المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. حَضَانَةُ الْوَلَدِ لِلْمَرْأَةِ الْمُطَلَّقَةِ مَا لَمْ تَنْكِحْ
طلاق یافتہ عورت بچے کی حضانت کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ نکاح نہ کرے
حدیث نمبر: 2865
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن الأجلَح، عن الشعبي، عن عبد الله بن الخَليل، عن زيد بن أرقَمَ، قال: كنت جالسًا عند النبي ﷺ إذ جاءه رجلٌ من أهل اليمن، فقال: إنَّ ثلاثةً من أهل اليمن أتَوْا عليًّا يَختصِمُون إليه في ولد، وَقعُوا على امرأةٍ في طُهْر واحد، فقال للاثنين منهما: طِيبا بالولد لهذا، فغُلِبا (1) ، ثم قال للاثنين: طِيبا بالولد لهذا، فغُلِبا، ثم قال للاثنين: طِيبا بالولد لهذا، فغُلِبا. ثم قال: أنتم شركاءُ متشاكِسُون، إني مُقرِعٌ بينكم، فمن قَرَعَ فلهُ الولدُ وعليه لصاحبَيه ثُلُثا الدِّيَة، فأقرَعَ بينهم، فجعلَه لمن قَرَعَ. فضحك رسولُ الله ﷺ حتى بَدَتْ أضراسُه، أو قال: نواجذُه (2) . قد اتفق الشيخان على ترك الاحتجاج بالأجلح بن عبد الله الكِنْدي، وإنما نَقَما عليه حديثًا واحدًا لعبد الله بن بُريدة، وقد تابعه على ذلك الحديث ثلاثةٌ من الثِّقات، فهذا الحديث إذًا صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2829 - هذا الحديث إذا صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2829 - هذا الحديث إذا صحيح
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یمنی باشندہ آیا اور بولا: تین یمنی آدمیوں کے درمیان ایک بچے کے متعلق جھگڑا پڑ گیا تھا کیونکہ ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ ایک ہی طہر میں ہمبستری کی تھی۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ یہ میرا ہے۔ یہ لوگ اپنا جھگڑا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا: تم اپنی خوشی سے اس کے حق میں اس بچے سے دستبردار ہوتے ہو؟ انہوں نے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دو سے کہا: تم اس کے حق میں اس بچے سے دستبردار ہوتے ہو؟ انہوں نے بھی انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دو سے کہا: تم اس کے حق میں اس بچے سے دستبردار ہوتے ہو؟ انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب ایک دوسرے کے سخت مخالف ہو۔ میں تمہارے درمیان قرع اندازی کروں گا جس کے نام قرع نکل آیا، بچہ اسی کا ہو گا اور وہ اپنے دونوں ساتھیوں کو دو دو تہائی دیت ادا کرے گا۔ پھر انہوں نے ان کے درمیان قرع ڈالا تو جس کے نام قرع نکلا بچہ اس کو دے دیا (یہ بات سن کر) رسول اللہ اتنا ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اجلح بن عبداللہ الکندی کی روایات نقل کرنے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے عبداللہ بن بریدہ کی ایک روایت کی وجہ سے ان کو یہ سزا دی ہے حالانکہ تین ثقہ راویوں نے ان کی روایت کی اتباع کی ہے۔ چنانچہ ایسی صورت حال میں یہ حدیث صحیح ہو گی لیکن شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2865]
حدیث نمبر: 2866
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني أبو عَمرو الأوزاعي، حدثني عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو: أنَّ امرأة قالت: يا رسول الله، ابني هذا كان بطني له وِعاءً، وثَدْيِي له سِقاءً، وحَجْري له حِواءً، وإِنَّ أباه طلَّقني وأراد أن يَنزِعَه مني، فقال لها رسول الله ﷺ:"أنتِ أحقُّ به ما لم تَنْكِحي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2830 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2830 - صحيح
عمر بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ بیٹا ہے۔ میرا پیٹ اس کے لیے برتن رہا، میرے پستان اس کی سیرابی کا باعث رہے اور میری گود اس کے لیے حوض رہی، اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اب اس کو مجھ سے چھین رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: جب تک تو نکاح نہیں کرے گی، تو ہی اس (کو رکھنے) کی زیادہ حقدار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2866]