا واحدًا؟" قال: لا، قال:"فأنا أتحمَّل بها عنكَ" قال: فتحمَّلها رسولُ الله ﷺ عنه، فذهب الرجلُ فأتى بقَدْر ما وَعَدَه، فقال له رسولُ الله ﷺ:"من أين أصبتَ هذا الذَّهَب؟" قال: من مَعْدِنٍ، قال:"فاذهبْ، فلا حاجةَ لنا فيها، ليس فيها خَيرٌ"، فقضاها عنه رسولُ الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري لعمرو بن أبي عمرو، والدَّرَاوَرْدِي على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2228 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نے کسی سے دس دینار لینے تھے اور وہ مسلسل اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا جبکہ وہ (مقروض) کہہ رہا تھا: خدا کی قسم! آپ کو دینے کے لیے آج میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ اس نے کہا: یا تو تُو مجھے قرضہ واپس کر دے یا اپنا کوئی ضامن دے دے، ورنہ میں تیرا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ اس نے کہا: خدا کی قسم نہ تو میرے پاس ادائیگی کے لیے کچھ ہے اور نہ میرے پاس کوئی ایسا آدمی ہے جو میری طرف سے یہ ذمہ داری اٹھا لے (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں۔ وہ (مقروض) اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: یا رسول اللہ! یہ میرے پیچھے پڑا ہوا ہے جبکہ میں اس سے ایک مہینے کی مہلت لینا چاہتا ہوں اور یہ مان نہیں رہا اور ادائیگی یا ضامن کا مطالبہ کر رہا ہے۔ میں نے اس کو کہا ہے کہ میرے پاس ضمانت کے لیے کوئی آدمی نہیں ہے اور نہ ہی ادائیگی کے لیے آج کوئی چیز میرے پاس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: اس کو صرف ایک مہینے کی مہلت دے دے لیکن اس نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری طرف سے میں ضمانت دیتا ہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ضمانت دے دی تو وہ آدمی چلا گیا اور حسب وعدہ مقررہ دنوں کے بعد آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تو نے یہ سونا کہاں سے لیا؟ اس نے کہا معدن سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے جاؤ، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی جانب سے دس دینار ادا کر دیئے۔ ٭٭ یہ حدیث عمرو بن ابی عمرو کی وجہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دراوردی کی وجہ سے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2259]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں