🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. ذِكْرُ مُكَاتَبَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَالَحَ قَوْمَهُ قُرَيْشًا .
صلحِ قریش کے وقت سیدنا رسول اللہ ﷺ کی تحریر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2689
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا محمد بن كَثير العَبْدي، حدثنا يحيى بن سُليم وعبد الله (2) بن واقِد، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن عبد الله بن شَدّاد بن الهادِ، قال: قَدِمتُ على عائشة، فبينما نحنُ عندها جلوسٌ مَرجِعَها من العراق لياليَ قُوتل عليٌّ، إذ قالت: يا عبدَ الله بن شدّاد، هل أنت صادقِي عمَّا أسألك عنه؟ حَدِّثني عن هؤلاء القومِ الذين قتَلَهم عليٌّ، قلت: وما لي لا أَصدُقُكِ؟ قالت: فحدِّثني عن قصتهم، قلت: إنَّ عليًّا لما كاتَبَ معاويةَ وحَكَّم الحكَمَين، خرج عليه ثمانية آلاف من قُرّاء الناس، فنزلوا أرضًا من جانب الكوفة يقال لها: حَرُوراء، وإنهم أنكَروا عليه، فقالوا: انسلخْتَ من قميصٍ ألبَسَكَهُ اللهُ وأسماكَ به، ثم انطلقتَ فحكَّمْتَ في دِين الله، ولا حُكمَ إِلَّا لله، فلما بلغ عليًّا ما عَتَبوا عليه وفارَقُوه، أمَرَ فأذَّن مُؤذِّن: لا يَدخُلَنَّ على أمير المؤمنين إلّا رجلٌ قد حَمَلَ القرآن، فلما أن امتلأ من قرّاء الناس الدارُ، دعا بمصحف عظيم، فوضعَه عليٌّ بين يديه، فطَفِقَ يَصُكُّه بيده، ويقول: أيها المصحفُ حَدَّثَ الناسَ، فناداه الناسُ، فقالوا: يا أمير المؤمنين، ما تسألُه عنه؟ إنما هو وَرَقٌ ومِدادٌ، ونحن نتكلّم بما رأينا منه، فماذا تريد؟ قال: أصحابكم الذين خرجوا بيني وبينهم كتابَ الله، يقول اللهُ ﷿ في امرأة ورجل: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا﴾ [النساء: 35] ، فأُمَّةُ محمد ﷺ أعظمُ حُرمةً من امرأة ورجل. ونَقَمُوا عليَّ أني كاتبتُ معاويةَ وكتبتُ (1) عليَّ بن أبي طالب، وقد جاء سُهيل بن عمرو ونحن مع رسول الله ﷺ بالحُدَيبيَة حين صالَحَ قومَه قريشًا، فكتب رسول الله ﷺ: بسم الله الرحمن الرحيم، فقال سُهيلٌ: لا تَكتُبْ: بسم الله الرحمن الرحيم، قال:"فكيف أكتُبُ؟" قال: اكتُبْ: باسمِك اللهمَّ، فقال رسول الله ﷺ:"اكتُبْ" ثم قال:"اكتُبْ: من محمدٍ رسول الله" قال: لو نعلمُ أنك رسولُ الله لم نُخالِفْك، فكتب: هذا ما صالَحَ عليه محمدُ بن عبد الله قريشًا. يقول الله في كتابه: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ﴾ [الأحزاب: 21] . فبعثَ (1) إليهم عليُّ بن أبي طالب [عبدَ الله بنَ عباس] (2) ، فخرجتُ معهم، حتى إذا تَوسَّطْنا عسكَرَهم قام ابن الكَوّاء فخطب الناسَ، فقال: يا حَمَلةَ القرآن، هذا عبد الله بن عباس، فمن لم يكن يَعرِفُه فأنا أَعرِفُه مِن كتاب الله، هذا مَن نزل في قومه: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] ، فرُدُّوه إلى صاحبِه، ولا تُواضِعُوه كتابَ الله، قال: فقام خطباؤهم، فقالوا: لا والله، لنُواضِعنَّه كتابَ الله، فإذا جاء بالحقّ نَعرفُه استطَعْناه، ولئن جاء بالباطل لنُبَكِّتَنَّه بباطِلِه، ولنَرُدَّنّه إلى صاحبِه، فواضَعُوه على كتابِ الله ثلاثةَ أيامٍ، فرجع منهم أربعةُ آلافٍ كلُّهم تائبٌ، منهم ابن الكوّاء، حتى أدخلَهم على عليٍّ، فبعث عليٌّ إلى بقيّتهم فقال: قد كان مِن أمرنا وأمر الناس ما قد رأيتُم، فقِفُوا حيثُ شئتم، حتى تجتمعَ أمّةُ محمد ﷺ، وتنزلوا فيها حيث شئتم، بيننا وبينكم أن نَقِيَكم رماحَنا ما لم تقطعُوا سبيلًا أو تطلبوا دمًا، فإنكم إن فعلتُم ذلك فقد نَبَذْنا إليكم الحربَ على سَواءٍ، إن الله لا يحبُّ الخائنين. فقالت له عائشة: يا ابنَ شدّاد، فقد قتلهم، فقال: واللهِ ما بعثَ إليهم حتى قَطَعوا السبيلَ، وسَفَكوا الدماءَ بغير حقِّ الله، وقتلوا ابنَ خَبّاب، واستَحَلُّوا أهلَ الذِّمّة، فقالت: آللهِ؟ فقلت: آللهِ الذي لا إله إلّا هو. قالت: فما شيءٌ بلغني عن أهل العراق يتحدّثون به يقولون: ذو الثُّدَيّ، ذو الثُّدَيّ، قلتُ: قد رأيتُه ووقفتُ عليه مع عليٍّ في القَتْلى، فدعا الناسَ، فقال: هل تعرفون هذا؟ فكان أكثرُ من جاء يقول: قد رأيتُه في مسجد بني فلان يصلي، ورأيتُه في مسجد بني فلان يصلي، فلم يأتِ بثَبَتٍ يُعرَف إلّا ذلك، قالت: فما قول عليٍّ حين قام عليه كما يَزعُم أهلُ العراق؟ قلت: سمعتُه يقول: صَدَق اللهُ ورسولُه، قالت: وهل سمعتَ أنت منه قال غيرَ ذلك؟ قلت: اللهم لا، قالت: أجَلْ، صدقَ اللهُ ورسولُه، يَرحَمُ اللهُ عليًا، إنه من كلامه، كان لا يرى شيئًا يُعجِبُه إلّا قال: صدق الله ورسوله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه إِلَّا ذكرَ ذي الثُّدَيّة، فقد أخرجه مسلم بأسانيد كثيرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2657 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج منه ذكر ذي الثدية
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سیدنا علی کی لڑائی سے لوٹ کر واپس آئیں تو میں ان کے پاس گیا، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں جو بات تم سے پوچھوں، کیا تم سچ سچ بتاؤ گے؟ آپ مجھے ان لوگوں کے متعلق بتایئے جن کو علی نے قتل کیا۔ میں نے کہا: میں تمہیں سچ کیوں نہیں بتاؤں گا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہما نے کہا: تو مجھے اس کا واقعہ سناؤ۔ میں بولا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معاویہ کی جانب مکتوب لکھا اور دو حاکموں کا فیصلہ سنایا تو 8000 ہزار قراء نے ان کے خلاف بغاوت کر دی پھر وہ کوفہ کی جانب ایک حروراء نامی مقام پر جمع ہو گئے اور انہوں نے علی کے احکام کا انکار کیا اور کہنے لگے: تم نے وہ قمیص اُتار دی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں پہنائی تھی اور اس کے ساتھ تمہیں بلند کیا تھا، پھر تم نے اللہ کے دین میں حاکم مقرر کر دیئے ہیں حالانکہ حکم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب ان کی بغاوت اور ہرزہ سرائی کی خبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں یہ منادی کر دی جائے کہ امیرالمومنین کے پاس صرف حامل قرآن حاضر ہو سکتا ہے، جب حویلی قراء سے بھر گئی تو آپ نے قرآن پاک کا ایک بڑا نسخہ منگوایا۔ اپنے ہاتھ اس پر رکھے اور اس پر ہاتھ پھیر پھیر کر کہنے لگے: اے قرآن! تو ہی لوگوں کو حقیقت بتا۔ لوگوں نے آپ کو آواز دی اور کہنے لگے: اے امیرالمومنین! آپ جس سے سوال کر رہے ہیں وہ تو محض ورق اور سیاہی ہے، ہم اس میں پڑھ کر آپ کو سنا دیتے ہیں، آپ بتایئے آپ چاہتے کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: تمہارے وہ ساتھی جنہوں نے بغاوت کی ہے، اللہ تعالیٰ ایک عورت اور مرد کے متعلق فرماتا ہے: (وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہِ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا) اور اگر تمہیں میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی حرمت ایک مرد اور عورت کی حرمت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے معاویہ سے خط و کتابت کی ہے اور علی بن ابی طالب نے لکھا ہے (اپنے آپ کو امیرالمومنین کیوں نہیں لکھا؟ تو سنئے) ہم حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، سہیل بن عمرو آپ کے پاس آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم قریش کے ساتھ صلح کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ دی۔ تو سہیل نے کہا: بسم اللہ الرحمن الرحیم مت لکھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیسے لکھوں؟ اس نے کہا: لکھو باسمک اللّٰھمّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لکھتا ہوں۔ پھر فرمایا: لکھو من محمد رسول اللہ وہ کہنے لگے: اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہ کرتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا: (ھٰذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قُرَیْشًا) اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ) (الاحزاب: 21) بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ ان کی طرف بھیجا اور میں بھی ان کے ہمراہ ہو لیا۔ جب ہم ان کے لشکر کے درمیان میں پہنچے تو ابن الکواء کھڑا ہو کر لوگوں کو خطبہ دینے لگا، اس نے کہا: اے قرآن کے قاریو! یہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہے، جو ان کو نہیں جانتا اس کو میں اِن کا تعارف کراتا ہوں، قرآن کی یہ آیت انہی کی قوم کے متعلق نازل ہوئی ہے: (بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْن) بلکہ یہ جھگڑالو قوم ہے اس کو اس کے صاحب کی طرف لوٹا دو اور اس کے ساتھ کتاب اللہ میں مذاکرہ مت کرو، آپ فرماتے ہیں: ان کے خطباء کھڑے ہو کر کہنے لگے: خدا کی قسم! ہم اس کے ساتھ کتاب اللہ میں مذاکرہ کریں گے۔ اگر یہ حق بیان کرے گا جو ہم سمجھ سکیں تو ہم مانیں گے اور اگر اس نے باطل پیش کیا تو اس کی سرزنش کریں گے، اور ہم اس کو اس کے صاحب کے پاس واپس بھیج دیں گے۔ چنانچہ ان لوگوں نے تین دن تک ان کے ساتھ کتاب اللہ میں مباحثہ کیا (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ان میں سے چار ہزار لوگ تائب ہو گئے۔ ان میں ابوالکواء بھی تھا۔ یہاں تک کہ ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا اور فرمایا: ہمارا اور دوسرے لوگوں کا (نظریہ) وہی تھا جو تم نے دیکھ لیا ہے، اس لیے تم جہاں پر ہو وہیں ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ امت محمدیہ جمع ہو جائے اور تم جہاں بھی ہو وہیں پڑاؤ کر لو ہمارا تمہارے ساتھ یہ معاہدہ ہے کہ جب تک تم بغاوت نہیں کرو گے ہمارے نیزے تمہاری حفاظت کرتے رہیں گے۔ اور اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تم پر بھی جنگ مسلط کر دیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ خیانت گروں کو پسند نہیں کرتا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے بن شداد! تو انہوں نے ان کو قتل کر دیا؟ انہوں نے کہا: خدا کی قسم انہوں نے ان کی طرف سے اس وقت تک (کوئی مجاہد) نہیں بھیجا جب تک انہوں نے فساد اور ناحق خونریزی شروع نہیں کر دی۔ اور انہوں نے ابن خباب کو بھی قتل کر ڈالا اور انہوں نے اہل ذمہ کے خون اور مالوں کو حلال جانا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: خدا کی قسم؟ میں نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اور اہلِ عراق کے متعلق جتنی باتیں مجھ تک پہنچی ہیں وہ یہ ہے کہ وہ اس کو ذوثدی، ذوثدی کہتے ہیں۔ تو میں نے کہا: میں نے اس کو دیکھا ہے اور میں مقتولوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اس کی لاش پر بھی کھڑا ہوا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو بلایا اور ان سے کہا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ تو جو شخص بھی آیا ان میں سے اکثر نے اسی طرح کی باتیں کی ہیں کہ میں نے اس کو فلاں قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے میں نے اس کو فلاں قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے، اس طرح کی گفتگو کے علاوہ اس کی پہچان کے متعلق کسی نے بھی کوئی خاطرخواہ بات نہیں کی۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا بولیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی لاش پر کھڑے تھے تو انہوں نے کیا کہا؟ جیسا کہ اہلِ عراق کا گمان ہے۔ میں نے کہا: میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ فرمایا ہے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم نے اس کے علاوہ بھی ان کا کوئی فرمان سنا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ثدیہ کا ذکر متعدد سندوں کے ہمراہ کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2689]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2690
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة الغِفاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن محمد بن قيس، قال: سمعت مالك بن الحارث يقول: شهدتُ عليًّا يوم النَّهْروان طلبَ المُخْدَجَ فلم يَقدِرْ عليه، فجَعَلَت جبينُه تَعرَقُ وأخذه الكَرْب، ثم إنه قَدَرَ عليه، فخَرّ ساجدًا، فقال: والله ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بذكر سجدة الشُّكر، وهو غريب صحيح في سجود الشكر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2658 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مالک بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نھروان کے دن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ ناقص بازو والے کو ڈھونڈ رہے تھے لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکے تو ان کی پیشانی پر پسینہ آنا شروع ہو گیا اور آپ شدید پریشان ہو گئے۔ پھر جب آپ کو اس کی لاش مل گئی تو سجدہ شکر ادا کیا اور بولے: خدا کی قسم، میں نے جھوٹ نہیں بولا، خدا کی قسم میرے ساتھ جھوٹ نہیں بولا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو سجدہ کے ذکر کے ہمراہ نقل نہیں کیا ہے۔ اور یہ حدیث سجدہ شکر کے حوالے سے غریب صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2690]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2691
أخبرنا مُكرَم بن أحمد بن مكرم القاضي، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا أبو عَتَّاب سهل بن حمّاد، حدثنا عبد الملك بن أبي نَضْرة، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ أتاه مال، فجعل يَضرِب بيده فيه فيُعطي يمينًا وشمالًا، وفيهم رجل مُقَلَّص الثياب، ذو سِيْماءَ، بين عَينَيه أثرُ السجود، فجعل رسولُ الله ﷺ يضرب يدَه يمينًا وشمالًا حتى نَفِد المالُ، فلما نَفِدَ المالُ ولَّى مُدبرًا، وقال: والله ما عدلتَ منذ اليومِ. قال: فجعل رسولُ الله ﷺ يُقلِّب كفّه، ويقول:"إذا لم أعدِلْ فمن ذا يَعدلُ بعدي؟ أَمَا إِنه سَتَمْرُق مارِقةٌ، يَمرُقون من الدِّين مُروق السهم من الرَّمِيّة، ثم لا يعُودون إليه حتى يَرجِعَ السهمُ على فُوقِه، يقرؤون القرآن لا يجاوز تَراقِيهَم، يُحسِنون القولَ ويُسيئون الفعلَ، فمن لقيَهم فليقاتلْهم، فمن قتلهم فله أفضلُ الأجر، ومن قتَلُوه فله أفضل الشهادة، هم شرُّ البَرّيّة، بَرِئ اللهُ منهم، تقتلهم أَولى الطائفتَين بالحقّ" (1) .
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) ، وعبد الملك بن أبي نَضْرة من أعزّ البصريين حديثًا، ولا أعلم أني عَلَوت له في حديث غير هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2659 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ (غنیمت کا) مال آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال اپنے دائیں بائیں (بیٹھے ہوئے لوگوں کو) دینا شروع کر دیا۔ ان میں ایک سمٹے ہوئے کپڑوں والا شخص بھی موجود تھا۔ اس کی پیشانی پر سجدوں کا اثر تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں بائیں مال بانٹتے رہے، حتیٰ کہ سارا مال ختم ہو گیا۔ جب مال ختم ہو گیا تو وہ شخص وہاں سے چلا گیا اور جاتے جاتے بولا! خدا کی قسم! آج تو نے عدل نہیں کیا۔ (راوی) فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلیوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے بولے: جب میں ہی عدل نہیں کروں گا تو میرے بعد اور کون عمل کرے گا۔ اور عنقریب کچھ لوگ خارجی ہو جائیں گے یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے، پھر یہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے جیسے تیر اپنے سوفار کی طرف لوٹ کر نہیں آتا۔ یہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، یہ گفتگو تو بہت اچھی کریں گے لیکن ان کے اعمال برے ہوں گے۔ جس کو یہ ملیں، اس کو چاہیے کہ وہ ان کو قتل کر دے۔ جو ان کو قتل کرے گا، اس کے لیے بہترین اجر ہے اور جو ان کے ہاتھوں قتل ہو گا وہ بہترین شہید ہے۔ یہ تمام مخلوق سے بدتر لوگ ہوں گے۔ اللہ ان سے بری ہے۔ ان کو دو جماعتوں میں سے وہ قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو اس انداز کے ساتھ نقل نہیں کیا ہے۔ اور عبدالملک بن ابی نضرہ بصرہ کے تمام محدثین سے زیادہ عزیزالحدیث ہیں۔ اور میرے علم میں نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور حدیث میں میری سند (اس جیسی) عالی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2691]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2692
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا الحارث بن أبي أسامة، أنَّ كثير بن هشام حدثهم، حدثنا جعفر بن بُرْقان، حدثنا ميمون بن مِهْران، عن أبي أُمامة، قال: شهدتُ صِفِّين، فكانوا لا يُجِيزون (3) على جَريح، ولا يقتلون مُولِّيًا، ولا يَسلُبون قَتيلًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد في هذا الباب. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2660 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جنگ صفین میں موجود تھا، وہ لوگ نہ تو کسی زخمی کو قتل کرتے تھے، نہ پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو قتل کرتے تھے اور نہ کسی مقتول کا سامان لوٹتے تھے۔ ٭٭ اس باب میں یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ درج ذیل صحیح حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2692]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2693
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا شَريك، عن السُّدِّي، عن يزيد بن ضُبَيعة العَبْسي، قال: نادى مُنادي عمارٍ يوم الجمَل، وقد ولَّى الناسُ: ألا لا يُذْأفُ على جَريح، ولا يُقتَل مُوَلِّي (2) ، ومن ألقى السلاحَ فهو آمِن، فشقَّ ذلك علينا (3) . وقد رُوي في هذا الباب حديث مسنَد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2661 - صحيح
سیدنا یزید بن ضبیعہ عبسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ جمل کے دن جب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے منادی نے یہ اعلان کیا: خبردار! کسی زخمی کو مت مارنا، اور پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو بھی نہیں مارنا اور جو ہتھیار ڈال دے، وہ امن والا ہے۔ ان کا یہ اعلان ہم پر بہت شاق گزرا۔ ٭٭ اس باب میں درج ذیل مسند حدیث بھی منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2693]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں