🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ
سیدنا رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے دن اپنی تلوار ذوالفقار نفل کے طور پر دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2620
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة، عن ابن عباس، قال: تَنفَّل رسول الله ﷺ سيفَه ذا الفَقَار يومَ بدرٍ، قال ابن عباس: وهو الذي رأى فيه الرؤيا يومَ أُحدٍ، وذلك أنَّ رسول الله ﷺ لما جاءه المشركون يوم أُحد، كان رأيُ رسول الله ﷺ أن يُقيم بالمدينة يقاتِلُهم فيها، فقال له ناس لم يكونوا شَهِدوا بدرًا: يخرجُ بنا رسولُ الله إليهم نقاتِلُهم بأحدٍ، وَتَرَجَّوا (1) أن يُصِيبوا من الفَضِيلة ما أصابَ أهلُ بدرٍ. فما زالوا برسول الله ﷺ حتى لَبِسَ أداتَه، نَدِموا، وقالوا: يا رسول الله، أقِمْ، فالرأيُ رأيُك، فقال رسول الله ﷺ:"ما ينبغي لنبيٍّ أن يضعَ أدَاتَه بعد أن لَبِسَها، حتى يَحكُم اللهُ بينَه وبين عَدُوِّه"، قال: وكان لما قال لهم رسول الله ﷺ يومئذ قبل أن يَلْبَس الأداةَ:"إني رأيتُ أني في دِرْعٍ حَصينةٍ، فأوّلتُها المدينةَ، وأني مُردِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُه كَبْشَ الكَتيبةِ، ورأيتُ أن سيفي ذا الفَقَارِ فُلَّ، فأوّلْتُه فَلًّا فيكم، ورأيت بَقَرًا تُذبَح، فبَقْرٌ والله خيرٌ، فبَقْرٌ والله خيرٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2588 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار جنگ بدر کے موقع پر مالِ غنیمت کے اضافی حصہ کے طور پر حاصل کی تھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احد کے دن جب مشرکین جنگ کے لیے تیار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم لوگ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے، یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے ہمراہ لے چلیں گے؟ تاکہ ہم دشمن کے ساتھ میدان احد میں مقابلہ کریں اور ان کو وہی فضیلت پانے کی تمنا تھی جو جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کو حاصل ہوئی تھی، وہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس زیب تن کیا اور ہتھیار وغیرہ پہن لیے۔ پھر وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے ہی بہتر رائے ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نبی جنگ کے لیے ہتھیار اٹھا لیتا ہے تو پھر جب تک اللہ تعالیٰ اس کے اور دشمن کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا، اس وقت تک وہ اپنے ہتھیار اتارتا نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حالانکہ اسی دن جنگی لباس پہننے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ بات بتا چکے تھے کہ میں نے (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں بہت مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر شہر (مدینہ) قرار دی ہے، میں نے دیکھا کہ میں ایک مینڈھے کو غبار میں روند رہا ہوں، اس کی تعبیر یہ ہے کہ دشمن کے لشکر کا سردار مارا جائے گا اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میری تلوار ذوالفقار کو دندانے پڑ گئے ہیں، میں نے اس کی تعبیر تمہاری شکست سمجھی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جا رہی ہے اللہ کی قسم! گائے (کو خواب میں دیکھنا) اچھا ہے۔ اللہ کی قسم! گائے (کو خواب میں دیکھنا) اچھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2620]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں