المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. ذِكْرُ مُكَاتَبَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَالَحَ قَوْمَهُ قُرَيْشًا .
صلحِ قریش کے وقت سیدنا رسول اللہ ﷺ کی تحریر کا بیان
حدیث نمبر: 2689
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا محمد بن كَثير العَبْدي، حدثنا يحيى بن سُليم وعبد الله (2) بن واقِد، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن عبد الله بن شَدّاد بن الهادِ، قال: قَدِمتُ على عائشة، فبينما نحنُ عندها جلوسٌ مَرجِعَها من العراق لياليَ قُوتل عليٌّ، إذ قالت: يا عبدَ الله بن شدّاد، هل أنت صادقِي عمَّا أسألك عنه؟ حَدِّثني عن هؤلاء القومِ الذين قتَلَهم عليٌّ، قلت: وما لي لا أَصدُقُكِ؟ قالت: فحدِّثني عن قصتهم، قلت: إنَّ عليًّا لما كاتَبَ معاويةَ وحَكَّم الحكَمَين، خرج عليه ثمانية آلاف من قُرّاء الناس، فنزلوا أرضًا من جانب الكوفة يقال لها: حَرُوراء، وإنهم أنكَروا عليه، فقالوا: انسلخْتَ من قميصٍ ألبَسَكَهُ اللهُ وأسماكَ به، ثم انطلقتَ فحكَّمْتَ في دِين الله، ولا حُكمَ إِلَّا لله، فلما بلغ عليًّا ما عَتَبوا عليه وفارَقُوه، أمَرَ فأذَّن مُؤذِّن: لا يَدخُلَنَّ على أمير المؤمنين إلّا رجلٌ قد حَمَلَ القرآن، فلما أن امتلأ من قرّاء الناس الدارُ، دعا بمصحف عظيم، فوضعَه عليٌّ بين يديه، فطَفِقَ يَصُكُّه بيده، ويقول: أيها المصحفُ حَدَّثَ الناسَ، فناداه الناسُ، فقالوا: يا أمير المؤمنين، ما تسألُه عنه؟ إنما هو وَرَقٌ ومِدادٌ، ونحن نتكلّم بما رأينا منه، فماذا تريد؟ قال: أصحابكم الذين خرجوا بيني وبينهم كتابَ الله، يقول اللهُ ﷿ في امرأة ورجل: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا﴾ [النساء: 35] ، فأُمَّةُ محمد ﷺ أعظمُ حُرمةً من امرأة ورجل. ونَقَمُوا عليَّ أني كاتبتُ معاويةَ وكتبتُ (1) عليَّ بن أبي طالب، وقد جاء سُهيل بن عمرو ونحن مع رسول الله ﷺ بالحُدَيبيَة حين صالَحَ قومَه قريشًا، فكتب رسول الله ﷺ: بسم الله الرحمن الرحيم، فقال سُهيلٌ: لا تَكتُبْ: بسم الله الرحمن الرحيم، قال:"فكيف أكتُبُ؟" قال: اكتُبْ: باسمِك اللهمَّ، فقال رسول الله ﷺ:"اكتُبْ" ثم قال:"اكتُبْ: من محمدٍ رسول الله" قال: لو نعلمُ أنك رسولُ الله لم نُخالِفْك، فكتب: هذا ما صالَحَ عليه محمدُ بن عبد الله قريشًا. يقول الله في كتابه: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ﴾ [الأحزاب: 21] . فبعثَ (1) إليهم عليُّ بن أبي طالب [عبدَ الله بنَ عباس] (2) ، فخرجتُ معهم، حتى إذا تَوسَّطْنا عسكَرَهم قام ابن الكَوّاء فخطب الناسَ، فقال: يا حَمَلةَ القرآن، هذا عبد الله بن عباس، فمن لم يكن يَعرِفُه فأنا أَعرِفُه مِن كتاب الله، هذا مَن نزل في قومه: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] ، فرُدُّوه إلى صاحبِه، ولا تُواضِعُوه كتابَ الله، قال: فقام خطباؤهم، فقالوا: لا والله، لنُواضِعنَّه كتابَ الله، فإذا جاء بالحقّ نَعرفُه استطَعْناه، ولئن جاء بالباطل لنُبَكِّتَنَّه بباطِلِه، ولنَرُدَّنّه إلى صاحبِه، فواضَعُوه على كتابِ الله ثلاثةَ أيامٍ، فرجع منهم أربعةُ آلافٍ كلُّهم تائبٌ، منهم ابن الكوّاء، حتى أدخلَهم على عليٍّ، فبعث عليٌّ إلى بقيّتهم فقال: قد كان مِن أمرنا وأمر الناس ما قد رأيتُم، فقِفُوا حيثُ شئتم، حتى تجتمعَ أمّةُ محمد ﷺ، وتنزلوا فيها حيث شئتم، بيننا وبينكم أن نَقِيَكم رماحَنا ما لم تقطعُوا سبيلًا أو تطلبوا دمًا، فإنكم إن فعلتُم ذلك فقد نَبَذْنا إليكم الحربَ على سَواءٍ، إن الله لا يحبُّ الخائنين. فقالت له عائشة: يا ابنَ شدّاد، فقد قتلهم، فقال: واللهِ ما بعثَ إليهم حتى قَطَعوا السبيلَ، وسَفَكوا الدماءَ بغير حقِّ الله، وقتلوا ابنَ خَبّاب، واستَحَلُّوا أهلَ الذِّمّة، فقالت: آللهِ؟ فقلت: آللهِ الذي لا إله إلّا هو. قالت: فما شيءٌ بلغني عن أهل العراق يتحدّثون به يقولون: ذو الثُّدَيّ، ذو الثُّدَيّ، قلتُ: قد رأيتُه ووقفتُ عليه مع عليٍّ في القَتْلى، فدعا الناسَ، فقال: هل تعرفون هذا؟ فكان أكثرُ من جاء يقول: قد رأيتُه في مسجد بني فلان يصلي، ورأيتُه في مسجد بني فلان يصلي، فلم يأتِ بثَبَتٍ يُعرَف إلّا ذلك، قالت: فما قول عليٍّ حين قام عليه كما يَزعُم أهلُ العراق؟ قلت: سمعتُه يقول: صَدَق اللهُ ورسولُه، قالت: وهل سمعتَ أنت منه قال غيرَ ذلك؟ قلت: اللهم لا، قالت: أجَلْ، صدقَ اللهُ ورسولُه، يَرحَمُ اللهُ عليًا، إنه من كلامه، كان لا يرى شيئًا يُعجِبُه إلّا قال: صدق الله ورسوله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه إِلَّا ذكرَ ذي الثُّدَيّة، فقد أخرجه مسلم بأسانيد كثيرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2657 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج منه ذكر ذي الثدية
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه إِلَّا ذكرَ ذي الثُّدَيّة، فقد أخرجه مسلم بأسانيد كثيرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2657 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج منه ذكر ذي الثدية
سیدنا عبداللہ بن شداد بن الہاد سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ عراق سے واپسی پر ان ایام میں مقیم تھیں جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (خوارج سے) جنگ کی تھی، تو انہوں نے پوچھا: ”اے عبداللہ بن شداد! کیا تم مجھ سے وہ سچ کہو گے جو میں تم سے پوچھوں گی؟ مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جنہیں علی نے قتل کیا“، میں نے عرض کیا: ”میں آپ سے سچ کیوں نہ کہوں گا؟“ انہوں نے کہا: ”ان کا قصہ بیان کرو“، میں نے عرض کیا: ”جب علی رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور (صلح کے لیے) دو حَکم مقرر کیے، تو آٹھ ہزار قراء ان کے خلاف نکل کھڑے ہوئے اور کوفہ کی ایک جانب ”حروراء“ نامی بستی میں پڑاؤ ڈال دیا اور ان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ: ”آپ اس قمیص (خلافت) سے باہر نکل آئے جو اللہ نے آپ کو پہنائی تھی اور جس نام (امیر المؤمنین) سے آپ کو نوازا تھا، پھر آپ نے اللہ کے دین میں لوگوں کو حاکم بنا دیا، حالانکہ «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”فیصلہ تو صرف اللہ کا ہے““، جب علی رضی اللہ عنہ کو ان کے اعتراضات اور علیحدگی کی اطلاع ملی تو انہوں نے اعلان کروایا کہ امیر المؤمنین کے پاس صرف وہی شخص آئے جس نے قرآن حفظ کیا ہو، جب گھر قراء سے بھر گیا تو انہوں نے ایک بڑا مصحف منگوایا اور اسے اپنے سامنے رکھ کر اس پر ہاتھ مارنے لگے اور پکار کر کہا: ”اے مصحف! لوگوں سے کلام کر“، لوگوں نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! آپ اس سے کیا پوچھتے ہیں؟ یہ تو محض کاغذ اور روشنائی ہے، ہم اس سے وہ کلام بیان کرتے ہیں جو ہم نے اس میں دیکھا ہے، آپ کیا چاہتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”تمہارے وہ ساتھی جو میرے خلاف نکلے ہیں، میرے اور ان کے درمیان اللہ کی کتاب (فیصلہ کن) ہے، اللہ عزوجل ایک مرد اور عورت کے (نزاع کے) بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا﴾ [سورة النساء: 35] ”اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان ان بن کا خوف ہو (تو دو حکم مقرر کرو)“، تو امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت ایک مرد اور عورت سے کہیں زیادہ ہے، نیز انہوں نے مجھ پر یہ اعتراض کیا کہ میں نے معاویہ کو خط میں اپنا نام ”علی بن ابی طالب“ لکھا (امیر المؤمنین نہیں لکھا)، حالانکہ جب سہیل بن عمرو حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صلح کے لیے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»، سہیل نے کہا: ” «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» نہ لکھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر کیسے لکھوں؟“ اس نے کہا: ” «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» لکھیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی لکھ دو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو: یہ اللہ کے رسول محمد کی طرف سے ہے“، اس نے کہا: ”اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی مخالفت نہ کرتے“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا: ”یہ وہ صلح ہے جو محمد بن عبداللہ نے قریش سے کی“، اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا، میں بھی ان کے ساتھ گیا، جب ہم ان کے لشکر کے درمیان پہنچے تو ابن الکواء کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہا: ”اے حاملینِ قرآن! یہ عبداللہ بن عباس ہیں، جو انہیں نہیں جانتا میں اسے اللہ کی کتاب کی روشنی میں بتاتا ہوں کہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [سورة الزخرف: 58] ”بلکہ یہ تو جھگڑالو لوگ ہیں“، لہٰذا انہیں ان کے صاحب کے پاس واپس بھیج دو اور ان کے سامنے اللہ کی کتاب پیش نہ کرو“، مگر ان کے خطباء کھڑے ہوئے اور کہا: ”اللہ کی قسم! ہم ضرور ان کے سامنے اللہ کی کتاب پیش کریں گے، اگر یہ حق لائے تو ہم اسے پہچان لیں گے اور اگر باطل لائے تو ہم انہیں باطل سے لاجواب کر کے واپس بھیج دیں گے“، چنانچہ تین دن تک ان کے سامنے اللہ کی کتاب پیش کی گئی جس کے نتیجے میں چار ہزار لوگ تائب ہو گئے جن میں ابن الکواء بھی شامل تھے اور وہ علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے، پھر علی رضی اللہ عنہ نے بقیہ لوگوں کو پیغام بھیجا کہ: ”ہمارے اور لوگوں کے درمیان جو معاملہ پیش آیا وہ تم دیکھ چکے ہو، اب تم جہاں چاہو رہو یہاں تک کہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر متفق ہو جائے، ہمارے اور تمہارے درمیان یہ عہد ہے کہ جب تک تم راستے بند نہیں کرو گے، خون نہیں بہاؤ گے اور کسی کو قتل نہیں کرو گے ہم تم پر ہتھیار نہیں اٹھائیں گے، لیکن اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تمہارے خلاف بھرپور اعلانِ جنگ کر دیں گے، بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”اے ابن شداد! کیا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں (بالآخر) قتل کر دیا؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! انہوں نے ان پر تب تک حملہ نہیں کیا جب تک انہوں نے راستے بند نہ کر دیے، ناحق خون نہ بہایا، ابن خبّاب کو شہید نہ کیا اور اہلِ ذمہ (غیر مسلم شہریوں) کو مباح نہ سمجھ لیا“، انہوں نے پوچھا: ”کیا واقعی اللہ کی قسم؟“ میں نے کہا: ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!“ انہوں نے پوچھا: ”وہ کیا بات ہے جو مجھے اہلِ عراق سے پہنچی ہے کہ وہ «ذُو الثُّدَيَّةِ» ”چھوٹی چھاتی والے شخص“ کا ذکر کرتے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”میں نے اسے دیکھا ہے اور علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقتولین میں اس کی لاش کے پاس کھڑا رہا ہوں، علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم اسے جانتے ہو؟ اکثر لوگوں نے کہا: میں نے اسے فلاں مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے، اس کے علاوہ کوئی پختہ پہچان سامنے نہ آئی“، انہوں نے پوچھا: ”جب علی اس (کی لاش) پر کھڑے ہوئے تو انہوں نے کیا کہا جیسا کہ اہل عراق دعویٰ کرتے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”میں نے انہیں کہتے سنا: «صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا““، انہوں نے پوچھا: ”کیا اس کے علاوہ کچھ سنا؟“ میں نے کہا: ”نہیں“، انہوں نے فرمایا: ”سچ ہے، «صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ»، اللہ علی پر رحم کرے، ان کا یہ معمول تھا کہ جب وہ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو انہیں بھلی لگتی تو وہ یہی کہتے: «صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» “۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، سوائے ذو الثدیہ کے ذکر کے، جسے امام مسلم نے کثیر اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2689]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، سوائے ذو الثدیہ کے ذکر کے، جسے امام مسلم نے کثیر اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد لا بأس برجاله، لكن عبد الله بن عثمان بن خثيم لم يسمع هذا الخبر من عبد الله بن شداد، بينهما فيه عبيدُ الله بن عياض القاريّ، كما في رواية غير الحاكم، وإن كان سماع ابن خُثيم من ابن شداد محتمل، لكن لم نقف له على رواية عنه مباشرة، وعُبيد الله بن عياض المذكور ثقة.» [ترقيم الرساله 2689] [ترقيم الشركة 2672] [ترقيم العلميه 2657]
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 2690
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة الغِفاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن محمد بن قيس، قال: سمعت مالك بن الحارث يقول: شهدتُ عليًّا يوم النَّهْروان طلبَ المُخْدَجَ فلم يَقدِرْ عليه، فجَعَلَت جبينُه تَعرَقُ وأخذه الكَرْب، ثم إنه قَدَرَ عليه، فخَرّ ساجدًا، فقال: والله ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بذكر سجدة الشُّكر، وهو غريب صحيح في سجود الشكر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2658 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بذكر سجدة الشُّكر، وهو غريب صحيح في سجود الشكر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2658 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں جنگِ نہروان کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا، انہوں نے ”مخدج“ (ناقص الخلقت خارجی) کو تلاش کیا مگر وہ اسے پا نہ سکے، (شدتِ فکر سے) ان کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگا اور وہ سخت بے چین ہوئے، پھر آخر کار جب انہوں نے اسے پا لیا تو وہ سجدہ ریز ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا ہے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر سچی ثابت ہوئی)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے سجدہ شکر کے تذکرے کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور سجدہ شکر کے باب میں یہ ایک غریب اور صحیح روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2690]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے سجدہ شکر کے تذکرے کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور سجدہ شکر کے باب میں یہ ایک غریب اور صحیح روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2690]
تخریج الحدیث: «صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مالك بن الحارث - وقيل: اسمه الحارث بن قيس، وهو أبو موسى الهَمْداني - لم يرو عنه غير محمد بن قيس - وهو المُرهِبي - كان ممن شهد مع عليٍّ قتال الخوارج، وقد رُوي خبرُه هذا من وجوه عن عليّ بن أبي طالب. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 2690] [ترقيم الشركة 2673] [ترقيم العلميه 2658]
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2691
أخبرنا مُكرَم بن أحمد بن مكرم القاضي، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا أبو عَتَّاب سهل بن حمّاد، حدثنا عبد الملك بن أبي نَضْرة، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ أتاه مال، فجعل يَضرِب بيده فيه فيُعطي يمينًا وشمالًا، وفيهم رجل مُقَلَّص الثياب، ذو سِيْماءَ، بين عَينَيه أثرُ السجود، فجعل رسولُ الله ﷺ يضرب يدَه يمينًا وشمالًا حتى نَفِد المالُ، فلما نَفِدَ المالُ ولَّى مُدبرًا، وقال: والله ما عدلتَ منذ اليومِ. قال: فجعل رسولُ الله ﷺ يُقلِّب كفّه، ويقول:"إذا لم أعدِلْ فمن ذا يَعدلُ بعدي؟ أَمَا إِنه سَتَمْرُق مارِقةٌ، يَمرُقون من الدِّين مُروق السهم من الرَّمِيّة، ثم لا يعُودون إليه حتى يَرجِعَ السهمُ على فُوقِه، يقرؤون القرآن لا يجاوز تَراقِيهَم، يُحسِنون القولَ ويُسيئون الفعلَ، فمن لقيَهم فليقاتلْهم، فمن قتلهم فله أفضلُ الأجر، ومن قتَلُوه فله أفضل الشهادة، هم شرُّ البَرّيّة، بَرِئ اللهُ منهم، تقتلهم أَولى الطائفتَين بالحقّ" (1) .
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) ، وعبد الملك بن أبي نَضْرة من أعزّ البصريين حديثًا، ولا أعلم أني عَلَوت له في حديث غير هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2659 - صحيح
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) ، وعبد الملك بن أبي نَضْرة من أعزّ البصريين حديثًا، ولا أعلم أني عَلَوت له في حديث غير هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2659 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے اسے دائیں اور بائیں تقسیم کرنے لگے، حاضرین میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس نے اونچا لباس پہنا ہوا تھا، وہ مخصوص علامات والا تھا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کا نشان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ دائیں بائیں پھیلا کر مال عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ مال ختم ہو گیا، جب مال ختم ہو گیا تو وہ شخص پیٹھ پھیر کر چل دیا اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! آج آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلیوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے اور فرمایا: ”اگر میں عدل نہیں کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟ سن لو! عنقریب ایک ایسا گروہ نکلے گا جو دین سے اس طرح نکل جائے گا جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے، پھر وہ اس وقت تک (دین کی طرف) واپس نہیں آئیں گے جب تک تیر اپنے چلے کی طرف واپس نہ پلٹ آئے، وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ باتیں تو بہت اچھی کریں گے مگر ان کے افعال برے ہوں گے، جو بھی ان سے ملے وہ ان سے قتال کرے، کیونکہ جس نے انہیں قتل کیا اس کے لیے بہترین اجر ہے اور جسے انہوں نے قتل کیا اس کے لیے بہترین شہادت ہے، وہ تمام مخلوق میں بدترین ہیں، اللہ ان سے بیزار ہے، انہیں وہ گروہ قتل کرے گا جو دو گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالملک بن ابونضرہ بصری راویوں میں سے ایک نایاب راوی ہیں اور میرے علم میں اس کے علاوہ کوئی ایسی حدیث نہیں جو ان کے واسطے سے مجھے اتنی عالی سند کے ساتھ ملی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2691]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالملک بن ابونضرہ بصری راویوں میں سے ایک نایاب راوی ہیں اور میرے علم میں اس کے علاوہ کوئی ایسی حدیث نہیں جو ان کے واسطے سے مجھے اتنی عالی سند کے ساتھ ملی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2691]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الملك بن أبي نضرة وسهل بن عتَّاب. وأخرجه بنحوه أحمد 18/ (11537) و (11621)، والبخاري (6163) و (6933)، ومسلم (1064)، والنسائي (8507) و (8508) و (11156) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، وأحمد 18/ (11621)، والبخاري (6163)، ومسلم (1064)، والنسائي (8508) ...» [ترقيم الرساله 2691] [ترقيم الشركة 2674] [ترقيم العلميه 2659]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2692
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا الحارث بن أبي أسامة، أنَّ كثير بن هشام حدثهم، حدثنا جعفر بن بُرْقان، حدثنا ميمون بن مِهْران، عن أبي أُمامة، قال: شهدتُ صِفِّين، فكانوا لا يُجِيزون (3) على جَريح، ولا يقتلون مُولِّيًا، ولا يَسلُبون قَتيلًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد في هذا الباب. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2660 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد في هذا الباب. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2660 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جنگِ صفین میں موجود تھا، (اہلِ حق کا طریقہ یہ تھا کہ) وہ کسی زخمی پر (اسے ختم کرنے کے لیے) دوبارہ وار نہیں کرتے تھے، نہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کو قتل کرتے تھے اور نہ ہی کسی مقتول کا سامان چھینتے تھے۔
یہ حدیث اس باب میں صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2692]
یہ حدیث اس باب میں صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2692] [ترقيم الشركة 2675] [ترقيم العلميه 2660]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2693
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا شَريك، عن السُّدِّي، عن يزيد بن ضُبَيعة العَبْسي، قال: نادى مُنادي عمارٍ يوم الجمَل، وقد ولَّى الناسُ: ألا لا يُذْأفُ على جَريح، ولا يُقتَل مُوَلِّي (2) ، ومن ألقى السلاحَ فهو آمِن، فشقَّ ذلك علينا (3) . وقد رُوي في هذا الباب حديث مسنَد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2661 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2661 - صحيح
یزید بن ضبیعہ عبسی سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ جمل کے دن جب لوگ (شکست کھا کر) پیچھے ہٹ گئے تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے منادی نے اعلان کیا: آگاہ ہو جاؤ! کسی زخمی کو قتل نہ کیا جائے، نہ کسی بھاگنے والے کو مارا جائے، اور جس نے ہتھیار ڈال دیے وہ امن میں ہے، راوی کہتے ہیں کہ یہ (نرمی) ہم پر گراں گزری۔
اس کا ایک صحیح شاہد بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2693]
اس کا ایک صحیح شاہد بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وقد روي عن شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - على غير وجه، كما سيأتي بيانه، وروي عن علي بن أبي طالب من وجوه أخرى، ويؤيده خبر أبي أمامة الذي قبله. السُّدِّي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 2693] [ترقيم الشركة 2676] [ترقيم العلميه 2661]
الحكم على الحديث: خبر صحيح