🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. حِكَايَةُ وَفَاةِ ابْنِ عَوْفٍ وَرُجُوعِ رُوحِهِ بَعْدَمَا نُزِعَتْ
سیدنا ابنِ عوف کی وفات اور روح کے نکلنے کے بعد واپس آنے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3103
حدَّثَنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن حُميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن أمِّه أم كُلثوم بنت عُقْبة - وكانت من المهاجرات الأُوَل - في قوله ﷿: ﴿اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾ [البقرة: 153] قالت: غُشِيَ على عبد الرحمن بن عوف غَشْيةً، فظنُّوا أنه فاضَ، حتى إنه أفاض نفسَه فيها، فخرجت امرأتُه أمُّ كُلثوم إلى المسجد تستعين بما أُمِرَت به من الصبر والصلاة فلما أفاق قال: أغُشِيَ عليَّ آنفًا؟ قالوا: نعم، قال: صَدَقتُم، إنه جاءني مَلَكانِ فقالا: انطلِقْ نُحاكِمُك إلى العزيز الأمين، فقال ملكٌ آخر: ارجِعاه، فإنَّ هذا ممّن كَتَبتم له السعادةَ وهم في بطون أمَّهاتهم، ويستمتعُ به بَنُوه ما شاء الله؛ فعاش بعد ذلك شهرًا ثم مات (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3066 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سب سے پہلے ہجرت کرنے والی خواتین میں شمار ہوتی ہیں آپ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاۃِ (البقرۃ: 45) اور صبر اور نماز سے مدد چاہو ۔ کے حوالے سے فرماتی ہیں: ایک دفعہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو غشی آ گئی، لوگ یہ سمجھے کہ ان کا سانس ڈوب گیا ہے چنانچہ ان کی بیوی ام کلثوم رضی اللہ عنہا مسجد میں حکمِ الٰہی کے مطابق صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنے گئیں، جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوا، تو وہ بولے: کیا ابھی مجھ پر غشی طاری ہوئی تھی؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ تو عبدالرحمن بولے: تم لوگ سچ کہہ رہے ہو ابھی میرے پاس دو فرشتے آئے تھے، انہوں نے مجھے کہا: چل ہم تیرا فیصلہ عزیز اور امین (یعنی اللہ تعالیٰ) کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ تو ایک فرشتے نے ان سے کہا: اس کو واپس لے جاؤ کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو ماں کے پیٹ میں ہی نیک بخت لکھ دیا گیا تھا اور اس کی اولاد اس سے فائدہ حاصل کرے گی جس قدر اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ اس کے بعد پورا ایک مہینہ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ زندہ رہے پھر ان کا انتقال ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3103]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3104
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد، حدثنا جدِّي، حدثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشَيم، أخبرنا خالد بن صفوان، عن زيد بن علي بن الحسين، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: جاءه نَعْيُ بعضِ أهله، وهو في سفرٍ، فصلَّى ركعتين ثم قال: فَعَلْنا ما أَمر اللهُ: ﴿اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3067 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک مرتبہ دوران سفر ان کو کسی رشتہ دار کی وفات کی خبر ملی تو انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی پھر بولے: ہم نے وہی کیا ہے جس کا ہمارے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تم نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3104]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3105
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا مسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان ابن أبي شَيْبة، حدثنا جَرير، عن منصور، عن مجاهد، عن سعيد بن المسيّب، عن عمر قال: نِعمَ العِدْلانِ، ونعمَ العِلاوةُ: ﴿الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ﴾ نعمَ العِدْلانِ ﴿وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾ نعمَ العِلاوةُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولا أعلمُ خِلافًا بين أئمَّتنا أنَّ سعيد بن المسيّب أَدرك أيامَ عمر ﵁، وإنما اختلفوا في سماعِه منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3068 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دونوں گواہ اچھے ہیں اور علاوۃ (سریا گردن کا اوپر کا حصہ) اچھی ہے۔ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ (البقرۃ: 156) کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ۔ (اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ) (البقرۃ: 157) یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درودیں ہیں اور رحمتیں ۔ دونوں گواہ اچھے ہیں۔ (تفسیر قرطبی میں ہے کہ عدلان سے یہاں پر مراد صلاۃ اور رحمت ہے۔ شفیق)، (وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ) (البقرۃ: 157) اور یہی لوگ راہ پر ہیں ۔ اور یہ الْعِلَاوَۃ اچھی ہے۔ (تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہاں پر اس سے مراد ہدایت حاصل کرنا ہے۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ ہمارے اَئمہ کے درمیان اس بات میں اختلاف ہو کہ سیدنا سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور پایا ہے۔ تاہم سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کے متعلق اختلاف موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3105]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں