🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. وَالْأَصْلُ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
اس کی اصل اللہ عز و جل کی کتاب سے ثابت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2617
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن قيس بن مُسلم (1) ، قال: سألت الحسن بن محمد عن قول الله ﵎: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [الأنفال: 41] ، قال: هذا مِفتاحُ كلامٍ، للهِ (2) تعالى ما في الدنيا والآخرة، قال: اختلف الناسُ في هذين السهمَين بعد وفاة رسول الله ﷺ، فقال قائلون: سَهْمُ القُربَى لقَرابة النبي ﷺ، وقال قائلون: لقَرابة الخليفة، وقال قائلون: سهمُ النبي ﷺ للخليفة مِن بعده، فاجتمع رأيُهم على أن يجعلوا هذين السهمَين في الخيل والعُدَّة في سبيل الله، فكانا على ذلك في خلافة أبي بكر وعمر ﵄ (3) .
سیدنا قیس بن محمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (وَاعْلَمُوْآ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ) (الانفال: 41) اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔ کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے جواباً کہا: یہ اللہ کے کلام کا آغاز ہے، جو کچھ دنیا اور آخرت میں ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ان دو حصوں کے متعلق اختلاف واقع ہو گیا۔ بعض نے کہا کہ قرابت داروں کا حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے لیے ہے اور بعض کا یہ موقف تھا کہ یہ حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کے لیے ہے، بعض نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کے لیے ہے۔ بالآخر سب لوگ اس بات پر متفق ہو گئے کہ ان دونوں حصوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کے سلسلے میں گھوڑوں وغیرہ کی مد میں استعمال کیا جائے چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسی پر عمل رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2617]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2618
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثنا محمد بن سعيد بن سابِق، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن مُطرِّف، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: سمعت عليًّا يقول: ولَّاني رسولُ الله ﷺ خَمْسَ الخُمس، فوضعتُه مَواضِعَه حياةَ رسولِ الله ﷺ وأبي بكر وعمر ﵄ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2586 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس تقسیم کرنے کا نگران بنایا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں ان کو ان کے مصرف میں استعمال کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2618]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة وأبو نُعيم، قالا: حدثنا سفيان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كانت صفيَّةُ من الصَّفِيّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2587 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا مالِ غنیمت کے اس حصہ میں آئی تھیں جو سربراہ کے لیے خاص ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2619]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں