المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. والأصل فيه من كتاب الله عز وجل
اس کی اصل اللہ عز و جل کی کتاب سے ثابت ہے
حدیث نمبر: 2617
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن قيس بن مُسلم (1) ، قال: سألت الحسن بن محمد عن قول الله ﵎: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [الأنفال: 41] ، قال: هذا مِفتاحُ كلامٍ، للهِ (2) تعالى ما في الدنيا والآخرة، قال: اختلف الناسُ في هذين السهمَين بعد وفاة رسول الله ﷺ، فقال قائلون: سَهْمُ القُربَى لقَرابة النبي ﷺ، وقال قائلون: لقَرابة الخليفة، وقال قائلون: سهمُ النبي ﷺ للخليفة مِن بعده، فاجتمع رأيُهم على أن يجعلوا هذين السهمَين في الخيل والعُدَّة في سبيل الله، فكانا على ذلك في خلافة أبي بكر وعمر ﵄ (3) .
سیدنا قیس بن محمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (وَاعْلَمُوْآ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ) (الانفال: 41) ” اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے “۔ کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے جواباً کہا: یہ اللہ کے کلام کا آغاز ہے، جو کچھ دنیا اور آخرت میں ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ان دو حصوں کے متعلق اختلاف واقع ہو گیا۔ بعض نے کہا کہ قرابت داروں کا حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے لیے ہے اور بعض کا یہ موقف تھا کہ یہ حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کے لیے ہے، بعض نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کے لیے ہے۔ بالآخر سب لوگ اس بات پر متفق ہو گئے کہ ان دونوں حصوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کے سلسلے میں گھوڑوں وغیرہ کی مد میں استعمال کیا جائے چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسی پر عمل رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2617]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2617 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: محمد، والمثبت على الصواب من رواية البيهقي في "سننه الكبرى" 6/ 338 عن أبي عبد الله الحاكم، وفاقًا لسائر مصادر التخريج التي خرَّجت هذا الخبر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں نام تحریف ہو کر "محمد" ہو گیا ہے، جبکہ بیہقی اور دیگر مصادر کے مطابق درست نام "محمود" (یا متعلقہ درست نام) ہے۔
(2) وقع في (ص) و (ع): مفتاح كلام الله، بإضافة لفظ الجلالة إلى لفظة "كلام"، والمثبت من (ز) و (ب) وهو الصحيح، كما جاء في رواية البيهقي عن أبي عبد الله الحاكم، على الاستئناف.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "کلام اللہ" مروی ہے، لیکن (ز) اور (ب) کا متن "کلامٌ" (اللہ کے اضافے کے بغیر) زیادہ صحیح اور بیہقی کی روایت کے موافق ہے۔
(3) إسناده صحيح إلى الحسن بن محمد: وهو ابن علي بن أبي طالب، المعروف أبوه بابن الحنفية، لأنَّ أمَّه من بني حنيفة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند الحسن بن محمد تک صحیح ہے۔ 🔍 ناموں کی تحقیق: الحسن بن محمد سے مراد محمد بن الحنفیہ کے بیٹے ہیں (ان کے والد ابن الحنفیہ کہلاتے تھے کیونکہ ان کی ماں بنو حنیفہ سے تھیں)۔
وأخرجه النسائي (4429) من طريق أبي إسحاق الفَزَاري، عن سفيان الثَّوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (4429) نے ابو اسحاق الفزاری بحوالہ سفیان ثوری روایت کیا ہے۔
وقد جاء في رواية النسائي بيان المراد بالسهمين المذكورين بأنهما سهم الرسول ﷺ وسهم ذوي القُربى.
📝 نوٹ / توضیح: نسائی کی روایت میں صراحت ہے کہ "دو حصوں" (سہمین) سے مراد نبی ﷺ کا حصہ اور ذوی القربیٰ کا حصہ ہے۔