🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. مُنَاظَرَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ الْحَرُورِيَّةَ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حروریوں سے مناظرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2688
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حدثنا أبو أُميّة محمد بن إبراهيم الطَّرَسُوسي، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم بن معاوية اليَمامي، حدثنا عِكرمة بن عمار العِجْلي، حدثنا أبو زُمَيل سِماك الحَنَفي، حدثنا عبد الله بن عباس، قال: لما خرجتِ الحَرُورية اجتمعوا في دارٍ وهم ستة آلاف، أتيتُ عليًّا، فقلت: يا أمير المؤمنين، أبرِدْ بالظُّهر لَعلِّي آتي هؤلاء القوم فَأُكلّمَهم، قال: إني أخافُ عليك، قلت: كلا. قال: فخرجتُ إليهم، ولبستُ أحسنَ ما يكون من حُلل اليمن، قال أبو زُميل: كان ابن عباس جميلًا جَهِيرًا، قال ابن عباس: فأتيتُهم وهم مجتمِعُون في دارهم قائلون، فسلَّمتُ عليهم، فقالوا: مرحبًا بك يا ابن عباس، فما هذه الحُلّة؟ قال: قلت: ما تَعيبون عليَّ، لقد رأيتُ على رسول الله ﷺ أحسنَ ما يكون من الحُلَل، ونَزَلَ: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [الأعراف: 32] ، قالوا: فما جاء بك؟ قلت: أتيتُكم مِن عند صحابة النبي ﷺ من المهاجرين والأنصار، لأُبلِّغكم ما يقولون، وتُخبروني (1) بما تقولون، فعليهم نزل القرآن، وهم أعلمُ بالوحي منكم وفيهم أُنزل، وليس فيكم منهم أحدٌ. فقال بعضهم: لا تُخاصِموا قريشًا، فإنَّ الله يقول: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] . قال ابن عباس: وأتيتُ قومًا لم أرَ قومًا قطُّ أشدَّ اجتهادًا منهم، مُسهَمَةً وجوهُهم من السَّهر، كأنَّ أيديهم ورُكبَهم ثَفِنٌ (2) ، عليهم قُمُصٌ مُرَحَّضة (3) ، فقال بعضُهم: لنُكلِّمنَّه ولنَنظُرنَّ ما يقول، قلت: أخبِروني ماذا نَقَمتُم على ابن عمِّ رسول الله ﷺ وصهرِه والمهاجرين والأنصار؟ قالوا: ثلاثًا، قلت: ما هنّ؟ قالوا: أما إحداهنّ: فإنه حَكَّم الرجالَ في أمر الله، وقال الله: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ [يوسف: 40] ، وما للرِّجال وما للحكم؟ فقلت: هذه واحدة، قالوا: وأما الأُخرى: فإنه قاتَلَ ولم يَسْبِ ولم يَغْنَم، فلئن كان الذي قاتَلَ كفارًا، لقد حَلَّ سَبْيُهم (1) وغنيمتُهم، ولئن كانوا مؤمنين ما حَلّ قتالُهم. قلت: هذه ثِنتان، فما الثالثة؟ قالوا: إنه مَحَا نفسَه مِن أمير المؤمنين، فهو أمير الكافرين، قلت: أعندكم سوى هذا؟ قالوا: حسبُنا هذا. فقلت لهم: أرأيتُم إن قرأتُ عليكم من كتاب الله ومن سنة نبيه ﷺ ما يردُّ به قولَكم، أتَرْضَون؟ قالوا: نعم، فقلت لهم: أمّا قولكم: حَكَّم الرجالَ في أمر الله، فأنا أقرأ عليكم ما قد رُدَّ حكمُه إلى الرجال في ثمن رُبع درهم في أرنبٍ ونحوِها من الصيد، فقال: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ﴾ إلى قوله: ﴿يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ [المائدة: 95] ، فنشَدتُكم بالله، أحُكمُ الرجالِ في أرنبٍ ونحوها من الصيد أفضلُ، أم حُكمُهم في دمائهم وصلاحِ ذاتِ بينِهم، وأن تَعلَمُوا أنَّ الله لو شاء لحكَم ولم يُصيِّر ذلك إلى الرجال؟ وفي المرأة وزوجها قال الله ﷿: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا﴾ [النساء: 35] ، فجعل الله حُكمَ الرجالِ سنةً ماضية. أخَرَجتُ عن هذه؟ قالوا: نعم. قال: وأما قولكم: قاتَلَ ولم يَسْبِ، ولم يَغْنَم، أتسْبُون أمَّكم عائشة، ثم تَستحلُّون منها ما يُستحلُّ من غيرها؟ فلئن فعلتُم لقد كفرتُم وهي أمُّكم، ولئن قلتم: ليست بأمِّنَا، لقد كفرتم، فإنَّ الله يقول: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [الأحزاب: 6] ، فأنتم تدُورون بين ضلالَتَين، أيُّهما صِرتُم إليها صِرتُم إلى ضلالةٍ، فنظر بعضُهم إلى بعض. قلت: أخَرَجتُ من هذه؟ قالوا: نعم. قال: وأما قولكم: مَحَا اسمَه من أمير المؤمنين، فأنا آتيكُم بمن تَرضَون، وأُراكم قد سمعتُم: أنَّ النبي ﷺ يومَ الحُدَيبيَة كاتَبَ سُهيلَ بن عمرو وأبا سفيان بن حَرْب، فقال رسول الله ﷺ لأمير المؤمنين:"اكتُبْ يا عليُّ: هذا ما اصطَلَح عليه محمدٌ رسول الله" فقال المشركون: لا والله ما نعلم أنك رسولُ الله، لو نعلم أنك رسولُ الله ما قاتَلْناك، فقال رسول الله ﷺ:"اللهم إنك تَعلمُ أني رسولُ الله، اكتُبْ يا عليُّ: هذا ما اصطَلَح عليه محمدُ بنُ عبد الله"، فوالله لَرسولُ الله خيرٌ من عليٍّ، وما أخرَجَه من النبوّة حين مَحَا نفسه. قال عبد الله بن عباس: فرجع من القوم أَلفان، وقُتل سائرُهم على ضلالةٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2656 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب خوارج نے بغاوت کی تو وہ ایک حویلی میں جمع ہوئے، اس وقت ان کی تعداد 6 ہزار تھی۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہما آج ظہر کی نماز ذرا تاخیر سے پڑھیے گا۔ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے پاس آ کر ان سے مذاکرات کروں۔ آپ نے فرمایا: مجھے تیرے بارے میں خدشہ ہے (کہ یہ لوگ تجھے کوئی نقصان نہ پہنچا دیں) میں نے کہا: ایسا نہیں ہو گا (ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں) میں بہت ہی قیمتی یمنی جبہ زیب تن کر کے ان کی طرف روانہ ہوا۔ ابوزمیل فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت خوبصورت نوجوان تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ان کے پاس آیا، اس وقت وہ اس حویلی میں موجود باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے جواباً مجھے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: یہ کیسا جبہ ہے؟ میں نے کہا: تم اس کی وجہ سے مجھ پر کیوں عیب لگا رہے ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی زیادہ قیمتی جبہ پہنے دیکھا ہے اور قرآن کریم کی اس آیت میں اس کی اجازت بھی موجود ہے: (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ) (الاعراف: 32) تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور پاک رزق وہ کہنے لگے: تم کہنے کیا آئے ہو؟ میں نے کہا: میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے آیا ہوں تاکہ تمہارے پاس ان کی جانب سے جو خبریں پہنچ رہی ہیں، ان کی حقیقت حال تم تک پہنچاؤں۔ ان لوگوں کی موجودگی میں قرآن نازل ہوا ہے اور وہ لوگ وحی کو تم سے بہتر طریقے سے جانتے ہیں اور ان کے متعلق ہی یہ حکم نازل ہوا ہے اور تم میں ان میں سے کوئی نہیں ہے۔ تو ایک شخص بولا: تم قریش سے بلاوجہ مت جھگڑو۔ کیونکہ قرآن کہتا ہے: (بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ) (الزخرف: 58) بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں کہ ان سے بڑھ کر اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والا میں نے کسی قوم کو نہیں پایا۔ شب بیداریوں کی وجہ سے ان کے چہروں کی رنگت بدلی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کی تعریف کر رہے ہیں، ان میں سے بعض نے کہا: ہمیں اس کے ساتھ گفت و شنید ضرور کرنی چاہیے تاکہ اس کے نظریات ہم پر آشکار ہوں لیکن میں نے کہا: تم مجھے یہ بات بتاؤ کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی، ان کے داماد اور مہاجرین و انصار پر کیا اعتراض ہے؟ انہوں نے کہا: (ہمیں ان پر) تین اعتراض ہیں۔ میں نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: پہلا تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بندوں کو حاکم بنا دیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ) (یوسف: 40) حکم نہیں مگر اللہ کا بندوں کا امر سے کیا تعلق؟ میں نے کہا: یہ تو ایک ہوا۔ انہوں نے کہا: دوسرا یہ ہے کہ انہوں نے جنگ کی ہے لیکن نہ تو کسی کو قیدی بنایا اور نہ مالِ غنیمت حاصل کیا۔ اب یہ جن سے لڑ رہے ہیں اگر وہ کافر ہیں تو ان کو قیدی بنانا اور ان کا مالِ غنیمت میں لینا جائز ہوتا اور اگر وہ مومن ہیں تو ان سے جہاد جائز نہیں۔ میں نے کہا: دو ہو گئے۔ تیسرا اعتراض کیا ہے؟ انہوں نے کہا: (تیسری بات یہ ہے کہ) انہوں نے اپنے نام سے لفظ امیرالمومنین ہٹا دیا ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ امیرالکافرین ہوئے۔ میں نے کہا: اس کے علاوہ آپ لوگوں کے کوئی تحفظات ہوں تو وہ بھی بتا دو۔ انہوں نے کہا: ہمارے اعتراضات یہی تھے۔ میں نے ان سے کہا: اگر میں تمہیں قرآن پاک کی وہ آیات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث سنا دوں جس سے تمہارے موقف کی تردید ہوتی ہو تو کیا مان لو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: تم نے جو یہ اعتراض کیا ہے کہ بندوں کو حاکم بنا دیا گیا ہے، اس سلسلے میں، میں تمہیں ایک آیت سناتا ہوں جس میں خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق ربع درہم کے آٹھویں حصے میں بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ اِلٰی قَوْلِہِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ) اے ایمان والو! شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بندوں کا خرگوش وغیرہ شکار کے متعلق حاکم بننا افضل ہے یا ان کے خونوں اور ان کے درمیان اصلاح کا حاکم بننا زیادہ افضل ہے؟ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان میں خود ہی فیصلہ کر دیتا اور ان کو دوسروں کے سپرد نہ کرتا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے متعلق فرمایا: (وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَاج اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا) (النساء: 35) اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے، یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں رجحان پیدا کر دے گا تو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حکم بنانا سنتِ مامونہ قرار دیا ہے (جو ان کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے) انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اور تم نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ جنگ کر رہے ہیں لیکن نہ قیدی بنا رہے ہیں نہ مالِ غنیمت، کیا تم اپنی اماں عائشہ رضی اللہ عنہما کو قیدی بناؤ گے اور پھر ان کے ساتھ وہ سب کچھ کر سکو گے جو ایک قیدی خاتون کے ساتھ کرنا جائز ہے؟ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کافر ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہاری ماں ہیں۔ اور اگر تم ان کے ایمان کا انکار کرو تو بھی تم ہی کافر ہو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُھُمْ) (الاحزاب: 6) یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں تو تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے ہو۔ ان میں سے کسی کی طرف بھی جاؤ بہرحال گمراہی ہی تمہارا مقدر ہے۔ (میری یہ دلیل سن کر) انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ میں نے کہا: میں نے تمہارے دوسرے اعتراض کا بھی جواب دے دیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں (میں نے کہا) اور تمہارا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے نام سے امیرالمومنین کا نام ہٹا دیا ہے۔ تو میں تمہیں ایسی شخصیت کی بات بتاتا ہوں جس پر تم سب لوگ راضی ہو اور میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن رکھا ہو گا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کی طرف (جو مکتوب) لکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیرالمومنین سے فرمایا تھا۔ اے علی! لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ نہیں، خدا کی قسم ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے، اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو تمہارے ساتھ جنگ کیوں کرتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بولے: اے اللہ! تُو تو جانتا ہے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ اے علی! اس کی عبارت یوں کر دو۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے۔ تو خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے کہیں افضل ہیں۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام سے رسول اللہ مٹوا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ختم نہیں ہوئی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں (میری یہ گفتگو سن کر) دو ہزار آدمیوں نے ان کی جماعت سے رجوع کر لیا۔ اور باقی سب گمراہی پر قتل ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2688]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں